Pakistan did what many thought impossible: it helped secure a US-Iran framework that has entered into force and now moves into technical implementation.
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا ایران معاہدے (اسلام آباد مفاہمتی یادداشت) پر بطور ثالث دستخط کر دیئے۔
اسلام آباد ایم او یو پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط بھی موجود ہیں۔
اسلام آباد واشنگٹن اور تہران کے درمیان تسلیم شدہ ثالث کے طور پر اُبھرا ہے۔
Shehbaz Sharif says the Islamabad MoU between the United States and Iran has taken immediate effect, with Iran set to reopen the Strait of Hormuz and Washington to lift its naval blockade.
JD Vance says Pakistan and Qatar helped mediate the US-Iran agreement and asked Washington to delay releasing the full text briefly, with publication expected by Friday.
Kylian Mbappé scored twice as France beat Senegal 3-1 in their World Cup Group I opener, with Bradley Barcola also on target after Senegal missed big first-half chances.
لوگ اپنے گھروں سے اپنے پیاروں کیساتھ ملکہ کوہسار مری کی حسین وادی کا نظارہ کرنے برفباری کو انجوائے کرنے اور کچھ اچھا وقت فیملی کیساتھ گزارنے خوشیوں کی تلاش میں نکلے لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ جو اچھا وقت وہ گزارنے کی تلاش میں نکلے ہیں وہ انکی زندگی کا آخری اور برا ترین وقت بن کر انکو موت کی اس وادی میں لے جائیگا جہاں سے واپسی ناممکن ہوگی۔
مری سانحہ پر ہر پاکستانی کی آنکھ اشکبار ہے اس سانحہ کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے کہ کس کرب سے ہم وطنوں نے اپنی زندگی کے آخری لمحات برف کے طوفان میں دھنسے ہوئے سسکتے ہوئے آہوں میں گزارے ہونگے پل پل موت کو اپنی جانب آتا بے بسی سے دیکھتے ہونگے وہ سوچتے ہونگے شاید کوئی غیبی امداد آن پہنچے جو انکو اس اذیت ناک سیاہ رات کی اذیت سے نجات دلا دے لیکن انکو شاید نہیں معلوم تھا کہ ایسا نہیں ہوپائیگا۔
لوگ کہتے ہیں حکومت وقت نے بروقت اقدامات نہیں کیے حکومت وقت کہتی ہے لوگوں کا قصور تھا انکو ان حالات میں نہیں جانا چاہیے تھا لیکن اگر دیکھا جائے تو وزیراطلاعات نے چند روز قبل ٹویٹر پر بڑے فخریہ اندازمیں ٹویٹ کی تھی کہ اتنے لاکھ لوگ اور گاڑیاں مری میں داخل ہوچکی ہیں کہاں ہے مہنگائی لیکن اسکے عین دوروز بعد یہ سانحہ رونما ہوگیا مری میں برف میں پھنسی گاڑیوں کے اندرمعصوم لوگ اپنی زندگی کی سانسیں گنتے رہے جبکہ حکومت وقت گاڑیاں گنتی رہی۔
مری میں ایک لاکھ کے قریب گاڑیاں داخل ہو چکی ہیں ہوٹلوں اور اقامت گاہوں کے کرائے کئ گنا اوپر چلے گئے ہیں سیاحت میں یہ اضافہ عام آدمی کی خوشحالی اور آمدنی میں اضافے کو ظاہر کرتا ہے اس سال سو بڑی کمپنیوں نے 929 ارب روپے منافع کمایا تمام بڑے میڈیا گروپس 33سے چالیس فیصد منافع میں ہیں
جسطرح مری میں ایک لاکھ گاڑیاں داخل ہونے اور مری میں بڑھتی سیاحت کا کریڈٹ وزیراطلاعات نے حکومت کو دیا تھا تو پھراس حساب سے اگر دیکھا جائے تو مری سانحہ میں معصوم جانوں کے زیاع کی ذمہ داری بھی موجودہ حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے۔
اگر حکومت جانتی تھی کہ لوگوں کی اتنی بڑی تعداد مری کا رخ کررہی ہے موسم سرد اور ابتر ہورہا ہے برف باری بڑھے گی تو پھر حکومت نے کیوں عوام کی حفاظت کیلئے انکی آگاہی کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے کیوں لوگوں کو مری جانے سے روکا نہ گیا کیوں عوامی رابطہ مہم نہ چلائی گئی سوشل میڈیا اور الیٹرانک میڈیا کو بروقت استعمال نہ کیا گیا ہر کام پر ہیش ٹیگ چلانے والوں نے کیوں اس موقع پرنہ کوئی ہیش ٹیگ چلایا اور نہ ہی کوئی سوشل میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا کیمپین چلائی تاکہ عوام خبردارہوجائے کہ ایسے موقع پر مری جانا خطرے سے خالی نہیں۔
اگر دیکھا جائے تو حسب عادت حکومت نے ایک مرتبہ پھر ذمہ داری لوگوں پر ڈالنا شروع کردی ہے جسطرح ماضی میں موٹروے ریپ کا واقع ہوا تو الزام ریپ کا شکار ہونیوالی خاتون پرڈال دیا گیا اگر ٹرین میں آگ لگی تو الزام مسافروں پر ڈال دیا گیا اسی طرح مری سانحہ پر ذمہ داری عوام پر ڈالی جارہی ہے لیکن ایسا کتنی دیر چلے گا کتنی دیر ہر سانحہ ہر واقع کی ذمہ داری عوام پر ڈال کر یہ حکومت بری الذمہ ہوتی رہے گی آخر کب تک ایسا ہوتا رہیگا آخر کب تک؟
آخر میں عصر حاضر کے معروف شاعر انور مسعود کے مری کی برفباری پر چند اشعار۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔