spot_img

Columns

Columns

News

Kuwait signs second defence pact with Pakistan in two months

Kuwait just signed its second defence agreement with Pakistan in two months, part of a Gulf and Middle Eastern network that now spans four countries in under two years: Saudi Arabia, Libya, Türkiye, and now Kuwait twice over. Syria could make it five.

Fire at PIMS nursery in Islamabad kills 14 newborns, one rescued

Fourteen newborns were killed and one rescued in a fire at the PIMS nursery in Islamabad. PM Shehbaz Sharif has ordered an inquiry due to report within 24 hours.

موڈیز نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں اضافہ کر دیا، بلومبرگ

موڈیز نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو سی اے اے 1 سے بڑھا کر بی 3 کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق مسلسل معاشی استحکام سے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ہوا، بیرونی مالی خطرات میں کمی آئی، شرحِ سود میں کمی سے مالیاتی پوزیشن بہتر ہوئی، قرض ادائیگی کی استطاعت بڑھ گئی۔

Asim Munir returns to Tehran to mediate US-Iran war

Field Marshal Asim Munir traveled to Tehran on Monday for his third visit this year, meeting Iran's newly appointed military leadership as Pakistan works to revive stalled US-Iran talks. Iran's Foreign Ministry says bilateral ties between the two countries have reached one of their strongest stages.

Asim Munir to visit Tehran again as Pakistan mediates

Pakistan's Army Chief Asim Munir will travel to Tehran on Monday, Iran's Foreign Ministry says, in his third visit this year tied to US-Iran mediation efforts.
Opinionعامر لیاقت کی موت سے سیکھیں
spot_img

عامر لیاقت کی موت سے سیکھیں

بے شک، تمھارے رب کی پکڑ بہت سخت ہے"۔"

Hammad Hassan
Hammad Hassan
Hammad Hassan has been a columnist for over twenty years, and currently writes for Jang.
spot_img

دین کے حوالے سے اس کا مطالعہ بھی اچھا تھا. گفتگو کا ہنر بھی کمال کا تھا۔ خوش شکل بھی تھے اور خوش لباس بھی۔ اس کے والد مرحوم لیاقت حسین مسلم لیگ پیر پگارا گروپ سے وابستہ رہے تھے اور پیر پگارا سے شاہ احمد نورانی جیسے سیاسی زعماء سے اس کی دوستیاں بھی رہی تھیں۔ عامر لیاقت کی والدہ جنرل ضیاء کی مجلس شوری کی رکن بھی رہیں۔ اس کی ایک اور خوش قسمتی یہ رہی کہ وہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پلے بڑھے۔ جہاں طاقتور اور با اثر میڈیا کے ہیڈ کوارٹر بھی تھے۔ اسی پس منظر نے عامر لیاقت کو تعلیم اعتماد اور گفتگو کی مہارت کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنے اور شہرت سمیٹنے کے مواقع بھی فراہم کئے۔

لیکن جوں ہی اسے دولت اور شہرت کی برق رفتار لہر نے اٹھا لیا تو وہ اپنے تہذیبی مدار سے تیزی کے ساتھ نکلنے اور اپنا توازن کھونے لگا۔ اب وہ کبھی اینکر بن جاتا تو کبھی عالم دین کبھی ماڈل بنتا تو کبھی مسخرہ۔ سیاسی چھلانگیں مارتا ہوا کبھی ایم کیو ایم میں گھستا تو کبھی پرویز مشرف کا پیروکار بنتا۔ اشارہ پاتے ہی پی ٹی آئی کا رخ کرتا اور پھر اسی پی ٹی آئی اور عمران خان پر لعن طعن کرتا ہوا دوسری طرف چھلانگ مارتا۔ روز اپنا گھر سجاتا بھی اور روز اس گھر کو اجاڑتا بھی۔ سچ بات تو یہ ہے کہ اس دوران عامر لیاقت طوطا چشمی مفاد پرستی اور بد تمیزی کی علامت بن کر سامنے آیا۔ جوں ہی اسے اشارہ ملتا اور اسے اپنا فائدہ نظر آتا تو وہ بغیر کسی ثبوت اور حقائق اپنے ”ٹارگٹ“ پر ایسا جھپٹ پڑتا کہ خوف خدا سے اقدار و تہذیب تک سب کچھ بھول جاتا؟ کتنی خواتین کے بارے نازیبا گفتگو کی؟ کتنے سیاستدانوں کے کپڑے سر راہ لٹکائے؟ کتنے لوگوں کو سکرین پر بے عزت کیا؟ اور کس کس کے بارے دلآزار گفتگو کی۔ یہ عامر لیاقت کےلئے معمول کے معاملات تھے اور وہ روز روز یہی کچھ کرتا رہا۔

میڈیا اور شوبز کی چکا چوند شہرت کی برستی بارش طاقت کے ایوانوں تک رسائی اور دولت کی فراوانی نے اسے تکبر اور خودسری کے اس مقام تک پہنچا دیا تھا جہاں اسے یہ بھی یاد نہیں رہا کہ ”مہلت“ ختم بھی ہو سکتی ہے۔ اور پھر ایک خالی گھر کی تنہائی اور گھپ اندھیرے میں مہلت کے اختتام کی گھڑی سر پہ آ کھڑی ہوئی تو ایک تنظیم کا بوڑھا رضا کار موبائیل فون کی روشنی میں دھوئیں اور اندھیرے سے بھرے گھر میں اسے بمشکل ڈھونڈ کر اور کندھے پر لاد کر ایمبولنس کی طرف بھاگآ تو عامر لیاقت کا نفس موت کا ذائقہ چکھ رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد آس کی موت خبر پھیلی تو سوشل میڈیا پر مجموعی ردعمل یہی تھا کہ ”آپ سب سے درخواست ھے کہ عامر لیاقت کی خطاوں کو معاف کریں“۔ میں نے لمحہ بھر کو سوچا کہ اسی شہر (کراچی) کا مکین تو عبد الستار ایدھی بھی تھے شہرت انہیں بھی ملی تھی اور موت انہیں بھی آئی تھی۔ پھر یہ درخواست کسی نے کیوں نہیں کی کہ ”ایدھی صاحب کی خطاوں پر انہی معاف کریں“۔ لیکن فورا یاد آیا کہ بات شہرت کی نہیں بلکہ ظرف کی ہوتی ہے۔

عامر لیاقت کی موت سے سیکھیںابھی تھوڑی دیر پہلے ٹی وی چینلوں کو گھمایا تو متکبر گمراہی کے راستے پر سرپٹ دوڑتے اور فرعونی مسلک کے پیروکار سیاستدان بھی دیکھے اور ٹی وی اینکر بھی۔ میں نے زیر لب کہا۔ ان بطش ربک لشدید۔ (بے شک تمھارے رب کی پکڑ بہت سخت ہے)۔

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.