شہباز شریف ایک اچھے ایڈمنسٹریٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھی شخصیت بھی ہیں جن کو حالیہ دنوں میں برطانوی عدالتوں سے ایک بعد ایک فتح نصیب ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے یہ حکومت اور نیب مشترکہ طور پر براڈ شیٹ کیس میں بھی شکست کھا چکے ہیں جس کا فیصلہ نواز شریف اور اسکی فیملی کے حق میں آیا تھا اور اس بات کی تصدیق سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز شریف اپنے ویڈیو پیغام کے ذریعے کر چکے ہیں۔ نیب نے براڈ شیٹ کا مقدمہ ہارنے کے بعد حسین نواز شریف کے وکیل کی فیس بھی جرمانے کے طور پر ادا کی ہے اور پاکستانی حکومت ہر ماہ لاکھوں ڈالرز براڈ شیٹ کے سربراہ کو بطور جرمانہ ادا کر رہی ہے۔

عمران خان نے روز اوّل سے ہی شریف خاندان کے خلاف کرپشن کا محاذ کھولا ہوا تھا اور لوگوں کو اپنے بیانات کے ذریعے قائل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے نظر آئے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انکا احتساب کا بیانیہ اپنی موت آپ مر گیا۔ عمران خان اور ان کے مشیر احتساب شہزاد اکبر نے چند سال پہلے نجی ٹی وی چینل کے ذریعے ایک خبر بریک کروائی کہ شہباز شریف نے ملتان میٹرو بس منصوبے میں 1 کروڑ 75 لاکھ ڈالرز کی کرپشن کی ہے اور یہ پیسہ چوری کرکے پاکستان سے چائنا بھجوایا گیا۔ شہزاد اکبر نے اس کے ساتھ ہی چائنا کا دورہ بھی کیا اور چائنیز حکام کو شہباز شریف کے خلاف قائل کرنے کی کوشش بھی کی لیکن چند ہی دنوں کے بعد چائنا کی حکومت نے شہزاد اکبر اور نجی ٹی وی کی خبر کو جھوٹا قرار دے دیا اور شہباز شریف کو اس الزام میں بری الزمہ قرار دے دیا۔ اس کے بعد عمران خان اور شہزاد اکبر نے برطانوی اخبار میں شہباز شریف کے خلاف ایک سٹوری پبلش کروانے کا فیصلہ کیا جو بطور ثبوت شریف فیملی کے خلاف لندن کی عدالت میں پیش کی جاسکے اور اس سٹوری کے لیے حکومت نے “ڈیلی میل” کا انتخاب کیا اور شہزاد اکبر نے ڈیلی میل کے صحافی کی عمران خان سے بنی گالا میں ملاقات بھی کروائی اور اس کے بعد جون 2019 میں ڈیلی میل نے اپنی سٹوری میں شہباز شریف کے اوپر الزام عائد کیا کہ شہباز شریف نے زلزلہ متاثرین کی امداد کے نام پر برطانوی حکومت سے 15 لاکھ پاؤنڈز وصول کیے اور اس میں سے 10 لاکھ پاؤنڈز اپنے داماد علی عمران کو دیے اور اس کے بعد یہ رقم برمنگھم بھجوائی گئی، جسے بعد میں شریف خاندان کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کیا گیا۔ اس سٹوری کے بعد برطانوی ادارہ برائے امداد نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈیلی میل نے اپنی سٹوری میں تسلی بخش شواہد پیش نہیں کیے اور برطانوی ادارہ صرف اس وقت پیسے ادا کرتا ہے جب تعمیراتی کام مکمل اور آڈٹ ہو جائے۔ اس وضاحتی بیان کے بعد شہباز شریف نے ڈیلی میل کے خلاف لندن کی عدالت میں ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا اور جب اس کیس کی پہلی سماعت ہوئی تو ڈیلی میل ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا اور آنے والے دنوں میں یہ بھی خدشہ ہے کہ اس کیس کا فیصلہ بھی حکومت پر بجلی بن کر گرے گا۔

اس کے بعد نیب، ایف آئی اے، ایسٹ ریکوری یونٹ اور شہزاد اکبر نے ایک دفعہ پھر شہباز شریف کے خلاف محاذ کھولنے کا فیصلہ کیا۔ ایسٹ ریکوری یونٹ اور نیب نے برطانوی ایجنسی کو درخواست دی کہ سلمان شہباز اور شہباز شریف نے پاکستانی قوم کے اربوں روپے چوری کرکے برطانیہ میں منتقل کیے ہیں لہذا انکے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات کی جانچ پڑتال کی جائے اور پاکستان کا چوری پیسہ واپس بھیجا جائے۔ برطانوی ایجنسی نے درخواست پر عمل درآمد کرتے ہوئے برطانوی مجسٹریٹ کی عدالت میں سلمان شہباز اور شہباز شریف کے اکاؤنٹس منجمند کرنے کی درخواست کی جس کو عدالت نے منظور کرتے ہوئے انکے اکاؤنٹس منجمند کر دیے۔ عمومی طور پر برطانوی ایجنسی کسی بھی کیس کی جانچ پڑتال 6 سال کے دورانیے تک کر سکتی ہے لیکن اس کیس میں انہوں نے 20 ماہ کے دوران 20 سال کی تفصیلات کو جانچا۔ اس دوران شہزاد اکبر، ڈی جی نیب لاہور، ایف آئی اے حکام علیحدہ علیحدہ برطانوی ایجنسی کے آفسران سے ملاقاتیں کرتے رہے اور ان کے خلاف خط اور ثبوت بھی مہیا کرتے رہے لیکن جب برطانوی ایجنسی کو شہباز شریف اور سلمان شہباز کے دبئی، پاکستان اور برطانیہ کے بینک اکاؤنٹس میں منی لانڈرنگ کے ثبوت نہیں ملے تو انہوں نے اس کیس کی مزید تفتیش کرنے سے انکار کر دیا اور برطانوی عدالت سے منجمند کیے گئے اکاؤنٹس کو دوبارہ بحال کرنے کی درخواست کی گئی جس کو منظور کرتے ہوئے برطانوی عدالت نے منجمند کیے گئے بینک اکاؤنٹس کو دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ جاری کیا۔

یہ کیس پاکستان کی سیاست کا اہم ترین کیس تھا اور اگر اس کیس میں شریف خاندان کی کرپشن ثابت ہو جاتی تو انکو برطانوی عدالت کے علاوہ پاکستانی عدالتوں میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا لیکن وہ اس کیس کو کامیابی کے ساتھ منطقی انجام تک پہنچاتے ہوئے نظر آئے اور اسی فیصلے نے پاکستانی سیاست میں ایک نئی روح پھونک دی ہے جس سے پاکستان کے احتساب کے اداروں پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے اور عالمی اداروں میں انکے خلاف فیصلے آنا پاکستانی قوم کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے۔ میں ذاتی طور پر اس کیس میں کامیابی حاصل کرنے پر مسلم لیگ ن کے کارکنوں اور شہباز شریف کو مبارک باد پیش کیے بغیر نہیں رہ سکتا اور ساتھ ہی پاکستانی عدالتوں کا بھی امتحان شروع ہو چکا ہے کہ وہ بھی برطانوی عدالتوں کی طرح کسی پریشر میں آئے بغیر انصاف پر مبنی فیصلے جاری کریں تاکہ پاکستانی قوم کا عدالتوں پر دوبارہ سے اعتماد بحال ہو۔

!پاکستان زندہ باد

The contributor, Mian Mujeeb-ur-Rehman, is a chemical engineer who doubles as a columnist, having conducted research and crafted blogs for the past several years as a personality for various newspapers and websites throughout Pakistan.


The views expressed by contributors are their own and are not those of The Thursday Times.

+ posts

Want to contribute to The Thursday Times? Send your article in! Email views@thursdaytimes.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here