میاں نواز شریف نے آج خواجہ محمد رفیق مرحوم کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی ابتر معاشی و مجموعی صورتحال کی وجہ ووٹ کو عزت نہ ملنا ریاست کے اوپر ریاست بنانے آزادی رائے پر قدغن لگانے آئین قانون جمہوریت سے غداری اور قانون کوموم کی ناک بنے رہنے کو قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی موجودہ حکومت نے عوام کی خوشحالی بند کردی اور بدحالی کھول دی ہے ترقی بند کردی ہے اور تنزلی کھول دی ہے امن بند کردیا ہے اور بدامنی کھول دی ہے زندگی بند کردی ہے اور موت کھول دی ہے نواز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان کی اب یہ حالت ہوگئی ہے کہ افغانستان جیسا ملک عمران خان کو کٹھ پتلی کہتا ہے امریکی ٹی وی عمران خان کی حیثیت کو اسلام آباد کے مئیر جیسی بتا رہا ہے۔
میاں نواز شریف نے پاکستان کی حالت زار دو جملوں میں اسطرح بیان کی کہ۔
پاکستان کے اندر غربت اور مہنگائی ہے۔
پاکستان سے باہر سفارتی تنہائی ہے۔
اس موقع پر انہوں نے اسحاق ڈار جو دوران خطاب انکے پچھے بیٹھے تھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ شخص ہے جسکو آج دنیا یاد کرتی ہے کسطرح انہوں نے پاکستانی معیشت کو مضبوط کیا تھا اور آج پاکستانی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے۔
اپنے خطاب کے آخر میں نواز شریف نے پارٹی ممبران اور ورکرز سے کہا کہ امید ہے پاکستان میں آپ سے جلد ملاقات ہوگی۔



