spot_img

Columns

Columns

News

Saudi Arabia, Turkey and Pakistan sign Makkah Joint Defence Agreement

Saudi Arabia, Turkey and Pakistan have signed the Makkah Joint Defence Agreement at Al-Safa Palace, a trilateral pact under which an armed attack against any one of the three states will be regarded as an attack against them all.

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی ”مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ“ پر دستخط کر دیئے

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ دفاعی، عسکری اور تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں

پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات جولائی 2026 میں پہلی مرتبہ 1.833 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین ماہانہ سطح ہے۔ صرف ایک ماہ میں 43 فیصد اضافے کے ساتھ ٹیکسٹائل شعبہ نئے مالی سال کے آغاز میں بھی پاکستان کی برآمدی معیشت کا سب سے بڑا ستون بن کر سامنے آیا۔

Pakistan’s textile exports hit record $1.83 billion in a single month

Pakistan's textile exports reached $1.833 billion in July, the highest monthly figure on record, up 43 percent from June and 9.11 percent on the same month last year. Total exports rose 10 percent to $2.96 billion, with textiles the clear driver.

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ریاض میں اہم دفاعی معاہدہ آج متوقع

ریاض (تھرسڈے ٹائمز) — سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ...
Opinionعامر لیاقت کی موت سے سیکھیں
spot_img

عامر لیاقت کی موت سے سیکھیں

بے شک، تمھارے رب کی پکڑ بہت سخت ہے"۔"

Hammad Hassan
Hammad Hassan
Hammad Hassan has been a columnist for over twenty years, and currently writes for Jang.
spot_img

دین کے حوالے سے اس کا مطالعہ بھی اچھا تھا. گفتگو کا ہنر بھی کمال کا تھا۔ خوش شکل بھی تھے اور خوش لباس بھی۔ اس کے والد مرحوم لیاقت حسین مسلم لیگ پیر پگارا گروپ سے وابستہ رہے تھے اور پیر پگارا سے شاہ احمد نورانی جیسے سیاسی زعماء سے اس کی دوستیاں بھی رہی تھیں۔ عامر لیاقت کی والدہ جنرل ضیاء کی مجلس شوری کی رکن بھی رہیں۔ اس کی ایک اور خوش قسمتی یہ رہی کہ وہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پلے بڑھے۔ جہاں طاقتور اور با اثر میڈیا کے ہیڈ کوارٹر بھی تھے۔ اسی پس منظر نے عامر لیاقت کو تعلیم اعتماد اور گفتگو کی مہارت کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنے اور شہرت سمیٹنے کے مواقع بھی فراہم کئے۔

لیکن جوں ہی اسے دولت اور شہرت کی برق رفتار لہر نے اٹھا لیا تو وہ اپنے تہذیبی مدار سے تیزی کے ساتھ نکلنے اور اپنا توازن کھونے لگا۔ اب وہ کبھی اینکر بن جاتا تو کبھی عالم دین کبھی ماڈل بنتا تو کبھی مسخرہ۔ سیاسی چھلانگیں مارتا ہوا کبھی ایم کیو ایم میں گھستا تو کبھی پرویز مشرف کا پیروکار بنتا۔ اشارہ پاتے ہی پی ٹی آئی کا رخ کرتا اور پھر اسی پی ٹی آئی اور عمران خان پر لعن طعن کرتا ہوا دوسری طرف چھلانگ مارتا۔ روز اپنا گھر سجاتا بھی اور روز اس گھر کو اجاڑتا بھی۔ سچ بات تو یہ ہے کہ اس دوران عامر لیاقت طوطا چشمی مفاد پرستی اور بد تمیزی کی علامت بن کر سامنے آیا۔ جوں ہی اسے اشارہ ملتا اور اسے اپنا فائدہ نظر آتا تو وہ بغیر کسی ثبوت اور حقائق اپنے ”ٹارگٹ“ پر ایسا جھپٹ پڑتا کہ خوف خدا سے اقدار و تہذیب تک سب کچھ بھول جاتا؟ کتنی خواتین کے بارے نازیبا گفتگو کی؟ کتنے سیاستدانوں کے کپڑے سر راہ لٹکائے؟ کتنے لوگوں کو سکرین پر بے عزت کیا؟ اور کس کس کے بارے دلآزار گفتگو کی۔ یہ عامر لیاقت کےلئے معمول کے معاملات تھے اور وہ روز روز یہی کچھ کرتا رہا۔

میڈیا اور شوبز کی چکا چوند شہرت کی برستی بارش طاقت کے ایوانوں تک رسائی اور دولت کی فراوانی نے اسے تکبر اور خودسری کے اس مقام تک پہنچا دیا تھا جہاں اسے یہ بھی یاد نہیں رہا کہ ”مہلت“ ختم بھی ہو سکتی ہے۔ اور پھر ایک خالی گھر کی تنہائی اور گھپ اندھیرے میں مہلت کے اختتام کی گھڑی سر پہ آ کھڑی ہوئی تو ایک تنظیم کا بوڑھا رضا کار موبائیل فون کی روشنی میں دھوئیں اور اندھیرے سے بھرے گھر میں اسے بمشکل ڈھونڈ کر اور کندھے پر لاد کر ایمبولنس کی طرف بھاگآ تو عامر لیاقت کا نفس موت کا ذائقہ چکھ رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد آس کی موت خبر پھیلی تو سوشل میڈیا پر مجموعی ردعمل یہی تھا کہ ”آپ سب سے درخواست ھے کہ عامر لیاقت کی خطاوں کو معاف کریں“۔ میں نے لمحہ بھر کو سوچا کہ اسی شہر (کراچی) کا مکین تو عبد الستار ایدھی بھی تھے شہرت انہیں بھی ملی تھی اور موت انہیں بھی آئی تھی۔ پھر یہ درخواست کسی نے کیوں نہیں کی کہ ”ایدھی صاحب کی خطاوں پر انہی معاف کریں“۔ لیکن فورا یاد آیا کہ بات شہرت کی نہیں بلکہ ظرف کی ہوتی ہے۔

عامر لیاقت کی موت سے سیکھیںابھی تھوڑی دیر پہلے ٹی وی چینلوں کو گھمایا تو متکبر گمراہی کے راستے پر سرپٹ دوڑتے اور فرعونی مسلک کے پیروکار سیاستدان بھی دیکھے اور ٹی وی اینکر بھی۔ میں نے زیر لب کہا۔ ان بطش ربک لشدید۔ (بے شک تمھارے رب کی پکڑ بہت سخت ہے)۔

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.