spot_img

Columns

Columns

News

موڈیز نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں اضافہ کر دیا، بلومبرگ

موڈیز نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو سی اے اے 1 سے بڑھا کر بی 3 کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق مسلسل معاشی استحکام سے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ہوا، بیرونی مالی خطرات میں کمی آئی، شرحِ سود میں کمی سے مالیاتی پوزیشن بہتر ہوئی، قرض ادائیگی کی استطاعت بڑھ گئی۔

Asim Munir returns to Tehran to mediate US-Iran war

Field Marshal Asim Munir traveled to Tehran on Monday for his third visit this year, meeting Iran's newly appointed military leadership as Pakistan works to revive stalled US-Iran talks. Iran's Foreign Ministry says bilateral ties between the two countries have reached one of their strongest stages.

Asim Munir to visit Tehran again as Pakistan mediates

Pakistan's Army Chief Asim Munir will travel to Tehran on Monday, Iran's Foreign Ministry says, in his third visit this year tied to US-Iran mediation efforts.

Supreme Court directs transfer of Imran Khan to Shifa International Hospital

The Supreme Court has ordered the transfer of Imran Khan from Adiala Jail to Shifa International Hospital for medical assessment and treatment, while directing that his health condition should not be used for political activity or media campaigning.

Saudi Arabia, Turkey and Pakistan sign Makkah Joint Defence Agreement

Saudi Arabia, Turkey and Pakistan have signed the Makkah Joint Defence Agreement at Al-Safa Palace, a trilateral pact under which an armed attack against any one of the three states will be regarded as an attack against them all.
Op-Edالزامات کی سیاست اور پاکستان تحریک انصاف
spot_img

الزامات کی سیاست اور پاکستان تحریک انصاف

Op-Ed
Op-Ed
Want to contribute to The Thursday Times? Get in touch with our submissions team! Email views@thursdaytimes.com
spot_img

گزشتہ روز پی ٹی آئی کی مین قیادت خاص طور پر لبرل متصور ہوتی شیریں مزاری’ مفتاح اسماعیل کے ایک بیان پر توہینِِ مذہب کا الزام لگاتی نظر آئیں۔ یہ کہنا بالکل غیر ضروری ہو گا کہ مفتاح نے توہینِ مذہب کی یا نہیں کیونکہ جو پی ٹی آئی کی نفسیات سے واقف ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی سیاست الزام الزام اور صرف الزامات سے منور ہے۔ پی ٹی آئی کے پاس نہ تو کوئی کارکردگی ہے، نہ کوئی بیانیہ اور نہ کوئی نظریہ ہی باقی بچا ہے۔ پونے چار سال کے اقتدار نے پی ٹی آئی کے ہر دعوے کے غبارے میں سے ہوا نکال دی ہے۔ پی ٹی آئی اچھی طرح جانتی ہے کہ نہ تو وہ ن لیگ کی طرح اپنی کارکردگی بیان کر سکتے ہیں، نہ کوئی نظریہ باقی بچا ہے اور نہ ہی انہوں نے اقتدار میں آنے سے پہلے جو الزامات لگائے تھے ان میں سے کوئی الزام ثابت ہوا ہے۔ سب سے بڑھ کر ان کے پاس کوئی بھی اتنا قابل معاشی ماہر نہیں ہے جو مفتاح اسماعیل کا مقابلہ کر سکے تو اس کا حل یہی تھا کہ مفتاح کے ایک مبنی بر حقیقت بیان کو لے کر توہین مذہب کا الزام لگا دیا جائے اور یہی انہوں نے کیا۔ اب افسوس تو ن لیگ سوشل میڈیا اور پارٹی قیادت پر ہوا کہ بجائے اس کے کہ مفتاح اسماعیل کے بیان کو لے کر پی ٹی آئی کے قول و فعل کے تضاد کو واضح کرتے وہ مفتاح اسماعیل کی الزام پسندی اور مذہب سے عقیدت کی صفائیاں دیتے نظر آئے اور یقینی طور پر اسے پی ٹی آئی کی کامیابی ہی کہا جائے گا۔

ن لیگ اپوزیشن میں تھی تو تب بھی ہروقت صفائیاں ہی دیتی رہتی تھی۔ اب حکومت میں ہیں تو تب بھی یہی حال ہے۔ عمران خان پہلے بھی آپ پر الزام لگاتا رہتا تھا اور اب بھی الزامات لگا رہا ہے۔ کبھی چور، کبھی کرپٹ، کبھی غدار اور کبھی توہینِ رسالت و مذہب کے الزامات اور سازشی تھیوری۔ آخر آپ  اٹیکنگ پوزیشن کیوں نہیں لیتے؟ اب تو ن لیگی قیادت سے یہ سوال کرنا بھی بےمعنی لگنے لگا ہے کیونکہ اثر ان پر ذرا نہیں ہوتا۔ ویسے تو سیانے کہتے ہیں کہ الزام وہی لگاتا ہے جو کچھ کر نہیں سکتا؛ وہ مصور والی کہانی تو آپ نے سنی ہی ہو گی جس نے ایک بہترین شاہکار تصویر بنا کر شہر کے مین بازار کے چوراہے میں لگا دی تھی اور سب کو تصویر کے نقص نکالنے کی دعوت دی تھی اور ساری تصویر نشانات سے بھر گئی تھی۔۔۔

اب پی ٹی آئی کے پونے 4 سال دور سے یہ بات تو ثابت ہو گئی ہے؛ کہ یہ صرف الزامات ہی لگا سکتے ہیں۔ پہلے اپوزیشن میں تھے تو الزام لگاتے تھے، پھر حکومت میں آئے تو الزامات لگاتے رہے حالانکہ حکومت میں آنے کے بعد ان کی وہی پوزیشن تھی جو مصور نے آخری حربے کے طور پر استعمال کی کہ تصویر میں جہاں جہاں کوئی خرابی ہے تو اسے درست کر دیں تو تصویر پر کوئی۔ نشان نہیں لگا اور وہ بےداغ رہی۔ اسی طرح پی ٹی آئی نہ تو کوئی الزام ثابت کر سکی اور نہ ہی جو جو خرابیاں انہیں نظر آتی تھیں ان میں کوئی بہتری لا سکی بلکہ اُلٹا ملک کو مزید خرابیوں کا شکار کر دیا۔ پونے چار سال پی ٹی آئی اقتدار کے جھولے میں جھولتی رہی اور حال یہ ہے کہ جب کسی خرابی، معاشی بدحالی یا عوامی مسائل پر سوال کیا جاتا تو آگے سے جواب ملتا کہ پچھلی حکومتوں کا قصور ہے۔ چلیں پچھلی حکومتوں کا قصور ہو گا لیکن آپ کوئی ایک خرابی تو دور کر کے دکھاتے؛ آخر سیم پیج کے بھاری بھرکم مینڈیٹ اور زعم کے ساتھ اقتدار پر مسلط تھے لیکن نکما پن، نالائقی اور نااہلی امڈ امڈ کر سامنے آتی رہی اوپر سے کرپشن کا تڑکہ بھی لگا رہا۔ اب یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں کہ کرپشن کون کونسے شعبوں میں کی گئی؟

اور اب جب کہ اقتدار سے نکالا جا چکا ہے تو پھر الزامات تماشا شروع ہے۔ لیٹر گیٹ سے شروع ہونے والی سازش کہانی غداری سے ہوتی ہوئی توہینِ مذہب تک پہنچ چکی ہے۔ یہ پی ٹی آئی کا مخصوص ہتھکنڈا ہے کہ اتنے الزامات لگاؤ کہ مخالفین صفائیاں ہی دیتے رہیں اور ان کی اپنی بداعمالیوں اور ناقص کارکردگی کی طرف توجہ ہی نہ جائے اور وہ اپنے اس ہتھکنڈے میں ہمیشہ کامیاب بھی رہتے ہیں۔ آج مین سٹریم میڈیا کا کوئی پروگرام اٹھا کر دیکھ لیں اس پروگرام میں بات سازش، خط اور ان الزامات پر ہی ہوتی ہے جو پی ٹی آئی اور عمران خان لگاتے ہیں۔ کوئی ان سے ان کی چار سال کی کارکردگی کے بارے میں سوال کرتا نظر نہیں آتا۔ جبکہ پوچھنا تو یہ بنتا ہے کہ 21ارب کے ریزروز، 6.1 جی پی اے، 4فیصد انفلیشن، 106 کے ڈالر، آئی ایم ایف فری اور 65 روپے پیٹرول کے ساتھ ملنے والے ملک کے ساتھ انہوں نے ایسا کیا کیا کہ چار سال میں گروتھ ریٹ 1.6، انفلیشن 12فیصد، ڈالر 184، پیٹرول 160، ریزروز میں صرف سعودی عرب، قطر اور دبئی سے ملنے والا قرض اور آئی ایم ایف کی لٹکتی تلوار ہی آنے والی حکومت کا مقدر بنی ہے۔ گورنس کے معاملات اور اداروں میں جو تباہی پھیری گئی وہ الگ سے ایک مضمون ہے۔ لیکن یہاں یہ سوال اٹھائے کون؟ نو منتخب اتحادی حکومت کو ملک کی معاشی صورتحال بہتر کرنے کی فکر ہے جبکہ تماش بین ہجوم اور ریٹنگ کے پیچھے سرپٹ دوڑتے میڈیا کے لیے ان سنجیدہ سوالات میں چسکہ فروشی کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ تو بس پھر الزامات کا جو تھیٹر اور سازش سازش کی جو دھن پی ٹی آئی نے تیار کر دی ہے اس کی لے پر سب ناچتے جائیں اور عوام کو مزید انتشار، ہیجان اور پراگندگی کا شکار کرتے جائیں۔


The contributor, Naddiyya Athar, has an M.A. in Urdu Literature and a B.Ed. She has experience teaching at schools and colleges across Pakistan. She specialises in the discussion of the ever-changing political landscape in Pakistan.

Reach out to her @naddiyyaathar.

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.