Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
An official KP government letter has contradicted claims that the Tirah Valley evacuation was the result of a military operation, revealing it was a voluntary civilian-led decision agreed through jirgas and prompting questions over the handling of Rs 4 billion in relief funds.
Pakistan has ruled out any move against Palestinian interests, rejected participation in any mission to disarm Hamas, and clarified that no decision has yet been taken on joining an international stabilisation force, according to a high-level security briefing.
اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ سیاست دانوں کے فیصلے ایوانوں میں نہیں آڈیو / وڈیو لیکس کے ذریعے ہوں گے۔ انصاف اب عدالتوں میں نہیں خفیہ ریکارڈنگز کے ذریعے ملے گا۔ حکومتیں اب ووٹ سے نہیں وڈیوز کے تعاون سے قائم رہیں گے۔
امریکہ میں مقیم معروف صحافی احمد نورانی کے ادارے فیکٹ فوکس کی جانب سے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو لیکس نے ملک بھر میں ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ حیرت اس بات پر ہے کہ یہ ہائبرڈ نظام کی بوسیدہ دیوار بس چند سیکنڈ کی ایک آڈیو کی مار تھی۔ انصاف کی قلعی چند سیکنڈ کی آڈیو میں کھل کر سامنے آ گئی۔ اب جو یہ نظام ہے یہ صرف ڈھٹائی کی چھتری تلے قائم ہے۔ اب کوئی قانونی جواز باقی نہیں۔ اب حکومت اور لانے والے بے نقاب ہو چکے ہیں۔ وہ پردہ جو اس مصنوعی نظام کے چہرے سے رفتہ رفتہ سرک رہا تھا اچانک اس نظام کو مکمل طور عریاں کر گیا ہے۔ ہر روز اس بات کے ثبوت آ رہے ہیں کہ عمران خان کو لانے کےلیئے نواز شریف اور مریم نواز کو عتاب کانشانہ بنایا گیا۔ ہر روز اس بات پر عوام کو یقین آتا جا رہا ہے کہ دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن دھاندلی زدہ تھے۔ ہر روز اس سازش سے پردہ اٹھتا جا رہا ہے جس کے ذریعے عوام کے ووٹ کو لوٹا گیا۔ پارلیمان کی توہین کی گئی۔ نظام عدل کی تضحیک کی گئی۔ انتقام کوانصاف کے لبادے میں پیش کیا گیا۔ اب بھی کوئی ان حقائق سے انکار کرتا ہے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔ اب ملک کا بچہ بچہ حقیقت جان گیا ہے۔ دو ہزار اٹھارہ میں کیا ہوا؟ کیوں ہوا؟ کیسے ہوا؟ کس کے لیئے ہوا ؟
نواز شریف اور مریم نواز نے ایک طویل قانونی جنگ لڑی ہے۔ درجنوں پیشیاں بھگتیں۔ بے شمار بار خود کو انصاف دلانے کی خاطر عدالتوں میں پیش ہوئے۔ بے تحاشا بے بنیاد اور بلا جواز مقدمات کا سامنا کیا۔ مسلم لیگ ن کے تمام ہی رہنما اس عتاب کا شکار رہے۔ کسی پر ہیروئن کا مقدمہ ڈال دیا ، کسی پر ترقیاتی پراجیکٹ لگانے کا الزام ثابت ہوا اور کوئی سچ بولنے کا مجرم ہوا۔ اس تمام عرصے میں لوگوں کی ایک مخصوص تعداد اس سارے عمل کو انصاف کہتی رہی۔ بے گناہوں کو مجرم قرار دیتی رہی۔ لیکن ایک چند سیکنڈ کی آڈیو کی وجہ سے اب سب ثبوت مل گئے ہیں۔ اور جو باقی ہیں انکی بھی آڈیو / وڈیو لیکس چند دنوں میں سامنے آ جائے گی۔
یہ اندیشہ دلوں کو سہمائے ہوئے ہے کہ چند دنوں کے بعد کچھ اور ناقابل تردید ثبوت آئیں گے تو اس نظام کے چلنے کا کوئی جواز نہیں رہ گیا۔ اب ارباب بست و کشاد کو فیصلہ کرنا پڑے گا۔ عوامی سطح پر ہزیمت سے بچنا پڑے گا۔ اپنی عزت اور وقار کو محفوظ رکھنے کا واحد طریقہ اس وقت یہی ہے کہ جمہوریت کی طرف رجوع کیا جائے۔ بند کمروں میں عوام کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے بجائے مجموعی عوامی شعور پر اعتماد کیا جائے۔ عوام کی رائے لی جائے۔ بائیس کروڑ لوگوں سے مشورہ کیا جائے۔
نواز شریف اور مریم نواز کے حق میں اب تک پانچ گواہیاں آچکی ہیں۔ یہ سب ناقابل تردید ثبوت تھے۔ ان سے ثابت ہوا ہے کہ وہ مجرم نہیں مظلوم ہیں۔ ان کے ساتھ انصاف نہی ہوا انکے خلاف ایک بھیانک سازش ہوئی ہے۔ ان تمام تر ثبوتوں کے باوجود بھی آج نواز شریف کے سیاست میں حصہ لینے پر پابندی ہے۔ یہ پارٹی کی قیادت نہیں کر سکتے۔ کوئی سیاسی عہدہ اہنے پاس نہیں رکھ سکتے۔ ان تمام تر ثبوتوں کے باوجود بھی اگر یہ پابندی قائم رہے گی تو یہ اس نظام پر ایک بہت بڑا تازیانہ رہے گا۔ اس سے پہلے کہ ہم حکومت کی رخصت کے وقت کا تعین کریں۔ ان ہاوس چینج کی بات کریں۔ آزادانہ اور منصفانہ نئے الیکشن کی بات کریں۔ عدلیہ کو اپنے ماتھے سے اس داغ کو مٹانا ہو گا۔ نواز شریف پرسے پابندی کو اٹھانا ہو گا۔ آزاد الیکشن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک یہ پابندی قائم ہے۔
وہ حلقے جو اس وقت بڑی شدومد سے اس وقت آزاد اور منصفانہ الیکشن کے حق میں دلائل دے رہیں انہیں اس بارے میں سوچنا ہو گا کہ نواز شریف پر سے نااہلی کی تلوار ہٹائے بغیر نہ الیکشن آذاد ہوں گے نہ منصفانہ اور نہ ہی انہیں شفاف الیکشن کہا جا سکتا ہے۔ اگر اس نااہلی کی پابندی کے ساتھ الیکشن کروانے کی کوشش کی گئی تو عوامی رد عمل سامنے آئے گا۔
ہم نے گذشتہ تین سالوں میں اس ملک کا بہت نقصان کیا ہے ۔ خود اپنے ہاتھ سے اس نشمین کو آگ لگا دی ہے۔ اپنے مفادات کی خاطر بائیس کروڑ لوگوں کے مفادات کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ بہت کچھ برباد ہو گیا ہے لیکن ابھی بھی واپسی کا رستہ ممکن ہے۔ ابھی بھی بگڑتے حالات کو قابو کیا جا سکتا ہے۔ ابھی بھی اس گرتی معیشت کو سہارا دیا جا سکتا ہے ابھی بھی پاکستان کے بین الاقوامی امیج کو بحال کیا جاسکتا ہے۔ ابھی بھی نفرتوں کا اختتام ہو سکتا ہے۔ لیکن اس سب کے لئے ماضی کی غلطیوں سے سبق سکیھنا ضروری ہے۔ ماضی کی کوہتاہیوں سے توبہ ضروری ہے۔
آج اگر نواز شریف کی سیاسی سرگرمیوں سے نااہلی ختم ہوتی ہے تو یہ اس اعتماد کی بحالی کی طرف پہلا قدم ہو گا۔ یہ شفاف الیکشن کی طرف پہلا قدم ہو گا۔ یہ اداروں اور عدلیہ کی ساکھ بچانے کی طرف پہلا قدم ہو گا۔
اگر ایسا نہی ہوتا ،ضد اور ہٹ دھرمی قائم رہتی ہے، ذاتی مفادات، قومی مفادات پر حاوی رہتے ہیں، الیکشن سے پہلے خفیہ ہاتھ کام کرتے رہتے ہیں، مذہبی جماعتوں کا سیاسی استعمال جاری رہتا ہے، عوامی امیدوں کا قتل عام جاری رہتا ہے تو بات بہت بگڑ جائے گی۔ بے گناہی کے تمام تر شواہد کے بعد نواز شریف کی نااہلی کے برقرار رہنےکی صورت میں سارا نظام نااہل ہو جائے گا۔ اس لئے کہ ایک طرف تو عدالتیں نواز شریف کو سیاسی اہلیت دینے پر تیار نہیں دوسری جانب عوام اب نواز شریف کے علاوہ کسی کی بات سننے پر راضی نہیں۔
یاد رکھنے کی بات بس اتنی ہے کہ قوموں کو بار بار بڑی غلطیاں کرنے کی مہلت نہیں ملتی۔ قومیں بار بار گرکر کھڑا ہونے کی ہمت نہیں رکھتیں۔ بڑے نقصان سے پہلے غلطیاں درست کرنا ہوں گی۔ ورنہ سارا ملک کسی انجانی آڈیو کی زد میں آ جائے گا سب کا پول کھل جائے گا۔ ابھی آخری موقع بچا ہے ، ابھی توبہ کا آخری دروازہ کھلا ہے۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔