پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
Pakistan received $3.5 billion in workers’ remittances in April 2026, with Saudi Arabia and the UAE leading inflows and cumulative FY26 remittances reaching $33.9 billion.
Prime Minister Shehbaz Sharif says Pakistan has received Iran’s response, signalling that Islamabad’s mediation channel remains active as regional diplomacy enters a sensitive phase.
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث عوام سراپا احتجاج، وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا۔ پیٹرول اور ڈیزل پر عائد پیٹرولیم لیوی میں بھی اضافہ کر دیا گیا۔
لوگ اپنے گھروں سے اپنے پیاروں کیساتھ ملکہ کوہسار مری کی حسین وادی کا نظارہ کرنے برفباری کو انجوائے کرنے اور کچھ اچھا وقت فیملی کیساتھ گزارنے خوشیوں کی تلاش میں نکلے لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ جو اچھا وقت وہ گزارنے کی تلاش میں نکلے ہیں وہ انکی زندگی کا آخری اور برا ترین وقت بن کر انکو موت کی اس وادی میں لے جائیگا جہاں سے واپسی ناممکن ہوگی۔
مری سانحہ پر ہر پاکستانی کی آنکھ اشکبار ہے اس سانحہ کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے کہ کس کرب سے ہم وطنوں نے اپنی زندگی کے آخری لمحات برف کے طوفان میں دھنسے ہوئے سسکتے ہوئے آہوں میں گزارے ہونگے پل پل موت کو اپنی جانب آتا بے بسی سے دیکھتے ہونگے وہ سوچتے ہونگے شاید کوئی غیبی امداد آن پہنچے جو انکو اس اذیت ناک سیاہ رات کی اذیت سے نجات دلا دے لیکن انکو شاید نہیں معلوم تھا کہ ایسا نہیں ہوپائیگا۔
لوگ کہتے ہیں حکومت وقت نے بروقت اقدامات نہیں کیے حکومت وقت کہتی ہے لوگوں کا قصور تھا انکو ان حالات میں نہیں جانا چاہیے تھا لیکن اگر دیکھا جائے تو وزیراطلاعات نے چند روز قبل ٹویٹر پر بڑے فخریہ اندازمیں ٹویٹ کی تھی کہ اتنے لاکھ لوگ اور گاڑیاں مری میں داخل ہوچکی ہیں کہاں ہے مہنگائی لیکن اسکے عین دوروز بعد یہ سانحہ رونما ہوگیا مری میں برف میں پھنسی گاڑیوں کے اندرمعصوم لوگ اپنی زندگی کی سانسیں گنتے رہے جبکہ حکومت وقت گاڑیاں گنتی رہی۔
مری میں ایک لاکھ کے قریب گاڑیاں داخل ہو چکی ہیں ہوٹلوں اور اقامت گاہوں کے کرائے کئ گنا اوپر چلے گئے ہیں سیاحت میں یہ اضافہ عام آدمی کی خوشحالی اور آمدنی میں اضافے کو ظاہر کرتا ہے اس سال سو بڑی کمپنیوں نے 929 ارب روپے منافع کمایا تمام بڑے میڈیا گروپس 33سے چالیس فیصد منافع میں ہیں
جسطرح مری میں ایک لاکھ گاڑیاں داخل ہونے اور مری میں بڑھتی سیاحت کا کریڈٹ وزیراطلاعات نے حکومت کو دیا تھا تو پھراس حساب سے اگر دیکھا جائے تو مری سانحہ میں معصوم جانوں کے زیاع کی ذمہ داری بھی موجودہ حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے۔
اگر حکومت جانتی تھی کہ لوگوں کی اتنی بڑی تعداد مری کا رخ کررہی ہے موسم سرد اور ابتر ہورہا ہے برف باری بڑھے گی تو پھر حکومت نے کیوں عوام کی حفاظت کیلئے انکی آگاہی کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے کیوں لوگوں کو مری جانے سے روکا نہ گیا کیوں عوامی رابطہ مہم نہ چلائی گئی سوشل میڈیا اور الیٹرانک میڈیا کو بروقت استعمال نہ کیا گیا ہر کام پر ہیش ٹیگ چلانے والوں نے کیوں اس موقع پرنہ کوئی ہیش ٹیگ چلایا اور نہ ہی کوئی سوشل میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا کیمپین چلائی تاکہ عوام خبردارہوجائے کہ ایسے موقع پر مری جانا خطرے سے خالی نہیں۔
اگر دیکھا جائے تو حسب عادت حکومت نے ایک مرتبہ پھر ذمہ داری لوگوں پر ڈالنا شروع کردی ہے جسطرح ماضی میں موٹروے ریپ کا واقع ہوا تو الزام ریپ کا شکار ہونیوالی خاتون پرڈال دیا گیا اگر ٹرین میں آگ لگی تو الزام مسافروں پر ڈال دیا گیا اسی طرح مری سانحہ پر ذمہ داری عوام پر ڈالی جارہی ہے لیکن ایسا کتنی دیر چلے گا کتنی دیر ہر سانحہ ہر واقع کی ذمہ داری عوام پر ڈال کر یہ حکومت بری الذمہ ہوتی رہے گی آخر کب تک ایسا ہوتا رہیگا آخر کب تک؟
آخر میں عصر حاضر کے معروف شاعر انور مسعود کے مری کی برفباری پر چند اشعار۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔