spot_img

Columns

Columns

News

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی ملاقات

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی ملاقات، علاقائی پیش رفت و امن اقدامات پر تبادلہ خیال ایرانی صدر نے امریکا ایران مذاکرات کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا۔ فیلڈ مارشل نے خطہ میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کیا۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے

وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں دونوں کے درمیان اہم بات چیت متوقع ہے۔ مسعود پزشکیان صدر آصف زرداری، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گے۔

Pakistan did what many thought impossible as Islamabad MoU enters implementation

Pakistan did what many thought impossible: it helped secure a US-Iran framework that has entered into force and now moves into technical implementation.

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کر دیئے

وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا ایران معاہدے (اسلام آباد مفاہمتی یادداشت) پر بطور ثالث دستخط کر دیئے۔ اسلام آباد ایم او یو پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط بھی موجود ہیں۔ اسلام آباد واشنگٹن اور تہران کے درمیان تسلیم شدہ ثالث کے طور پر اُبھرا ہے۔

Pakistan-brokered Islamabad MoU takes effect after US and Iran sign accord

Shehbaz Sharif says the Islamabad MoU between the United States and Iran has taken immediate effect, with Iran set to reopen the Strait of Hormuz and Washington to lift its naval blockade.
Op-Ed⁨تیری ترقی کی ایسی کی تیسی⁩
spot_img

⁨تیری ترقی کی ایسی کی تیسی⁩

Op-Ed
Op-Ed
Want to contribute to The Thursday Times? Get in touch with our submissions team! Email views@thursdaytimes.com
spot_img

براعظم افریقہ کی جنوب مشرقی ریاست سوڈان میں فوجی آمر جنرل عبدالفاتح عبدالرحمان برحان تختہِ اقتدار پر براجمان ہیں۔فاتح صاحب سوڈان جیسا قدرتی معدنیات سے مالامال ملک کو فتح تو کر چکے مگر سوڈانیوں کی غربت کی لکیر کو فتح کرنے سے ناکام ہیں۔

فتح صاحب کی سوڈان انتہائی غربت کے شکار ہیں۔ اس بات سے قطعِ نظر کہ سوڈان میں آئل،کاٹن،ٹیکسٹائل،پٹرول،چینی،سیمنٹ کی کارخانے چلتے ہیں،سالانہ بلین ڈالرز برآمد بھی کیے جاتے ہیں۔

یہ پٹرول کی پیداوار،سیمنٹ میں مشقت کی کمائی جاتی کہاں ہے وہ ہم نہیں جانتے مگر گتّے پر دس والا کاپی کا ایک پیج ٹانگ پہ چھپاکے لکھنے والے کو صرف اتنا پتہ ہے کہ سوڈان کی غربت کی لکیر آخری پتھر پہ دہائیاں دے رہا ہے۔۔کہ ہماری غربت چیالیس اعشیاریہ پانچ فیصد سے تو کم کی جائی۔۔ہم کاشت کاری کی مد میں دیش کو 39 فیصد جی ڈی پی دیتے ہیں اور کارخانوں کی مد میں دیش کی بجٹ کو2.6 میں ہم نے پہنچایا۔

افریقہ کی سائے تلے نائیجریا نامی ایک ریاست غربت کی مرض میں انتہائی نگہداشت کی وارڈ میں داخل ہے۔نائیجریا کی جیب میں چالیس قسم کے معدنیات موجود ہیں،جن میں سونا بھی ہے سلور،آئرن،ماربل اور لیتیھم بھی۔۔۔

نائیجریا میں کرپشن کچھ خاص نہیں،بس ورلڈ انڈیکس نے عالمی سازش کے تحت دنیا کے 180 ممالک کی فہرست میں سے 154 نمبر سونپ دیا گیا ہے اور نائیجریا کی 90 ملین غربت کی مرض میں مبتلا ہیں اور یہ اعداد ملک کی 45 فیصد آبادی کو کور کرتی ہے۔۔

ہے تو ترقی پسند کانگریس کی حکومت اور چلا رہے ہیں محمد بوہاری۔۔۔ترقی پسند کانگریس کی ترقی کہاں چل رہا ہے میرے علم میں نہیں مگر نائیجریا کی بیروزگاری 50 فیصد لوگوں کو اپنی گرفت میں کس کے پکڑ چکی ہے۔۔

براعظم افریقہ کی سیر کے بعد اب تھوڑی بات جنوبی ایشیا میں ہندوستان،چین اور ایران کے ہمسایہ ملک،بحرِ عرب کے ساحلی قربت کے حامل اسلامی جمہوریہ پاکستان کی صوبہ بلوچستان کی بات نہ ہو،داستان ادھوری رہ جاتی ہے۔

فرض کریں ریکوڈک کی نئی معاہدہ بلوچستان کو 27 منافعہ دے بھی  سینگاپور بنائے یا سینگاپور میں لے جائے تو بلوچستان کی عام ریڑی والے کی معاشی زندگی میں کیا فرق لائے گا؟

فرض کریں حکومتِ بلوچستان کی دعوی کو مانتے ہیں کہ اس منصوبے سے آٹھ ہزار مقامی لوگوں کو روزگار فراہم کیا جائے گا۔حلانکہ ریکوڈک کی معاہدے پہلی نہیں ہے بلکہ ابھی کے لیے نیا ہے۔۔

مان لیتے ہیں قدوس صاحب سفارشی کلچر کا خاتمہ کرتے ہوئے،جعلی ڈومیسائل کو مسترد کرتے ہوئے نوکرے دے بھی تو یقین جانیں یہ آٹھ ہزار کی نوکریاں مقامی لوگوں کے کرائیٹریا کے پہنچ سے دور ہی ہوتے ہیں،یہ بےروزگار بندے ریکوڈک میں نوکری کی تعلیمی اصولوں میں اترنے کا مجازی ہوتے ہیں۔

ریکوڈک چاہتا ہے ماسٹر کی ڈگری اور چاغی میں انٹر کی ڈگری ہی ملتی ہے۔

ریکوڈک کی معاہدے خفیہ ہے لیکن ہم جمہوری سکے کی دوسری رخ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔۔

اچھا بلوچستان میں حکومت کو اپوزیشن کہہ دیں یا اپوزیشن کو حکومت۔۔۔قدوس صاحب کی حکومت میں قومی مفادات کی کھڑکی میں جانکھنے والے اب ریکوڈک کو استحصالی کہتے ہیں۔۔لوٹ ماری کہتے ہیں۔۔۔

پیر کو اتحادی تھے۔۔منگل کو اپوزیشن میں آ گئے  اور بدھ کو خادمِ بلوچستان کے دائیں جانب کے سوپے پہ لمبی سانسیں لیتے رہے۔۔

اب ہوٹل میں چائے کی محفل میں دیوانِ سیاست کے عظیم مفکر،سیاستدان کبھی بلوچستان کو سوڈان کی بلاک میں باندھنے کی کوشش کرتے اور کبھی نائیجریا کی مثالوں سے ہوٹل کے باقی سیاستدانوں کو دلیلِ منطق پیش فرما رہے تھے۔

اب اسی نظارے کو ہوٹل کے بائیں جانب مشہور،سندھ بلوچستان لذیذ قلفی کے مشتاق ریڑھی والا دیکھ بھی رہے تھے اور سُن بھی۔۔جمعہ کی دوسری آذان کے بعد مشتاق صاحب اپنے مخصوص انداز سے ریڑھی کو مسجد کے دیوال پہ لگا کے،نماز کی نیت سے قضاِ حاجت سے فارغ ہونے کے بعد،وضو کے لیے آستینوں کو اوپر ہی کر رہے تھے کہ ان کی منہ سے بلا جھجک آواز نکلی کہ “تیری ترقی کی ایسی کی تیسی”


The contributor, Yousuf Baloch, specialises in the discussion of human rights violations worldwide.

Reach out to him @YousufBaluch1.

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.