29.9 C
Islamabad
Sat, 1 October 2022

⁨خوف و کتاب کے بیچ زندگی⁩

تھرسڈے ٹائمز نیوز لیٹر کو سبسکرائب کیجئے

خبریں اور اداریے براہ راست سب سے پہلے اپنی ای میل میں حاصل کریں۔

Your information will be processed in accordance with our data use policy
- Advertisement -

+ other posts

Want to contribute to The Thursday Times? Get in touch with our submissions team! Email views@thursdaytimes.com

بلوچ طلبا کے کیے پاکستان کے بڑے شہروں میں پڑھنا اب خاصہ دشوار ہو چکا ہے۔ اب المیہ یہ ہے یونیورسٹی جانے والے بلوچ طلبا کتاب کو بیگ میں رکھ کر جائے تو لاپتہ ہونے کا خوف پیچھے کرتے ہوئے ہمسفر بن کے جاتا ہے۔ لٹریچر کی رومانوی داستان ہو یا سائنسی علوم سب کچھ خوف کے سائے میں پڑھتا ہے۔ گویا اسلام آباد،پنجاب،شہری سندھ کے بڑے تعلیمی اداروں میں بلوچ کی سلیبس کو رد و بدل کرکے خوف نصاب کا حصہ کیا گیا ہو۔ ہنستے،بستے مسکراتے، چہرے پر خوف کی خدوخال،گھر میں موجود والدین جن کی تنخواہ اور مزدوری سے ان کے بیٹوں کی بڑے شہروں میں داخلہ ممکن ہو گیا تھا اب وہ کسی انجانے میں پریشان ہیں۔ جن کے بچے لاپتہ ہیں وہ پریشان ہی ہیں لیکن جن کے بچے لاپتہ نہیں کیے گئے ہیں وہ بھی پریشانی اور کرب میں مبتلا ہیں۔ لواحقین کا ایک مطالبہ تو شاید یہ ہوگا کہ جناب آپشن تو دو دیجئے۔ یہ اٹھاؤ یا خوف ختم کرو۔ پڑھنے دو یا کراچی،اسلام آباد،لاہور،راولپنڈی چھوڑنے کا سمن دو۔ جب تک سمن نہیں آئی گا۔ وارننگ نہیں ملی گی تب تک چار بلوچ طلبا جدید دنیاوی علوم کے چار سطور حفظ کرنے میں لگے رہیں گے۔ لیکن محدود آپشن نہ پڑھنے دیتا ہے اور نہ ہی جینے۔ یونیورسٹی اور رہائش گاہ میں لاپتہ ہونے کا خوف،ازیت خانوں میں فیک ایف آئی آر کا خوف۔ بے گناہی کا اسیر بننے کا خوف تو سوار ہی سوار ہے دہائیوں سے۔

دونوں اطراف خوف کا یہ عالم کہ اغوا کار بھی نہیں جانتا کہ میں اسے اغوا کیوں کر رہا ہوں۔ مغوی سوچ و بچار میں ہے کہ میں کیوں لاپتہ ہو رہا ہوں۔ لاپتہ کرنے کا کیس بھی کنفیوز ہے کہ کیس ہے ہی نہیں۔ بہرحال عدالت تک معمہ جاتا بھی نہیں ورنہ جج صاحب مغوی و اغواکار کا پہچان بھی نہیں کر سکے۔ کیس وکیل،استغاثہ،پراسکیوٹر،متعلقہ اداروں کا آئیں بائیں شائیں کا منظر الگ،تاریخ پہ تاریخ کی روایتی رواج کا قّصہ اور داستان گوئی الگ۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ یہ سلسلہ کراچی یونیورسٹی پہ مبینہ حملے کے بعد شروع ہوا ہے۔ لیکن یہ تجزیہ بھی آدھا تیتر اور آدھی بٹیر جیسی ہے۔ تیتر یہ کہ کراچی حملے کے بعد اس تسلسل میں کافی تیزی ضرور دیکھی گئی ہے۔ اور بٹیر یہ کہ اس سے پہلے قائداعظم یونیورسٹی میں شعبہ فزکس کا طالبعلم حفیظ بلوچ کو خضدار سے لاپتہ کیا گیا۔ چالیس دن بعد ڈیرہ مراد جمالی پولیس تھانہ لایا تھا ، سنگین الزامات کی روشنی میں آج ڈیرہ مراد جمالی کی سینٹرل جیل میں قید ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان یونیورسٹی کے سہیل اور فصیح بلوچ بلوچستان یونیورسٹی کے ہاسٹل سے اغوا کیے گئے اور تربت یونیورسٹی کے شعبہ بلوچی (پہلی سیمسٹر) کا طالب علم کلیم شریف بھی کراچی حملے سے پہلے لاپتہ کیے گئے ہیں۔ اسی لیے یہ کہنا درست ہوگا کہ یہ سلسلہ کافی پرانا اور طویل ہے جس کی شاخیں چودہ سے پندرہ سالوں میں ملتی ہیں۔ لیکن اس تسلسل کا دوسرا رخ پنجاب اور اسلام آباد میں بلوچ طلبا کی جبری گمشدگی ہیں، جن سے پہلے یہ سلسلہ بلوچستان تک محدود رہتا تھا۔ کراچی میں حکومت ہے پاکستان پیپلز پارٹی کی۔ محترمہ شہید بینظیر سے بلاول تک پی پی نے جو بھی سیاسی طشت از بام دیکھے ہیں، عروج و زوال کی تاریخ دیکھی ہوگی لیکن پی پی کا بلوچی ترانہ “دلاں تیر بجا” ایسی ہی نیا ہے جیسا تیس سال پہلے ہوا کرتا تھا۔ یہ دراصل ایک نعرہ نہیں بلوچ جیالے کی جوش و خروش ہیں بھٹو خاندان پہ۔ پی پی کا گڑھ اگرچہ لیاری ہے اور لیاری ہے بلوچوں کی زمین۔ لیکن کراچی میں ان دنوں جس طرح سے بلوچ طلبا جبری لاپتہ کیے جا ریے ہیں، چند دن پہلے جس طرح سے لاپتہ افراد کی لواحقین کی ریلی پہ پولیس گردی ہوا تھا اور لاپتہ افراد کے لواحقین کو جس طرح پولیس تھانہ لے جایا گیا، وہ بھی بنا کیس کے۔ دونوں واقعات سے لگتا ہے کہ پی پی شاید لیاری کو اپنا سیاسی ووٹ بینک سمجھتا ہے لیکن خیر خواہی کے خواہشات اب دم ہی توڑ رہے ہیں ایسے کہ جیسے مریم نواز شریف کی بطور اپوزیشن سیاستدان کی پی ڈی ایم کوئٹہ جلسے میں لاپتہ افراد کے ساتھ کی گئی یقین دہانیاں۔

سب سے بڑی المیہ یہی ہے کہ بلوچ اپنی تعلیم یافتہ نسل کو بغیر جرم و عدالت، بغیر مدعی و منصف کوٹھڑیوں میں جاتی دیکھ رہی ہے۔ بلوچ کے نظر میں یہ ایک قوم کی شعور پر حملہ ہے اور اس کی کوئی جواز بھی نہیں بنتی۔ بلوچ طلبا سمیت تمام مکاتب فکر کے لوگ ہر روز اپنی صبح کی شروعات ایک نئی نام “سیو بلوچ اسٹوڈنٹس” اور “اسٹاف ہراسنگ بلوچ اسٹوڈنٹس” کی پیش ٹیگ کے ساتھ کرتی آ رہی ہے۔ بلوچ طلبا کو اب کتابوں کے اندر خوف کی تعارف اور سطریں پڑھائی جا رہی ہیں اور بلوچ طلبا کتاب پڑھنے، علم حاصل کرنے لیے بھی خوف محسوس کرتا ہے۔


The contributor, Yousuf Baloch, specialises in the discussion of human rights violations worldwide.

Reach out to him @YousufBaluch1.

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

RELATED ARTICLES

FRESH OFF THE PRESS

ٹرمپ کے گھر چھاپہ کی طرز پر بنی گالہ پر بھی چھاپہ مار کر سائفر برآمد کیا جائے، مریم نواز

جن لوگوں نے عمران خان کے کہنے پر ایبسلیوٹلی ناٹ کے اسٹیکرز لگائے ہوئے تھے انہیں اب عمران خان سے پوچھنا چاہیے اب ان اسٹیکرز کا کیا کرنا ہے

ملک ایک ناہنجار، نااہل اورغدار کے ہاتھوں گروی رکھا گیا، مریم نواز

ن لیگی نائب صدر نے مزید لکھا کہ اگر آج ہر طرح کا سنگین جرم ثابت ہونے کے بعد بھی اس غدار عمران کو عبرت کا نشان نہیں بنایا جاتا تو پھر ملک کی تباہی کا ذمہ دار ہم سب کو سمجھا جائے گا۔

اسحاق ڈار کی واپسی

سینیٹر اسحاق ڈار کی فوری ملک واپسی ہورہی ہے اور وہ آئیندہ چند دنوں میں ملک کے نئے وزیرخزانہ کا حلف اٹھانے جارہے ہیں۔

نظام کی تبدیلی یا سوچ کی تبدیلی

ہم پچھتر سال کے سود و خسارے کا حساب لگانے بیٹھیں تو خسارے کا تناسب سود سے زیادہ ہی ہو گا اور بتدریج یہ خسارہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔

سیلاب، دہشتگردی، اسلاموفوبیا، بھارتی مسلمانوں پر ظلم، شہباز شریف کا اقوام متحدہ میں خطاب

وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں یہاں پر پاکستان پر آئی اس بڑی آفت بارے خود آپ کو بتانے آیا ہوں جس آفت کی وجہ سے پاکستان ایک تہائی پانی کے نیچے ہے۔

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

ہم نازک دور سے گزر رہے ہیں

جب سے ہوش سنبھالا ہے ہمیشہ یہی سنا ہے کہ "پاکستان تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔" پھر جب پڑھنے پڑھانے سے واسطہ پڑا تو پتہ چلا کہ ہمارے والدین نے بھی ایسے ہی دور میں ہوش سنبھالا تھا جب "پاکستان تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا تھا۔"

مہنگائی کا جن بوتل میں بند کیا جاسکتا ہے، اسحاق ڈار

مسلم لیگ ن کے رہنما سابق وزیرخزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ بجائےاسکے ہمارا سارا فوکس معیشت مہنگائی پر ہو ہم ایکسٹینشن جیسی چیزوں میں الجھے ہوئے ہیں جس پر اتنا وقت صرف کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے کہ ایکسٹینشن دینی ہے نہیں دینی مانگی جائیگی یا نہیں یہ ساری ذمہ داری حکومت کی ہے جب وقت آئیگا حکومت فیصلہ کر لے گی

لز ٹرس برطانیہ کی تیسری خاتون وزیراعظم بننے جارہی ہیں

لزٹرس نے برطانوی ٹوری جماعت کی قیادت کا مقابلہ جیت لیا ہے اور وہ اب ٹوری پارٹی کی نئی رہنما اور اگلی برطانوی وزیراعظم ہونگی لز ٹرس نے ٹوری پارٹی کی قیادت کیلئے رشی سوناک کو شکست دے دی ہے۔

آئی ایم ایف رپورٹ تحریک انصاف حکومت کیخلاف کھلی چارج شیٹ ہے، اسحاق ڈار

پاکستان کی تاریخ میں میں آئی ایم ایف کا پروگرام صرف ایک مرتبہ کامیابی سے مکمل ہوا جو میاں نواز شریف کی آخری حکومت میں بطور وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کیا تھا