Columns

Columns

News

تحریکِ انصاف نے آئی ایم ایف کو خط لکھ دیا، نیوز ایجنسی رائٹرز

تحریکِ انصاف نے آئی ایم ایف کو خط لکھ کر پاکستان کے ساتھ معاہدہ کو عام انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات اور سیاسی استحکام سے مشروط کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

بینک آف امریکا نے پاکستان کے ڈالر بانڈز کا درجہ بڑھا کر ہیوی ویٹ کرنے کی تجویز دے دی، جریدہ بلومبرگ

بینک آف امریکا نے پاکستان کا درجہ مارکیٹ ویٹ سے بڑھا کر ہیوی ویٹ کرنے کے تجویز دے دی، پاکستان میں عام انتخابات نے سیاسی بےیقینی کو کم کیا جس سے پاکستان کے ڈالر بانڈز میں عالمی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے۔

عمران خان اور بشریٰ بی بی پر 190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس میں فردِ جرم عائد کر دی گئی

اڈیالہ جیل راولپنڈی میں احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس میں سابق چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر فردِ جرم عائد کر دی، ملزمان کا صحتِ جرم سے انکار، سماعت 6 مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔

قومی اسمبلی کا اجلاس 29 فروری کو صبح 10 بجے ہو گا

صدر عارف علوی کے انکار کے بعد قومی اسبملی سیکرٹریٹ نے قومی اسمبلی کا اجلاس 29 فروری کو صبح 10 بجے بلا لیا۔

مریم نواز شریف پنجاب کی پہلی خاتون وزیرِ اعلٰی منتخب ہو گئیں

رف مسلم لیگ (ن) کی وزیرِ اعلٰی نہیں ہوں بلکہ پنجاب کے 12 کروڑ عوام کی وزیرِ اعلٰی ہوں، میرے دل میں کسی کیلئے انتقام کا جذبہ نہیں ہے، مجھے اس میں آپ سب کا ساتھ چاہیے، انشاءاللّٰه ہم ایک بہتر پنجاب بنائیں گے۔
Op-Ed⁨خوف و کتاب کے بیچ زندگی⁩

⁨خوف و کتاب کے بیچ زندگی⁩

Op-Ed
Op-Ed
Want to contribute to The Thursday Times? Get in touch with our submissions team! Email views@thursdaytimes.com
spot_img

بلوچ طلبا کے کیے پاکستان کے بڑے شہروں میں پڑھنا اب خاصہ دشوار ہو چکا ہے۔ اب المیہ یہ ہے یونیورسٹی جانے والے بلوچ طلبا کتاب کو بیگ میں رکھ کر جائے تو لاپتہ ہونے کا خوف پیچھے کرتے ہوئے ہمسفر بن کے جاتا ہے۔ لٹریچر کی رومانوی داستان ہو یا سائنسی علوم سب کچھ خوف کے سائے میں پڑھتا ہے۔ گویا اسلام آباد،پنجاب،شہری سندھ کے بڑے تعلیمی اداروں میں بلوچ کی سلیبس کو رد و بدل کرکے خوف نصاب کا حصہ کیا گیا ہو۔ ہنستے،بستے مسکراتے، چہرے پر خوف کی خدوخال،گھر میں موجود والدین جن کی تنخواہ اور مزدوری سے ان کے بیٹوں کی بڑے شہروں میں داخلہ ممکن ہو گیا تھا اب وہ کسی انجانے میں پریشان ہیں۔ جن کے بچے لاپتہ ہیں وہ پریشان ہی ہیں لیکن جن کے بچے لاپتہ نہیں کیے گئے ہیں وہ بھی پریشانی اور کرب میں مبتلا ہیں۔ لواحقین کا ایک مطالبہ تو شاید یہ ہوگا کہ جناب آپشن تو دو دیجئے۔ یہ اٹھاؤ یا خوف ختم کرو۔ پڑھنے دو یا کراچی،اسلام آباد،لاہور،راولپنڈی چھوڑنے کا سمن دو۔ جب تک سمن نہیں آئی گا۔ وارننگ نہیں ملی گی تب تک چار بلوچ طلبا جدید دنیاوی علوم کے چار سطور حفظ کرنے میں لگے رہیں گے۔ لیکن محدود آپشن نہ پڑھنے دیتا ہے اور نہ ہی جینے۔ یونیورسٹی اور رہائش گاہ میں لاپتہ ہونے کا خوف،ازیت خانوں میں فیک ایف آئی آر کا خوف۔ بے گناہی کا اسیر بننے کا خوف تو سوار ہی سوار ہے دہائیوں سے۔

دونوں اطراف خوف کا یہ عالم کہ اغوا کار بھی نہیں جانتا کہ میں اسے اغوا کیوں کر رہا ہوں۔ مغوی سوچ و بچار میں ہے کہ میں کیوں لاپتہ ہو رہا ہوں۔ لاپتہ کرنے کا کیس بھی کنفیوز ہے کہ کیس ہے ہی نہیں۔ بہرحال عدالت تک معمہ جاتا بھی نہیں ورنہ جج صاحب مغوی و اغواکار کا پہچان بھی نہیں کر سکے۔ کیس وکیل،استغاثہ،پراسکیوٹر،متعلقہ اداروں کا آئیں بائیں شائیں کا منظر الگ،تاریخ پہ تاریخ کی روایتی رواج کا قّصہ اور داستان گوئی الگ۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ یہ سلسلہ کراچی یونیورسٹی پہ مبینہ حملے کے بعد شروع ہوا ہے۔ لیکن یہ تجزیہ بھی آدھا تیتر اور آدھی بٹیر جیسی ہے۔ تیتر یہ کہ کراچی حملے کے بعد اس تسلسل میں کافی تیزی ضرور دیکھی گئی ہے۔ اور بٹیر یہ کہ اس سے پہلے قائداعظم یونیورسٹی میں شعبہ فزکس کا طالبعلم حفیظ بلوچ کو خضدار سے لاپتہ کیا گیا۔ چالیس دن بعد ڈیرہ مراد جمالی پولیس تھانہ لایا تھا ، سنگین الزامات کی روشنی میں آج ڈیرہ مراد جمالی کی سینٹرل جیل میں قید ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان یونیورسٹی کے سہیل اور فصیح بلوچ بلوچستان یونیورسٹی کے ہاسٹل سے اغوا کیے گئے اور تربت یونیورسٹی کے شعبہ بلوچی (پہلی سیمسٹر) کا طالب علم کلیم شریف بھی کراچی حملے سے پہلے لاپتہ کیے گئے ہیں۔ اسی لیے یہ کہنا درست ہوگا کہ یہ سلسلہ کافی پرانا اور طویل ہے جس کی شاخیں چودہ سے پندرہ سالوں میں ملتی ہیں۔ لیکن اس تسلسل کا دوسرا رخ پنجاب اور اسلام آباد میں بلوچ طلبا کی جبری گمشدگی ہیں، جن سے پہلے یہ سلسلہ بلوچستان تک محدود رہتا تھا۔ کراچی میں حکومت ہے پاکستان پیپلز پارٹی کی۔ محترمہ شہید بینظیر سے بلاول تک پی پی نے جو بھی سیاسی طشت از بام دیکھے ہیں، عروج و زوال کی تاریخ دیکھی ہوگی لیکن پی پی کا بلوچی ترانہ “دلاں تیر بجا” ایسی ہی نیا ہے جیسا تیس سال پہلے ہوا کرتا تھا۔ یہ دراصل ایک نعرہ نہیں بلوچ جیالے کی جوش و خروش ہیں بھٹو خاندان پہ۔ پی پی کا گڑھ اگرچہ لیاری ہے اور لیاری ہے بلوچوں کی زمین۔ لیکن کراچی میں ان دنوں جس طرح سے بلوچ طلبا جبری لاپتہ کیے جا ریے ہیں، چند دن پہلے جس طرح سے لاپتہ افراد کی لواحقین کی ریلی پہ پولیس گردی ہوا تھا اور لاپتہ افراد کے لواحقین کو جس طرح پولیس تھانہ لے جایا گیا، وہ بھی بنا کیس کے۔ دونوں واقعات سے لگتا ہے کہ پی پی شاید لیاری کو اپنا سیاسی ووٹ بینک سمجھتا ہے لیکن خیر خواہی کے خواہشات اب دم ہی توڑ رہے ہیں ایسے کہ جیسے مریم نواز شریف کی بطور اپوزیشن سیاستدان کی پی ڈی ایم کوئٹہ جلسے میں لاپتہ افراد کے ساتھ کی گئی یقین دہانیاں۔

سب سے بڑی المیہ یہی ہے کہ بلوچ اپنی تعلیم یافتہ نسل کو بغیر جرم و عدالت، بغیر مدعی و منصف کوٹھڑیوں میں جاتی دیکھ رہی ہے۔ بلوچ کے نظر میں یہ ایک قوم کی شعور پر حملہ ہے اور اس کی کوئی جواز بھی نہیں بنتی۔ بلوچ طلبا سمیت تمام مکاتب فکر کے لوگ ہر روز اپنی صبح کی شروعات ایک نئی نام “سیو بلوچ اسٹوڈنٹس” اور “اسٹاف ہراسنگ بلوچ اسٹوڈنٹس” کی پیش ٹیگ کے ساتھ کرتی آ رہی ہے۔ بلوچ طلبا کو اب کتابوں کے اندر خوف کی تعارف اور سطریں پڑھائی جا رہی ہیں اور بلوچ طلبا کتاب پڑھنے، علم حاصل کرنے لیے بھی خوف محسوس کرتا ہے۔


The contributor, Yousuf Baloch, specialises in the discussion of human rights violations worldwide.

Reach out to him @YousufBaluch1.

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
error: