Interior Minister Mohsin Naqvi and his Qatari counterpart agreed to deepen security cooperation in Doha this week, as Pakistan and Qatar push behind the scenes to salvage the Islamabad MoU and bring Washington and Tehran back to the table.
Kuwait's Amir has formally ratified the defence cooperation agreement with Pakistan by decree, published in the official gazette. The agreement covers training, logistics, military intelligence, defence industries and a joint military committee.
Security forces launched Operation Al Azm in Mastung's Tehsil Khad Kucha, killing 15 terrorists and wounding 12, according to security sources. Eight suspects were detained, one hideout destroyed and a large cache of weapons seized. No casualties were reported among security forces.
Prime Minister Shehbaz Sharif has condemned Houthi attacks on Saudi oil tankers and reaffirmed Pakistan's full support for the Kingdom during a call with Crown Prince Mohammed bin Salman. Both leaders pledged closer cooperation to protect regional stability and vital maritime trade routes.
وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ۔ بحیرۂ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی حملوں کی شدید مذمت، پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور برادر عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔
Hammad Hassan has been a columnist for over twenty years, and currently writes for Jang.
لگ بھگ سو سال پہلے جب تُرکی اپنی بقاء کی آخری اور فیصلہ کن جنگ لڑ رہا تھا، انہی دنوں میدان جنگ میں بظاہر ایک چھوٹا سا اور حسب معمول واقعہ رونما ہوا لیکن آگے چل کر اس واقعے کے دوران ایک سپاہی کا ادا کیا گیا جملہ پوری ترک قوم کا اجتماعی بیانیہ بنا برستی ہوئی گولیوں اور دشمن فوجیوں کی کثیر تعداد کے باعث اچانک ترک فوج کا ایک میجر اپنے دو سپاہیوں کے ساتھ دشمن کے نرغے میں آ گیا میجر اور ایک سپاہی نے بھاگ کر مورچے میں پناہ لی جبکہ ان کا ایک ساتھی (سپاہی) فائرنگ کی زد میں آگیا اور گر پڑا ساتھی سپاہی نے دیکھا تو اپنے میجر سے اجازت مانگی کہ میں اپنے ساتھی کو اٹھا کر مورچے میں لے آؤں مگر میجر نے سختی کے ساتھ منع کیا کہ مورچے سے نکلنا ہر گز نہیں کیونکہ باھر شدید گولہ باری ہو رہی ہے تھوڑی دیر بعد سپاھی نے پھر اجازت مانگی لیکن اپنے افسر نے پھر صورتحال کے پیش نظر اسے ڈانٹ کر منع کیا تھوڑی دیر بعد سپاھی نے اجازت مانگے بغیر مورچے سے چھلانگ لگا دی اور گولیوں کی بوچھاڑ میں دوڑ کر اپنے ساتھی کو اُٹھا یا اور مورچے میں لے آیا لیکن وہ مر چکا تھا۔
میجر نے گمبھیر اُداسی کے ساتھ اپنے ساتھی سپاھی کی طرف دیکھ کر پوچھا کہ جب تم اس کے پاس پہنچے تو یہ زندہ تھا۔ سپاہی نے کہا ہاں سر یہ زندہ تھا۔ میجر نے پھر پوچھا۔ اس نے کچھ کہا تو نہیں؟ سپاہی نے جواب دیا کہ کیوں نہیں کہا میجر نے اپنے سپاھی کو کندھوں سے پکڑ کر حیرت اور تجسس بھرے لہجے میں پوچھا جلدی بتاؤ اس نے کیا کہا سپاھی نے اپنے افسر کی طرف دیکھ کر ایک غمگین لیکن فاخرانہ لہجے میں کہا کہ سرجب میں اسے اُٹھانے کے لئے اس کے قریب گیا، تو اس نے لمحہ بھر کو آنکھیں کھولیں اور میری طرف دیکھ کر بجھتی ہوئی آواز اور آخری ہچکی کے ساتھ کہا کہ ”مجھے معلوم تھا تم آؤ گے“ اور پھر یہ جملہ ترک قوم کی اجتماعی نفسیات اور رویہ بنتا گیا۔
حتٰی کہ ان کی زندگی میں پندرہ جولائی دو ہزار سولہ کا دن آگیا لیکن سب پہلے ترک قوم کے مقبول لیڈر اور صدر طیب اردوان کے بارے میں بات کرتے ہیں وہ استنبول کے قریب سمپا سانامی قلعے میں کوسٹ گارڈ کے ایک غریب ملازم کے ہاں پیدا ہوئے مقامی سکول امام حاتف (جس میں مذہبی تعلیم بھی دی جاتی تھی) میں داخل ہوئے بعد میں وہ بزنس ایڈمنسٹریشن پڑھتے اور فٹ بال کھیلتے رہے انہی دنوں نیشنل ٹرکش سٹوڈنٹس یونین میں شامل ہوئے جہاں اس نے آمریتوں میں جکڑے ترک قوم اور آمرانہ قوتوں کا گہرا مشاھدہ کیا اس تمام پسِ منظر نے مل کر اردوان کی شخصیت میں قربانی، مینجمنٹ، تحرک اور ڈٹ جانے کا رنگ بھرا ستائیس مارچ اُنّیس سو چورانوے کو وہ استنبول کے میئر بنے تو یہ شہر غلاظت، ماحولیاتی آلودگی، پانی کی کمی اور ٹریفک مسائل کا ایک نوحہ بنا ہوا تھا۔
اردوان نے سینکڑوں کلومیٹر پائپ لائن پچاس سے زائد فلائی اوورز اور گندگی کے لئے ری سائیکل پلانٹ لگا کر استنبول کے مسائل کو اُکھاڑ کر رکھ دیا نئے روڈز اور انڈر پاسز بنائے اور جب وہ مئیر کی کرسی چھوڑ کر جا رہے تھے تواُنھوں نے استنبول پر چار بلین ڈالرز سے زائد رقم لگا کر اسے دنیا کا خوب صورت ترین شہر بنا دیا تھا۔ اس لئے جب اردوان نے دو ہزار ایک میں جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی بنائی تو ترک عوام نے اس کی سابقہ کارکردگی کی بدولت اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اسی لئے ایک سال کے اندر اندر انہوں نے دو تہائی اکثریت سے الیکشن جیتا وزیرِ اعظم بننے کے فوری بعد اس نے اپنے ساتھی اور مشہور ماہر اقتصادیات علی با با کان کو فنانس منسٹر بنایا۔
جس نے نئی قانون سازی کی اور فارن انویسٹرز کو ترکی کی جانب کھینچا دو ہزار دو سے دو ہزار بارہ تک (اردوان دور) جی ڈی پی میں % 33 اضافہ ہوا زر مبادلہ کے ذخائر چھ ملین سے اٹھاون بلین ڈالرز ہوگئے۔ یونیورسٹیوں کی تعداد اٹھانوے سے ایک سو چھیاسی ہوگئی۔ آئی ایم ایف کا قرضہ 23.5 سے کم ہوکر 0.9 پر آگیا۔ سڑکوں کی لمبائی چھ ہزار سے ساڑھے تیرہ ہزار کلومیٹر ہوگئی۔ دھتکارے ہوئے کردوں سے کامیاب مذاکرات کیے اور ان پر پابندی ختم کر دی ترکی کی بے وقعت کرنسی میں جان پڑ گئی اور وہ عالمی مارکیٹ میں جگمگانے لگا۔ اور پھر پندرہ جولائی دو ہزار سولہ کی تاریخی رات ترک سرزمیں پر اُترتی ہے۔ جب شام ڈھلے سرکش فوج کے ٹینک حسب عادت انقرہ کی سڑکوں پر نمودار ہو کر ایوان صدر کا رخ کرتے ہیں کہ اس دوران ایک پرائیویٹ ٹیلی وژن کے نمائندے کا رابطہ صدر اردوان سے ہوجاتا ہے جو ساحلی شہر مار ماریس کے ایک ہوٹل میں موجود تھے۔ وہ اپنے آئی فون سے ویڈیو کال کے ذریعے عوام سے مختصر خطاب میں کہتے ہیں کہ ریاست میں عوام سب سے طاقتور ہیں اس لئے جمہوریت کی خاطر گھروں سے باہر نکلو غاصب فوج کا راستہ روک لو اور دلیر مزاحمت شروع کردو۔
اس خطاب کو ٹیلیویژن نیٹ ورک فورا لائیو نشر کر دیتا ہے اردوان کے خطاب کے ساتھ ہی ترک عوام سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور جوانمردی کے ساتھ فوجی ٹینکوں کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں تھوڑی دیر بعد ٹینکوں پر قبضہ کرتے اور فوجیوں کو گرفتار کرنا بھی شروع کر دیتے ہیں۔ یہ سلسلہ فوری طور پر استنبول سمیت ترکی کے تمام شہروں اور قصبوں تک پھیل جاتا ہے اور چند گھنٹے کے اندر اندرپانسہ پلٹ جاتا ہے۔ اور پھر جب ترک عوام کا لیڈر طیب اردوان مار مریس شہر سے واپس آکر اور اپنے ہیلی کاپٹر سے اُتر کر عوام کے درمیان آجاتے ہیں تو گویا پورا ترکی اُمّڈ آتا ہے تا حد نگاہ سر ہی سر ہیں طیب اردوان جھاز کی سیڑھیوں سے ایک اعتماد کے ساتھ اتر کر لاکھوں دلیر اور پر جوش عوام کے درمیان آ کر ہاتھ ہلانے لگتا ہے تو اس کے چہرے سے اپنے عوام کےلئے ٹپکتا ہوا اعتماد اور تشکر اس بات کا غماز ہوتا ہے کہ مجھے معلوم تھا تم آؤ گے۔
محترم قارئین میں نے تو صرف ترکی کی کہانی بیان کی کسی اور منظر نامے سے اس کا ملاپ آپ کا اپنا صوابدید ھے۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔