دونالد ترامپ اعلام کرد ایران شاید مانند هر زمان دیگری به آزادی نزدیک شده باشد و از آمادگی آمریکا برای کمک سخن گفت، در حالی که اعتراضات ضدحکومتی با وجود سرکوب شدید، خشونت مرگبار و قطع سراسری اینترنت در سراسر کشور ادامه دارد۔
US President Donald Trump has backed Iran’s protest movement, saying the country is “looking at freedom” as unrest spreads despite a deadly crackdown and internet blackout.
پاکستان اور امریکا کے مابین تیرہویں مشترکہ فوجی مشقوں انسپائرڈ گیمبٹ 2026 کا آغاز ہو گیا جن کا مقصد کاونٹر ٹیررازم میں تجربات کے تبادلہ، حربی طریقہ کار اور مؤثر انسدادِ دہشتگردی آپریشنز کی ٹیکنیک کو بہتر بنانا ہے۔
Indian markets slipped again as weak global cues and proposed US tariffs on Russian oil buyers rattled investor confidence and heightened fears over India’s energy dependence.
بھارتی سٹاک مارکیٹ مسلسل چوتھے روز مندی کا شکار، غیر ملکی سرمایہ کے انخلا کے ساتھ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے روسی تیل خریدنے والے ممالک پر ممکنہ 500 فیصد ٹیرف کی حمایت سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید دھچکا۔توانائی اور تجارتی پالیسیوں سے جڑی اس غیر یقینی صورتحال نے بھارتی معیشت اور مالی منڈیوں پر دباؤ میں نمایاں اضافہ کر دیا۔
Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.
پارٹی قائد میاں نواز شریف پر مسلم لیگ ن کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا مکمل اعتماد کا اظہار۔
آج مسلم لیگ ن کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت جماعت کے قائد میاں نواز شریف اور صدر شہباز شریف نے کی۔
اجلاس میں سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے میاں نواز شریف کے فیصلوں کی توثیق کردی ہے اور کہا ہے کہ میاں نواز شریف کا جو بھی فیصلہ ہوگا وہ پوری جماعت کو قابل قبول ہوگا۔
آج ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان سے تحریک عدم اعتماد لا کر چھٹکارا حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا جسکے لیے تمام آئینی و قانونی طریقہ کار کو استعمال کرنے کا اعادہ کیا گیا۔
واضع رہے کہ ن لیگ کا یہ اہم اجلاس آج اس وقت منعقد ہوا ہے جب کل پارٹی صدر میاں شہباز شریف مریم نواز اور حمزہ شہباز کیساتھ پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو اور آصف زرداری کے مابین اہم ملاقات ہوئی تھی۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔