spot_img

Columns

Columns

News

موڈیز نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں اضافہ کر دیا، بلومبرگ

موڈیز نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو سی اے اے 1 سے بڑھا کر بی 3 کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق مسلسل معاشی استحکام سے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ہوا، بیرونی مالی خطرات میں کمی آئی، شرحِ سود میں کمی سے مالیاتی پوزیشن بہتر ہوئی، قرض ادائیگی کی استطاعت بڑھ گئی۔

Asim Munir returns to Tehran to mediate US-Iran war

Field Marshal Asim Munir traveled to Tehran on Monday for his third visit this year, meeting Iran's newly appointed military leadership as Pakistan works to revive stalled US-Iran talks. Iran's Foreign Ministry says bilateral ties between the two countries have reached one of their strongest stages.

Asim Munir to visit Tehran again as Pakistan mediates

Pakistan's Army Chief Asim Munir will travel to Tehran on Monday, Iran's Foreign Ministry says, in his third visit this year tied to US-Iran mediation efforts.

Supreme Court directs transfer of Imran Khan to Shifa International Hospital

The Supreme Court has ordered the transfer of Imran Khan from Adiala Jail to Shifa International Hospital for medical assessment and treatment, while directing that his health condition should not be used for political activity or media campaigning.

Saudi Arabia, Turkey and Pakistan sign Makkah Joint Defence Agreement

Saudi Arabia, Turkey and Pakistan have signed the Makkah Joint Defence Agreement at Al-Safa Palace, a trilateral pact under which an armed attack against any one of the three states will be regarded as an attack against them all.
Op-Edتسبیح والے فراڈیے کا با داغ ماضی
spot_img

تسبیح والے فراڈیے کا با داغ ماضی

Op-Ed
Op-Ed
Want to contribute to The Thursday Times? Get in touch with our submissions team! Email views@thursdaytimes.com
spot_img

تسبیح ایک ایسی مقدس شے ہے جو ہمیشہ پرہیزگار، شریف النفس اور عبادت گزار لوگوں کے ہاتھوں میں اچھی لگتی ہے۔ اس تسبیح کی وجہ سے پرہیزگار، عبادت گزار لوگوں کا مقام و مرتبہ دوسروں کی آنکھوں میں مزید بڑھ جاتا ہے کیونکہ یہ معاشرہ آج بھی تسبیح کا تہہ دل سے احترام کرتا ہے۔ اس تسبیح کی عزت و تکریم کچھ منافق اور فراڈیے قسم کے لوگوں کو برداشت نہ ہوسکی جس کی وجہ سے ان نوسربازوں نے تسبیح کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر لوگوں کی نظروں میں اس کا احترام کم کرنے کی سازش کی ہے۔ آج آپ چاروں طرف اپنی نظریں گھمائیں تو آپ کو ہر نوسرباز، فراڈیے اور منافق شخص کے ہاتھ میں تسبیح نظر آئے گی کیونکہ بظاہر وہ تسبیح کا سہارا لے کر اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے متقی و پرہیز گار ثابت کرنا چاہتا ہے لیکن قوم کی نظروں میں اس کی سرگرمیاں اوجھل نہیں ہوتی اور نہ ہی قوم اس کے ماضی کو بھولتی ہے۔

آج کل حکمران جماعت کے بانی ارکان ایک ایسے فراڈیے، منافق اور نوسرباز قسم کے شخص کو بےنقاب کر رہے ہیں جو وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھ کر پاکستان میں چین، ایران، مدینہ کی ریاست اور امریکہ جیسا نظام نافذ کرنا چاہتا ہے۔ یہ نوسرباز اپنے آپ کو بظاہر وزیراعظم تو کہلواتا ہے لیکن اس کے فراڈ و منافقت سے پاکستانی قوم کے علاوہ اس کی اپنی پارٹی کے ارکان بھی نہ بچ سکے۔ اس فراڈیے نے تسبیح ہاتھ میں پکڑ کر فوزیہ قصوری، جسٹس وجیہہ الدین، اسحاق خاکوانی، اکبر ایس بابر، محسن بیگ، حامد خان اور احمد جواد سمیت کئی ایسے کارکنان کو دھوکا دیا جو اس کی خاطر اپنے خاندان کے افراد سے لڑتے رہے، قوم کو اس کی ایمانداری کی دہائیاں دیتے رہے اور ہر قسم کی مشکل کو سہتے رہے لیکن جب چور دروازے سے اقتدار نصیب ہوا تو ایک دم سے تسبیح والے فراڈیے کے جذبات بدل گئے، احساسات بدل گئے اور نظریات بدل گئے۔ جس کا اپنا کوئی نظریہ نہ ہو تو وہ قوم کی حقیقی معنوں میں کیسے رہنمائی کر سکتا ہے؟ آج پاکستان جن مشکلات سے گزر رہا ہے اور اس کا کریڈٹ ہم اسٹیبلشمنٹ کو نہ دیں تو زیادتی ہوگی کیونکہ اسٹیبلشمنٹ نے ہی اس تسبیح والے فراڈیے کو پوری قوم پر مسلط کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا جس کی سزا آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔

تو آئیے ہم اپنے ہدف کی جانب بڑھتے ہیں اور تسبیح والے فراڈیے کے با داغ ماضی پر روشنی ڈالتے ہیں۔ محترمہ فوزیہ قصوری صاحبہ جس کو تحریک انصاف کے تمام کارکنان ایک ماں کا درجہ دیتے ہیں اور ان کا تہہ دل سے احترام کرتے ہیں وہ بھی اس تسبیح والے فراڈیے کے دھوکے سے نہ بچ پائیں۔ اس نوسرباز نے فوزیہ قصوری صاحبہ سے چندہ حاصل کرنے کے لیے انکو ایک خط لکھا جو ابھی تک انکے پاس محفوظ ہے اور جس میں اس نوسرباز کی یہ تحریر درج ہے کہ “سینیٹ الیکشن میں آپ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے امیدوار نامزد ہوں گی۔” لیکن جیسے ہی سینیٹ الیکشن قریب آئے تو اس نوسرباز نے تسبیح کو گھماتے ہوئے اپنے فیصلے کو گھمایا اور ماں کا درجہ رکھنے والی فوزیہ قصوری کو سائیڈ لائن کرکے امیروں اور جاگیرداروں کو کروڑوں کے عوض ٹکٹ فروخت کیے، جس کے ثبوت کسی سے ڈھکے چھپے نہیں اور نہ ہی میڈیا کی نظروں سے اوجھل ہیں۔

اسکے بعد اکبر ایس بابر اور جسٹس وجیہہ الدین یہ دونوں بھی اس نوسرباز کے کافی قریب سمجھی جانیوالی شخصیات ہیں۔ اکبر ایس بابر وہ شخصیت ہیں جنہوں نے فارن فنڈنگ کیس میں اس نوسرباز کی کرپشن کو عیاں کیا اور جنکے پاس اس فراڈیے نے یہ راز افشاں کیا تھا کہ میں آج جارج بش کی جیت کے لیے دو نفل ادا کر کے آیا ہوں اور میری دعا ہے کہ جارج بش جیت جائے۔ جسٹس وجیہہ الدین وہ شخصیت ہیں جو تحریک انصاف میں الیکشن ٹریبونل کی خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں اور جنہوں نے پارٹی سے کرپشن کے خاتمے کے لیے جدوجہد کی اور پارٹی آئین کے مطابق جہانگیر ترین، نادر لغاری، پرویز خٹک سمیت ان صوبائی وزراء اور ارکان اسمبلی کے خلاف تحقیقات کرکے فیصلہ جاری کیا جنہوں نے پارٹی میں پیسے کو فروغ دیا اور من پسند افراد کو حکومتی فنڈز دیے۔ آج اس نوسرباز نے اپنی پارٹی سے ان دونوں بانی ارکان کو نکال دیا ہے کیونکہ تسبیح والا فراڈیہ کرپشن سے نفرت نہیں بلکہ محبت کرتا ہے۔

اس کے بعد اسحاق خاکوانی اور محسن بیگ کے متعلق یہ قوم حالیہ دنوں میں سچ جان چکی ہے کہ کس طرح محسن بیگ مالی طور پر اس نوسر باز کی مدد کرتے رہے، انکی میڈیا ٹیم کو ہینڈل کرتے رہے، اس نوسرباز کی فنڈنگ کے لیے کاروباری شخصیات کو ملواتے رہے لیکن وہ بھی اس فراڈیے کے ڈنگ سے محفوظ نہ رہ سکے اور جہانگیر ترین کے حامی رکن اسحاق خاکوانی کا بھی کچھ ایسا ہی قصہ ہے کہ اس نوسرباز کے اردگرد موجود سازشی عناصر ہمارے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں لیکن ہم ان سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ جس نوسرباز کے فراڈ سے اس کے اپنے لوگ نہ محفوظ رہ سکیں ہوں تو وہ کیا خاک پاکستانی قوم کی خدمت کرے گا؟

اس کے بعد سنئیر وکیل حامد خان اور احمد جواد بھی اس نوسرباز کے قریب سمجھی جانیوالی شخصیات ہیں۔ حامد خان نے اس نوسرباز کو متنبہ کیا کہ کچھ اسٹیبلشمنٹ کے ٹاؤٹ پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں لہٰذا آپ اس پر ایکشن لیں اور ایسے لوگوں پر پارٹی کے دروازے بند کریں لیکن یہ نوسرباز تو اسٹیبلشمنٹ کا کھلونا بن چکا تھا اور اس نے حامد خان کی بات پر عمل کرنے کی بجائے انکو ہی پارٹی سے نکال دیا۔ احمد جواد جو پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات کے عہدے پر فائز ہیں انہوں نے بھی اس نوسرباز کی کرپشن پر روشنی ڈالی اور اس کے کرپٹڈ وزیروں، مشیروں کو بےنقاب کیا لیکن اس فراڈیے و نوسرباز نے سچ برداشت کرنے کی بجائے انکو بھی اپنی پارٹی سے نکال دیا۔

ہمیں بظاہر ان شخصیات سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے اور لوگوں کو بھی اس کے فراڈ کے متعلق معلومات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس امید کیساتھ اس وقت کا انتظار کرنا چاہئیے جب یہ نوسرباز عوام میں جانے کے قابل نہ ہوگا اور نہ ہی انگلی اس کا ساتھ نبھائے گی اور کرتوت اس کا ہر موڑ پر پیچھا کریں گے کیونکہ ماضی کے محرکات کو دبایا نہیں جاسکتا۔


The contributor, Mian Mujeeb-ur-Rehman, is a chemical engineer who doubles as a columnist, having conducted research and crafted blogs for the past several years as a personality for various newspapers and websites throughout Pakistan.

Reach out to him @mujeebtalks.

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.