Saqib Nisar’s ‘Sadiq and Ameen’: the Ferozewala files

Join the conversation

Translating from the Urdu… 3 of 14 Read the original

Listen to this articleSaqib Nisar’s ‘Sadiq and Ameen’: the Ferozewala files5 min · device voice0:00 / 4:55

This report, which originally appeared on Fact Focus, has been translated to the Urdu language.

The original article, by Shumaisa Rehman, can be read here.


In Ferozewala, in Sheikhupura, Musammat Nighat Irum, widow of former IG Punjab Shah Nazir Alam and stepmother of Gen (retd) Shah Arif Alam, owned 500 kanals and 9 marlas of land. In 1996 she gave the power of attorney over this land to Imran Khan's father, Ikramullah Niazi.

On the basis of the power of attorney, Ikramullah Niazi sold the land on 13 October 2004 to his son Imran Khan and four daughters for Rs7 million

عمران خان نے یہ جائیداد 2005′ 2006 اور 2007 میں الیکشن کمیشن کو جمع کرائی گئی اثاثوں کی تفصیل میں ظاہر نہیں کیا۔ جبکہ 2005 سے 2009 تک اپنی انکم ٹیکس ریٹرنز میں ظاہر نہیں کیا۔

19 مارچ 2008 کو اکرام اللہ نیازی کا انتقال ہوا۔ جس کے بعد علیمہ خان نے یہ جائیداد اپنی ویلتھ سٹیٹمنٹ میں ظاہر کی لیکن غلط بیانی کرتے ہوئے اسے “وراثتی” ظاہر کر کے اس کی مالیت صفر لکھی۔ حالانکہ جائیداد اپنے والد سے “خریدی” تھی۔

عمران خان نے یہ جائیداد 2010 میں ظاہر کی لیکن غلط بیانی کرتے ہوئے اسے “وراثتی” اور مالیت “صفر” ظاہر کی۔

With thanks to Fact Focus.

۔ 2004 میں خریدی گئی اس جائیداد کے متعلق 15 سال مسلسل جھوٹ بولنے کے بعد 2019 میں متین احمد بُھلہ کو 35 کروڑ روپے میں فروخت کر دیا گیا۔ خریدار کا ٹیکس بچانے کیلیے اس جائیداد

کو ایک ہی شخص کو دو ماہ میں 80 رجسٹریوں کے ذریعے بیچا گیا اور ہر رجسٹری کی مالیت 40 لاکھ سے کم رکھی گئی

With thanks to Fact Focus.

عمران خان کو 2005 میں پشاور میں ایک پلاٹ “گفٹ” ملا۔ جس کی لیکن دس سال چھپانے کے بعد پہلی دفعہ 2015 میں ظاہر کیا۔ 2005 میں عمران خان اسمبلی کا رکن تھا لیکن الیکشن کمیشن کو جمع کروائی گئی تفصیل میں اس پلاٹ کو ظاہر نہیں کیا گیا۔

دسمبر 2015 کو پشاور میں ایک تقریب کے دوران عمران خان نے اس پلاٹ کی ملکیت کو تسلیم کیا اور بتایا کہ یہ پلاٹ شوکت خانم ہسپتال کو دیدیا گیا ہے۔ٹھائیسواں

۔ 28 دسمبر 2015 کو دوران عمران خان نے اس پلاٹ کی ملکیت کو تسلیم کیا اور بتایا کہ یہ پلاٹ شوکت خانم ہسپتال کو دیدیا گیا ہے۔؎

۔ 1987 میں بھارت کو ٹیسٹ سیریز میں شکست دینے والی پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو لاہور میں رہائشی پلاٹ دینے کا اعلان کیا گیا جس کی ایک شرط یہ تھی کہ پہلے سے پنجاب میں کوئی گھر یا پلاٹ نہ ہو۔

عمران خان نے بھی 2 اپریل 1987 کو پلاٹ کیلیے درخواست دی جس کیساتھ بیان حلفی لگایا کہ اس کا کوئی گھر یا پلاٹ نہیں جبکہ اس وقت وہ اپنے فیملی ہاؤس میں رہتے تھے اور ویسٹ وڈ سوسائٹی لاہور میں کئی پلاٹوں کے مالک تھے۔ یہ سوسائٹی اکرام اللہ نیازی نے اسی کی دہائی میں بنائی تھی

عمران خان نے 10 مئی 1983 کو جرسی آئی لینڈ میں “نیازی سروسز لمیٹڈ” کے نام سے آفشور کمپنی بنائی۔ اس کمپنی کے متعدد بنک اکاؤنٹس کھولے گئے۔ اسی کمپنی کے نام پر لندن میں 117000 پاؤنڈ کا اپارٹمنٹ خریدا گیا۔ 2015 تک کمپنی اور اکاؤنٹس نہ الیکشن کمیشن اور نہ ہی ٹیکس ریٹرنز میں ظاہر کیے

۔ 2000 میں یہ اپارٹمنٹ اس وقت ظاہر کیا گیا جب جنرل ر مشرف نے کالا دھن سفید کروانے کیلیے ٹیکس ایمنیسٹی سکیم متعارف کروائی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایسا اس لیے کیا گیا کیونکہ 2002 کے الیکشن میں عمران خان وزیراعظم بننے کا امیدوار تھا۔

ثاقب نثار کے فیصلے کے مطابق آفشور کمپنی صرف اپارٹمنٹ کیلیے بنائی گئی تھی اس لیے اس کا علیحدہ سے ظاہر کرنا ضروری نہیں تھا حالانکہ عمران خان کی طرف سے جمع کرائی گئی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس آفشور کمپنی کے ذریعے دیگر کام بھی کیے جا رہے تھے۔

عمران خان کی طرف سے جمع کروائی گئی بنک سٹیٹمنٹس سے پتہ چلتا ہے کہ کم وبیش ایک لاکھ پاؤنڈز کی ٹرانزیکشنز اپارٹمنٹ سے متعلقہ نہیں تھیں۔ اور یہ سٹیٹمنٹس بھی صرف پانچ سال کی تھیں۔ 15 سال کی بنک سٹیٹمنٹس عدالت کو فراہم ہی نہیں کی گئیں۔

نومبر 2020 میں یہ خبریں سامنے آئیں کہ وزیراعظم نے غیر ملکی سربراہوں سے ملنے والے تحائف میں کوئی تحفہ توشہ خانے سے لیا اور پھر فروخت کر دیا۔ ایک شہری ابرار خالد نے کابینہ ڈویژن کو درخواست دی کہ وزیراعظم کی طرف سے رکھے جانیوالے تحائف اور انکی مالیت سے آگاہ کیا جائے۔

کابینہ ڈویژن نے یہ تفصیل دینے سے انکار کر دیا جس پر شہری نے پاکستان انفارمیشن کمشن کو درخواست دیدی۔ کمشن نے 21 جنوری 2021 کو کابینہ ڈویژن کو تفصیل فراہم کرنے اور ویب سائٹ پر بھی شائع کرنے کا حکم دیا۔ جس کو کابینہ ڈویژن نے 10 ستمبر 2021 کو ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

فیصلہ چیلنج کرنے کے دس دن بعد 10 ستمبر 2021 کو عمران خان نے توشہ خانہ سے لیا جانیوالا گفٹ اپنی ٹیکس ریٹرنز میں ظاہر کر دیا جس کی مالیت 11.68 ملین روپے ظاہر کی۔

With thanks to Fact Focus.

عمران خان نے اپنی ٹیکس ریٹرنز ہمیشہ لیٹ داخل کیں لیکن 2021 کی ٹیکس ریٹرنز ستمبر میں ہی جمع کروا دیں جس میں توشہ خانہ سے لیا جانے والا “تحفہ” ظاہر کر دیا

With thanks to Fact Focus.

With additional reporting and translation by Lawliga.

Reach out to him @Lawliga.

TT Business Desk

Economy, markets and business news from The Thursday Times' business desk.

More from this desk

The conversation

Comments are open on this story. An editor reads every one before it appears.

No one has said anything yet. Be the first.

Published by Thursday Media International thursday.media