spot_img

Columns

Columns

News

Imran Khan’s ex-wife Jemima Goldsmith marries Cameron O’Reilly

Jemima Goldsmith, Imran Khan's ex-wife, has married Irish-Australian financier Cameron O'Reilly in a private ceremony, more than two decades after her divorce from the former Pakistani PM.

Malaysian PM rejects India’s push to brand Pakistan a terror sponsor

Malaysian PM Anwar Ibrahim refused to be drawn into India's attempt to brand Pakistan a state sponsor of terrorism, telling an Indian anchor directly that his own intelligence found no evidence to support the claim.

پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف، وزیراعظم کا خصوصی سکیم کا اعلان

پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف! وزیراعظم نے موٹرسائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کیلئے خصوصی ریلیف سکیم کا اعلان کر دیا۔ موٹرسائیکل، رکشہ اور چنگچی کو ماہانہ 20 لیٹر جبکہ 800 سی سی تک گاڑیوں کو 30 لیٹر پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے ریلیف ملے گا۔

پاکستان نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ یمن میں اپنے حوثی اتحادیوں پر قابو پائے، روئٹرز

پاکستان نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ یمن میں اپنے حوثی اتحادیوں پر قابو پائے۔ تہران نے اضافی فنڈنگ و ہتھیاروں کا وعدہ کرتے ہوئے حوثیوں کو سعودی عرب پر حملے کی ہدایت دی۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب حوثیوں کے خلاف مشترکہ کارروائی بھی کر سکتے ہیں۔ روئٹرز

Pakistan warns Iran to rein in Houthis as Saudi strikes back

Pakistan has moved on two fronts over the Houthi assault on Saudi Arabia this week: Defence Minister Khawaja Asif warning the Makkah Defence Pact could become operational, and Pakistan separately delivering a direct diplomatic warning to Iran, Reuters reports, urging Tehran to rein in the Houthis.
Op-Edمیلا بےبی
spot_img

میلا بےبی

کیونکہ "میلے بےبی" کے ساتھ سیم پیج کا لاحقہ لٹک رہا ہے اس لیے اُس کا لگایا ہر الزام سچ اور اُس کا اٹھایا ہر قدم درست۔

Op-Ed
Op-Ed
Want to contribute to The Thursday Times? Get in touch with our submissions team! Email views@thursdaytimes.com
spot_img

ماضی میں پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوتا تھا تو حکومتیں کرپٹ ہوتی تھیں اور اضافی ٹیکس کے پیسے کرپٹ پی ایم کے اکاؤنٹ میں جاتے تھے لیکن اب کیونکہ “میلا بےبی” اقتدار میں ہے تو ایسا نہیں ہے بلکہ عوام کو سمجھنا چاہیے کہ “میلا بےبی” خوشی سے یہ اضافہ نہیں کر رہا بلکہ انتہائی مجبوری میں عوام کی غربت کا احساس کرتے ہوئے یہ اضافہ کیا جاتا ہے. مزید یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ اضافے کے باوجود پاکستان اس وقت سستا ترین ملک ہے اور آج بھی پاکستان میں پیٹرول کی قیمت دنیا کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

۔ “میلا بےبی” کیونکہ میلا ہے اس لیے جب 68 روپے پیٹرول قیمت پر وہ حکمرانوں کے لتے لیتا تھا اور انہیں کرپٹ کہتا تھا تو وہ سچا اور مخلص تھا اور حکمران کرپٹ، جب وہ 100روپے کے ڈالر پر بتاتا تھا کہ جب حکمران کرپٹ ہوتا ہے تو روپے کی قدر گرتی ہے تو وہ عوام کے درد سے لبریز ہوتا تھا اور آج بھی وہی سچا ہے کیونکہ اسے تو ٹی وی دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ ڈالر کی قیمت بڑھ گئی ہے. جب وہ 18 روپے یونٹ بجلی پر بجلی کے بل جلانے کی دہائیاں دیتا تھا تو وہی حق پر تھا اور آج جب بجلی کا یونٹ 25 روپے سے زیادہ کا ہے تو اس کے درد کو سمجھنا چاہیے کہ اسے عوام کا بہت احساس ہے اور وہ غریب اوہ سوری غربت کم کرنے کے مشن پر ہے۔

۔ “میلا بےبی” کبھی عوام کا بُرا سوچ ہی نہیں سکتا کیونکہ 37 کا آٹا، 180 کا تیل/گھی، 57 کی چینی اور 14سو روپے میں یوریا کھاد عوام کی جیب پر اتنا بوجھ تھا کہ اس نے آتے ہی فیصلہ کر لیا کہ عوام کی جیب کے اس بوجھ کو ہلکا کرنا ہے اور آج 90 کا آٹا، 420کا تیل/گھی، 110 کی چینی اور یوریا کھاد 24سو روپے بوری کر دی. اب عوام خود ہی بتائے کہ اب ان کی جیب زیادہ ہلکی ہے یا پہلے ہلکی تھی؟

۔ “میلا بےبی” اگر آپ کو بتاتا تھا کہ آئی ایم ایف سے قرض لینے سے خود کشی کر لینا بہتر ہے تو کیا غلط کہتا تھا؟ کیا آج منی بجٹ کے بعد آنے والے مہنگائی کے طوفان میں جب اشیائے ضروریہ خریدنا ہی ناممکن ہو رہا ہے کجا کہ بچوں کی چھوٹی چھوٹی فرمائشیں پوری کرنا تو کیا آپ کا دل نہیں کرتا کہ خودکشی ہی کر لیں؟

آپ کو بس یہ سمجھنا ہو گا کہ کیونکہ “میلے بےبی” کے ساتھ سیم پیج کا لاحقہ لٹک رہا ہے اس لیے اُس کا لگایا ہر الزام سچ اور اُس کا اٹھایا ہر قدم درست ہے۔

آپ کو یاد ہو گا کہ جب معیشت 5.8 جی ڈی پی تھی اور سٹاک مارکیٹ 53 ہزار پر تھی تو مجھے معیشت پر بڑی اچھی اچھی تجاویز آتی تھیں اور میں سمجھتا تھا کہ مجھ سے اچھا ماہرِ معیشت تو کوئی ہے ہی نہیں اور اب سمجھ نہیں آتی کہ معیشت پر کیا بولوں؟ ویسے بھی سیانے کہتے ہیں کہ سہانے خواب بھرے پیٹ کے ساتھ ہی آتے ہیں لیکن اگر “میلا بےبی” کہہ رہا ہے کہ معیشت بہتری کی طرف گامزن ہے تو پھر عوام کو افراطِ زر میں 14فیصد سے زیادہ اضافے کو نظر انداز کرنا ہو گا یا ہنس کر برداشت کرنا ہو گا۔

بہرحال میرا تو آپ کو یہی مشورہ ہے کہ اگر آپ بڑھتی ہوئی مہنگائی سے پریشان ہیں، میڈیا پر لگی قدغنیں آپ کا دل دکھاتی ہیں، سیکورٹی کی خراب صورتحال آپ کے اندیشوں میں اضافہ کرتی ہے، بےروزگاری نے جان عذاب کر رکھی ہے، صحت کارڈ مفت علاج میں مددگار نہیں، پاکستان کی عالمی تنہائی اور سفارتی ناکامیاں آپ کو کسی قسم کی شرمندگی سے دوچار کرتی ہیں، سوشل میڈیا کارکنوں پر مقدمات کی اطلاعات سے دل برداشتہ ہیں اور بھارت کا کشمیر ہضم کر جانا آپ سے ہضم نہیں ہوتا تو صبح سویرے میری طرح صدیق جان کا ولاگ سنا کریں اور ایک مطمئن خوش باش دن کا آغاز کیا کریں۔

آپ کا محبِ وطن خیر اندیش: میرا خیال ہے کہ محبِ وطن خیر اندیش کہنے سے ہی آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ میں کون ہوں؟ مزید تعارف کی ضرورت نہیں۔


The contributor, Naddiyya Athar, is a Master of Urdu Literature with a Bachelors in Education. She has experience teaching at schools and colleges across Pakistan. Being keenly fascinated by the ever-changing scope of politics in the country, Naddiyya is an avid bibliophile.

Reach out to her @naddiyyaathar.

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.