بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیاء میں امن و استحکام کی بنیاد ہے۔ بھارت معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کر کے دوطرفہ دیرینہ تنازع کو مزید گہرا کر رہا ہے۔
روسی ماہرِ بین الاقوامی امور ڈاکٹر روکسولانا زیگون
PIA has formally entered private management under PIA Equity Ltd following a Rs125 billion equity injection, completing the first financial close of one of Pakistan's largest privatisation transactions.
سیکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد کے دونوں جانب زمینی و فضائی کارروائیوں میں 29 خارجی دہشتگرد ہلاک کر دیئے۔ وزیرِ اطلاعات کے مطابق باجوڑ میں انٹیلیجنس آپریشنز کے دوران 4 جبکہ صوبہ پکتیکا، پکتیکا اور کنڑ میں کارروائیوں کے دوران 25 دہشتگرد ہلاک کیے گئے ہیں۔
ISPR says three terrorists were killed and one injured Afghan national was captured after a Karachi Rangers camp attack in which three soldiers were martyred.
Bangladesh’s reported interest in Chinese J-10CE jets could mark a new phase in South Asia’s airpower competition, placing fresh strategic pressure on India.
محنت کامیابی کی کنجی ہوتی ہے یہ تو ہمیشہ سے سنتے آرہے ہیں لیکن کامیابی کی اصل کنجی فیض یابی ہوتی ہے یہ نہ سنا نہ دیکھا تھا لیکن جس دورمیں ہم جی رہے ہیں اس دور میں نہ صرف سن لیا بالکہ دیکھ بھی لیا۔
کہتے ہیں محنت کر حسد نہ کرلیکن یہ محاورہ بھی اس دور میں اپنا معنی کھوتا نظر آرہا ہے اورلگتا ہے اس کو یوں ہونا چاہیے
فیض یاب ہو حسد نہ کر
:کسی شاعر نے کہا ہے کہ
محنت سے مل گیا جو سفینے کے بیچ تھا
:لیکن اب اس شعر کو شاعر سے معذرت کے بعد یوں ہونا چاہیے کہ
فیض یابی سے مل گیا جودارالحکومت کے بیچ تھا
سنتے تھے کہ محنت میں عظمت ہوتی ہے لیکن اب تک توفیض یابی میں ہی عظمت بھی اور کامیابی بھی نظر آتی رہی اور شاید اسی فیض یابی کے صلہ میں بینیفٹ آف ڈاوٹ یعنی شک کا فائدہ دیا جاتا رہا ہے۔
حالیہ دنوں کے گئے لانگ مارچ کےموقع پر جب کیس سپریم کورٹ گیا تو سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کے پہلے صفحے کے پہلے پیراگراف میں لکھا کہ تحریک انصاف کہاں جلسہ کرسکتی ہے اور جب فیصلہ آگیا تو عمران خان نے فیصلے کی تعریف تو کردی لیکن بعد میں اپنے کارکنان کو کہا کہ ڈی چوک پہنچولیکن بجائے عمران خان کیخلاف کوئی کاروائی کی جانتی انکوعدالت کی جانب سےیہ کہہ ک بینیفٹ آف ڈٓاوٹ دے دیا گیا کہ شاید ان تک ہمارا پیغام درست طریقہ سے نہیں پہنچا جبکہ اسکے برعکس ماضی میں وزرا اعظم کو بینیفٹ آف ڈاوٹ کیا ملتا انکو الٹا انکے عہدوں سے ہی ہٹا دیا گیا۔
مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کو اسوجہ سے وزیراعظم کی کرسی سے ہٹا دیا گیا بالکہ تاحیات نااہل کردیا گیا کیونکہ انہوں نے اپنے بیٹے سے وہ تنخواہ جو وصول ہوسکتی تھی نہیں لی اور تنخواہ نہ لینے پر بینیفٹ آف ڈاوٹ نہیں دیا بالکہ کہا گیا کہ کہ بلیک لا ڈکشنری کیمطابق یہ قابل وصول تنخواہ بنتی تھی اسلیے آپ کو تاحیات ڈسکوالیفائی کیا جاتا ہے۔
پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو اس بات پر وزرات عظمی سے ہٹادیا گیا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے کہنے پر خط نہیں لکھا تھا انکو بینیفٹ آف ڈاوٹ دینے کا خیال کسی کو نہ آیا۔
عمران خان کو ایک بار نہیں بالکہ بار بار بینیفٹ آف ڈاوٹ دیا جاتا رہا بالکہ اب دیا جا رہا ہے عمران خان کی ایک آفشور کمپنی جو ڈکلئیر نہیں کی گئی تھی جس میں انہیں کرائے کی رقم بھی آتی تھی لیکن بجائے انکے خلاف کوئی کاروائی کرنے کے انہیں بینیفٹ آف ڈاوٹ دے دیا گیا۔
سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے میڈیا پربار بار آکر کہا کہ عمران خان نے بطور وزیراعظم انہیں سامنے بٹھا کر کہا کہ تم نے مریم نواز شہبازشریف خواجہ آصف اور دیگر کے خلاف کاروائی کرنی ہے لیکن اسوقت کسی عدالت کو اس پر سوموٹو یا کاروائی کرنے کا یاد نہیں آیا بینیفٹ آف ڈاوٹ شک کا فائدہ عمران خان کو دیا گیا۔
چئیرمین نیب کی وڈیو سامنے آئی اور پھر سب نے دیکھا کہ وہ کیسے بلیک میل ہوئے ان سے مخالفین کیخلاف کیسے کیسے کیسز بنوائے گئے تحریک انصاف کیخلاف کیسے کیسز ختم ہوتے گئے لیکن اس پرکسی عدالت کی جانب سے کوئی ایکشن نہیں لیا گیا کوئی سوموٹو نہ ہوا بالکہ بینیفٹ آف ڈاوٹ دیا جاتا رہا لیکن اب جب یہ حکومت آئی تو فوری عدالت نے سوموٹو لیا اور ٹرانسفرز اورتقرریوں سے حکومت کوروک دیا کوئی بینیفٹ آف ڈاوٹ نہ دیا گیا۔
ماضی میں تو سیاستدانوں کو صرف ایک تقریر کرنے پر بجائے بینیفٹ آف ڈاوٹ دینے کے انکو الٹا نااہل قرار دے دیا گیا لیکن جب فیض یابی کا دست شفقت سرہرچھتر چھایہ موجود ہو توہر قسم کا بینیفٹ آف ڈاوٹ دینے دلانے کا کام تسلی بخش طریقہ سے کیا جاتا ہے۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔