Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
An official KP government letter has contradicted claims that the Tirah Valley evacuation was the result of a military operation, revealing it was a voluntary civilian-led decision agreed through jirgas and prompting questions over the handling of Rs 4 billion in relief funds.
Pakistan has ruled out any move against Palestinian interests, rejected participation in any mission to disarm Hamas, and clarified that no decision has yet been taken on joining an international stabilisation force, according to a high-level security briefing.
Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.
میاں نواز شریف نے آج خواجہ محمد رفیق مرحوم کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی ابتر معاشی و مجموعی صورتحال کی وجہ ووٹ کو عزت نہ ملنا ریاست کے اوپر ریاست بنانے آزادی رائے پر قدغن لگانے آئین قانون جمہوریت سے غداری اور قانون کوموم کی ناک بنے رہنے کو قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی موجودہ حکومت نے عوام کی خوشحالی بند کردی اور بدحالی کھول دی ہے ترقی بند کردی ہے اور تنزلی کھول دی ہے امن بند کردیا ہے اور بدامنی کھول دی ہے زندگی بند کردی ہے اور موت کھول دی ہے نواز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان کی اب یہ حالت ہوگئی ہے کہ افغانستان جیسا ملک عمران خان کو کٹھ پتلی کہتا ہے امریکی ٹی وی عمران خان کی حیثیت کو اسلام آباد کے مئیر جیسی بتا رہا ہے۔
میاں نواز شریف نے پاکستان کی حالت زار دو جملوں میں اسطرح بیان کی کہ۔
پاکستان کے اندر غربت اور مہنگائی ہے۔
پاکستان سے باہر سفارتی تنہائی ہے۔
اس موقع پر انہوں نے اسحاق ڈار جو دوران خطاب انکے پچھے بیٹھے تھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ شخص ہے جسکو آج دنیا یاد کرتی ہے کسطرح انہوں نے پاکستانی معیشت کو مضبوط کیا تھا اور آج پاکستانی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے۔
اپنے خطاب کے آخر میں نواز شریف نے پارٹی ممبران اور ورکرز سے کہا کہ امید ہے پاکستان میں آپ سے جلد ملاقات ہوگی۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔