By Hammad Hassan
Let us accept that the Sri Lankan manager Priyantha Kumara did tear down the religious banner and did throw it away. But where did a mob get the authority to be both judge and executioner? Yes. It is always mobs armed with ignorance that carry out the work of judge and executioner in a society whose courts, instead of dispensing justice, sit down to sell it. Where the state goes about taking up the patronage of a fanatical group, calling its members "our own people". Where, if some headstrong but brave judge in the halls of justice questions the patronage of a fanatical group and resolves to hold it to account, the earth of God is made narrow for that judge and his family. A society in which there is one law for 220 million dust-stricken wretches, but a separate law of its own choosing for the class that has seized everything from the country's constitution and law to its resources. Naturally, in such a society only mobs frenzied by ignorance and fanaticism will flourish, and incidents like those from Army Public School to Sialkot will keep happening in succession, and in between there will keep being the statement that the accused will be brought to justice. Come now, simply accept the reality that your present state narrative can yield nothing other than these same factors and this same scenario. So what is the use of crying out and pleading for justice, now over Army Public School, now over missing persons, now over the Sahiwal incident and now over the Sialkot incidents? My position has always been that this fanaticism and brutality is neither the natural temperament of this society nor an inherited instinct. Rather, all of this has been arranged out of an artificial atmosphere and environment.
مقطع میں سخن گسترانہ بات کرنے میں حرج کیا ہے کہ ہم سب اپنے بزرگوں سے ان ہندووں اور سکھوں کے ان گنت قصے سن چکے ہیں جو انیس سو سینتالیس سے پہلے اقلیت کے باوجود بھی ہمارے معاشرے اور دیہاتوں کا ایک محفوظ لیکن فعال حصہ تھے۔ حیرت ہوتی ھے کہ آج سے چوہتر برس پہلے جب نہ تعلیم عام تھی نہ میڈیا تھا اور نہ ہی قدم قدم پر عدالتیں یا قانون نافذ کرنے والے ادارے موجود تھے لیکن اس کے باوجود بھی اقلیتوں کو شاندار تحفظ بلکہ اپنائیت حاصل تھی۔ یعنی مذہبی ہم آھنگی کا جذبہ اور برداشت کا رویہ اتنا مظبوط اور اثر پذیر تھا کہ ایک دو واقعات کے علاوہ کوئی بڑا واقعہ تو درکنار معمولی واقعات بھی دیکھنے میں نہیں آئے اور نہ ھی اس وسیع سماج کے کسی چھوٹے سے حصے میں ڈینٹ ڈال سکا۔ جبکہ آج تعلیم کی فراوانی اور متحرک زندگی کے باوجود بھی معاملات اس کے الٹ کیوں ہیں؟ اس کا سادہ اور مختصر سا جواب یہی ہے کہ تب اس حوالے سے ریاستی بیانیہ یہ نہیں تھا جو آج ہے۔ چونکہ اس معاشرے کا فطری مزاج تحمل رواداری اور برداشت کا ھے اس لئے تب ریاست نے معاشرے پر اعتماد کرتے ہوئے معاملات (اقلیتوں اور مذہبی روئیے کے حوالے سے) اسی یعنی معاشرے اور اس کے باوقار سماجی خد و خال پر ہی چھوڑ دیئے تھے جسے کمال ذمہ داری کے ساتھ یہ معاشرہ نبھاتا بھی چلا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں اطراف (پاکستان اور ھندوستان) کے بزرگ اس رومان پرور اور قابل ستائش ناسٹلجیا سے نکل نہیں پا رہے ہیں۔ لیکن مجھے کہنے دیجئے کہ موجودہ جنونیت اس معاشرے کا فطری مزاج اور روایت ہرگز نہیں بلکہ اس درندگی نے مخصوص اور مصنوعی طور پر تخلیق کئے گئے ماحول سے جنم لیا جس کے ہزارہا شواہد ہمارے سامنے ہیں۔ کہنا یہی ھے کہ کسی ایسے بیان سے کہ “ملزموں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا یا ایسے واقعات کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی” سے کوئی امید رکھ کر کسی خوش فہمی میں رہنے سے گریز ہی دانائی ھے کیونکہ جب تک ریاستی بیانیئے کی سمت یہی رہے گا تب تک ان “مقامات آہ و فغاں” سے گزرنے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں۔
تلخ حقائق یہ ہیں کہ فی الحال ایک مشکل اور پر آشوب صورتحال درپیش ہے اور ان واقعات کے تدارک کیلئے مربوط اور منظم اقدامات کا دعوی بھی ایک خواب ہی ہے نہ ہی اس سلسلے میں حکمران طبقے کی تسلسل کے ساتھ دہراتے لفظی تسلیوں کو سنجیدگی کے ساتھ لینے یا کسی خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ آرمی پبلک کوئٹہ بم دھماکے کے شہداء اور ساہیوال جیسے واقعات ہمارے سامنے ہیں۔ کہنا یہی ھے کہ روایتی بیانیہ ابھی ایک جہل اور جنوں کی طاقت سے توانائی کشید رہا ہے لیکن قابل اطمینان بات یہ ہے کہ مخالف سمت سے روشن فکر با شعور اور جمہوری تہذیب کے ثمرات سے آگاہ طبقات بھی جدوجہد پر کمر بستہ اور مشترکہ پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونے کی طرف تیزی کے ساتھ بڑھنے لگے ہیں۔ اگر چہ فی الحال ایک مشکل اور پر آشوب صورتحال درپیش ھے لیکن اس کے باوجود بھی مختلف طبقات فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ جس میں سوشل میڈیا کا کردار بہت اہم ھے جبکہ دلیر اور حق گو صحافیوں کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ با اثر اور عوامی طاقت سے لیس سویلین لیڈر شپ اور سول سوسائٹی کا آئین و قانون کی بالادستی کےلئے ڈٹنا حد درجہ مثبت انڈی کیشنز ہیں۔ گو کہ اپنے فطری ٹریک سے اترے ہوئے معاشرے اور صدیوں کی موروثی جبلت سے مصنوعی ماحول کی طرف دھکیلے گئے سماج کو راہ راست پر لانے کے لئے ابھی حالات وقت اور جدوجہد کے متقاضی ہیں لیکن ارتقائی عمل اور بدلتے ہوئے منظر نامے میں شعور کی فراوانی نئے منزلوں کی نشاندہی بھی کر رہے ہیں اور راہ و سمت کا تعین بھی۔



