لگ بھگ سو سال پہلے جب تُرکی اپنی بقاء کی آخری اور فیصلہ کن جنگ لڑ رہا تھا، انہی دنوں میدان جنگ میں بظاہر ایک چھوٹا سا اور حسب معمول واقعہ رونما ہوا لیکن آگے چل کر اس واقعے کے دوران ایک سپاہی کا ادا کیا گیا جملہ پوری ترک قوم کا اجتماعی بیانیہ بنا
برستی ہوئی گولیوں اور دشمن فوجیوں کی کثیر تعداد کے باعث اچانک ترک فوج کا ایک میجر اپنے دو سپاہیوں کے ساتھ دشمن کے نرغے میں آ گیا میجر اور ایک سپاہی نے بھاگ کر مورچے میں پناہ لی جبکہ ان کا ایک ساتھی (سپاہی) فائرنگ کی زد میں آگیا اور گر پڑا ساتھی سپاہی نے دیکھا تو اپنے میجر سے اجازت مانگی کہ میں اپنے ساتھی کو اٹھا کر مورچے میں لے آؤں مگر میجر نے سختی کے ساتھ منع کیا کہ مورچے سے نکلنا ہر گز نہیں کیونکہ باھر شدید گولہ باری ہو رہی ہے تھوڑی دیر بعد سپاھی نے پھر اجازت مانگی لیکن اپنے افسر نے پھر صورتحال کے پیش نظر اسے ڈانٹ کر منع کیا تھوڑی دیر بعد سپاھی نے اجازت مانگے بغیر مورچے سے چھلانگ لگا دی اور گولیوں کی بوچھاڑ میں دوڑ کر اپنے ساتھی کو اُٹھا یا اور مورچے میں لے آیا لیکن وہ مر چکا تھا۔

میجر نے گمبھیر اُداسی کے ساتھ اپنے ساتھی سپاھی کی طرف دیکھ کر پوچھا کہ جب تم اس کے پاس پہنچے تو یہ زندہ تھا۔ سپاہی نے کہا ہاں سر یہ زندہ تھا۔ میجر نے پھر پوچھا۔ اس نے کچھ کہا تو نہیں؟ سپاہی نے جواب دیا کہ کیوں نہیں کہا میجر نے اپنے سپاھی کو کندھوں سے پکڑ کر حیرت اور تجسس بھرے لہجے میں پوچھا جلدی بتاؤ اس نے کیا کہا سپاھی نے اپنے افسر کی طرف دیکھ کر ایک غمگین لیکن فاخرانہ لہجے میں کہا کہ سرجب میں اسے اُٹھانے کے لئے اس کے قریب گیا، تو اس نے لمحہ بھر کو آنکھیں کھولیں اور میری طرف دیکھ کر بجھتی ہوئی آواز اور آخری ہچکی کے ساتھ کہا کہ ”مجھے معلوم تھا تم آؤ گے“
اور پھر یہ جملہ ترک قوم کی اجتماعی نفسیات اور رویہ بنتا گیا۔

حتٰی کہ ان کی زندگی میں پندرہ جولائی دو ہزار سولہ کا دن آگیا
لیکن سب پہلے ترک قوم کے مقبول لیڈر اور صدر طیب اردوان کے بارے میں بات کرتے ہیں
وہ استنبول کے قریب سمپا سانامی قلعے میں کوسٹ گارڈ کے ایک غریب ملازم کے ہاں پیدا ہوئے مقامی سکول امام حاتف (جس میں مذہبی تعلیم بھی دی جاتی تھی) میں داخل ہوئے بعد میں وہ بزنس ایڈمنسٹریشن پڑھتے اور فٹ بال کھیلتے رہے انہی دنوں نیشنل ٹرکش سٹوڈنٹس یونین میں شامل ہوئے جہاں اس نے آمریتوں میں جکڑے ترک قوم اور آمرانہ قوتوں کا گہرا مشاھدہ کیا اس تمام پسِ منظر نے مل کر اردوان کی شخصیت میں قربانی، مینجمنٹ، تحرک اور ڈٹ جانے کا رنگ بھرا
ستائیس مارچ اُنّیس سو چورانوے کو وہ استنبول کے میئر بنے تو یہ شہر غلاظت، ماحولیاتی آلودگی، پانی کی کمی اور ٹریفک مسائل کا ایک نوحہ بنا ہوا تھا۔

اردوان نے سینکڑوں کلومیٹر پائپ لائن پچاس سے زائد فلائی اوورز اور گندگی کے لئے ری سائیکل پلانٹ لگا کر استنبول کے مسائل کو اُکھاڑ کر رکھ دیا نئے روڈز اور انڈر پاسز بنائے اور جب وہ مئیر کی کرسی چھوڑ کر جا رہے تھے تواُنھوں نے استنبول پر چار بلین ڈالرز سے زائد رقم لگا کر اسے دنیا کا خوب صورت ترین شہر بنا دیا تھا۔
اس لئے جب اردوان نے دو ہزار ایک میں جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی بنائی تو ترک عوام نے اس کی سابقہ کارکردگی کی بدولت اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اسی لئے ایک سال کے اندر اندر انہوں نے دو تہائی اکثریت سے الیکشن جیتا وزیرِ اعظم بننے کے فوری بعد اس نے اپنے ساتھی اور مشہور ماہر اقتصادیات علی با با کان کو فنانس منسٹر بنایا۔

جس نے نئی قانون سازی کی اور فارن انویسٹرز کو ترکی کی جانب کھینچا دو ہزار دو سے دو ہزار بارہ تک (اردوان دور) جی ڈی پی میں % 33 اضافہ ہوا زر مبادلہ کے ذخائر چھ ملین سے اٹھاون بلین ڈالرز ہوگئے۔ یونیورسٹیوں کی تعداد اٹھانوے سے ایک سو چھیاسی ہوگئی۔ آئی ایم ایف کا قرضہ 23.5 سے کم ہوکر 0.9 پر آگیا۔ سڑکوں کی لمبائی چھ ہزار سے ساڑھے تیرہ ہزار کلومیٹر ہوگئی۔ دھتکارے ہوئے کردوں سے کامیاب مذاکرات کیے اور ان پر پابندی ختم کر دی ترکی کی بے وقعت کرنسی میں جان پڑ گئی اور وہ عالمی مارکیٹ میں جگمگانے لگا۔
اور پھر پندرہ جولائی دو ہزار سولہ کی تاریخی رات ترک سرزمیں پر اُترتی ہے۔ جب شام ڈھلے سرکش فوج کے ٹینک حسب عادت انقرہ کی سڑکوں پر نمودار ہو کر ایوان صدر کا رخ کرتے ہیں کہ اس دوران ایک پرائیویٹ ٹیلی وژن کے نمائندے کا رابطہ صدر اردوان سے ہوجاتا ہے جو ساحلی شہر مار ماریس کے ایک ہوٹل میں موجود تھے۔ وہ اپنے آئی فون سے ویڈیو کال کے ذریعے عوام سے مختصر خطاب میں کہتے ہیں کہ ریاست میں عوام سب سے طاقتور ہیں اس لئے جمہوریت کی خاطر گھروں سے باہر نکلو غاصب فوج کا راستہ روک لو اور دلیر مزاحمت شروع کردو۔

اس خطاب کو ٹیلیویژن نیٹ ورک فورا لائیو نشر کر دیتا ہے اردوان کے خطاب کے ساتھ ہی ترک عوام سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور جوانمردی کے ساتھ فوجی ٹینکوں کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں تھوڑی دیر بعد ٹینکوں پر قبضہ کرتے اور فوجیوں کو گرفتار کرنا بھی شروع کر دیتے ہیں۔ یہ سلسلہ فوری طور پر استنبول سمیت ترکی کے تمام شہروں اور قصبوں تک پھیل جاتا ہے اور چند گھنٹے کے اندر اندرپانسہ پلٹ جاتا ہے۔ اور پھر جب ترک عوام کا لیڈر طیب اردوان مار مریس شہر سے واپس آکر اور اپنے ہیلی کاپٹر سے اُتر کر عوام کے درمیان آجاتے ہیں تو گویا پورا ترکی اُمّڈ آتا ہے تا حد نگاہ سر ہی سر ہیں طیب اردوان جھاز کی سیڑھیوں سے ایک اعتماد کے ساتھ اتر کر لاکھوں دلیر اور پر جوش عوام کے درمیان آ کر ہاتھ ہلانے لگتا ہے تو اس کے چہرے سے اپنے عوام کےلئے ٹپکتا ہوا اعتماد اور تشکر اس بات کا غماز ہوتا ہے کہ مجھے معلوم تھا تم آؤ گے۔

محترم قارئین میں نے تو صرف ترکی کی کہانی بیان کی کسی اور منظر نامے سے اس کا ملاپ آپ کا اپنا صوابدید ھے۔

+ posts

Hammad Hassan has been in the journalism field for well over twenty years, during which he has written for both national and internationally-published mediums. He is highly regarded for his distinctive style of analysis. A pro-democratic and anti-authoritarian, Hassan's new book "قلم بولتا رھا" is out now.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here