spot_img

Columns

Columns

News

US makes $10,000 visa bond permanent for 50 countries, Pakistan excluded

The United States has permanently adopted a refundable visa bond scheme requiring selected applicants from 50 countries to deposit between $10,000 and $20,000 before receiving tourist or business visas. Pakistan is not among the affected countries.

سابق افغان جنرل نے افغان طالبان حکومت کے خلاف مسلح کارروائیوں کا اعلان کر دیا

سابق افغان جنرل نے طالبان حکومت کے خلاف مسلح کارروائیوں کا اعلان کر دیا۔ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے سربراہ سمیع سادات نے طالبان حکومت کے ارکان، اڈوں اور قیادت کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔ اُنہوں نے امریکا اور نیٹو سے سیاسی و مادی مدد کی درخواست بھی کی ہے۔

Pakistan and Qatar deepen security ties as fragile US-Iran peace push gains ground

Interior Minister Mohsin Naqvi and his Qatari counterpart agreed to deepen security cooperation in Doha this week, as Pakistan and Qatar push behind the scenes to salvage the Islamabad MoU and bring Washington and Tehran back to the table.

Kuwait ratifies defense pact with Pakistan

Kuwait's Amir has formally ratified the defence cooperation agreement with Pakistan by decree, published in the official gazette. The agreement covers training, logistics, military intelligence, defence industries and a joint military committee.

Security forces launch Mastung operation, 15 terrorists killed

Security forces launched Operation Al Azm in Mastung's Tehsil Khad Kucha, killing 15 terrorists and wounding 12, according to security sources. Eight suspects were detained, one hideout destroyed and a large cache of weapons seized. No casualties were reported among security forces.
Op-Ed⁨خوف و کتاب کے بیچ زندگی⁩
spot_img

⁨خوف و کتاب کے بیچ زندگی⁩

Op-Ed
Op-Ed
Want to contribute to The Thursday Times? Get in touch with our submissions team! Email views@thursdaytimes.com
spot_img

بلوچ طلبا کے کیے پاکستان کے بڑے شہروں میں پڑھنا اب خاصہ دشوار ہو چکا ہے۔ اب المیہ یہ ہے یونیورسٹی جانے والے بلوچ طلبا کتاب کو بیگ میں رکھ کر جائے تو لاپتہ ہونے کا خوف پیچھے کرتے ہوئے ہمسفر بن کے جاتا ہے۔ لٹریچر کی رومانوی داستان ہو یا سائنسی علوم سب کچھ خوف کے سائے میں پڑھتا ہے۔ گویا اسلام آباد،پنجاب،شہری سندھ کے بڑے تعلیمی اداروں میں بلوچ کی سلیبس کو رد و بدل کرکے خوف نصاب کا حصہ کیا گیا ہو۔ ہنستے،بستے مسکراتے، چہرے پر خوف کی خدوخال،گھر میں موجود والدین جن کی تنخواہ اور مزدوری سے ان کے بیٹوں کی بڑے شہروں میں داخلہ ممکن ہو گیا تھا اب وہ کسی انجانے میں پریشان ہیں۔ جن کے بچے لاپتہ ہیں وہ پریشان ہی ہیں لیکن جن کے بچے لاپتہ نہیں کیے گئے ہیں وہ بھی پریشانی اور کرب میں مبتلا ہیں۔ لواحقین کا ایک مطالبہ تو شاید یہ ہوگا کہ جناب آپشن تو دو دیجئے۔ یہ اٹھاؤ یا خوف ختم کرو۔ پڑھنے دو یا کراچی،اسلام آباد،لاہور،راولپنڈی چھوڑنے کا سمن دو۔ جب تک سمن نہیں آئی گا۔ وارننگ نہیں ملی گی تب تک چار بلوچ طلبا جدید دنیاوی علوم کے چار سطور حفظ کرنے میں لگے رہیں گے۔ لیکن محدود آپشن نہ پڑھنے دیتا ہے اور نہ ہی جینے۔ یونیورسٹی اور رہائش گاہ میں لاپتہ ہونے کا خوف،ازیت خانوں میں فیک ایف آئی آر کا خوف۔ بے گناہی کا اسیر بننے کا خوف تو سوار ہی سوار ہے دہائیوں سے۔

دونوں اطراف خوف کا یہ عالم کہ اغوا کار بھی نہیں جانتا کہ میں اسے اغوا کیوں کر رہا ہوں۔ مغوی سوچ و بچار میں ہے کہ میں کیوں لاپتہ ہو رہا ہوں۔ لاپتہ کرنے کا کیس بھی کنفیوز ہے کہ کیس ہے ہی نہیں۔ بہرحال عدالت تک معمہ جاتا بھی نہیں ورنہ جج صاحب مغوی و اغواکار کا پہچان بھی نہیں کر سکے۔ کیس وکیل،استغاثہ،پراسکیوٹر،متعلقہ اداروں کا آئیں بائیں شائیں کا منظر الگ،تاریخ پہ تاریخ کی روایتی رواج کا قّصہ اور داستان گوئی الگ۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ یہ سلسلہ کراچی یونیورسٹی پہ مبینہ حملے کے بعد شروع ہوا ہے۔ لیکن یہ تجزیہ بھی آدھا تیتر اور آدھی بٹیر جیسی ہے۔ تیتر یہ کہ کراچی حملے کے بعد اس تسلسل میں کافی تیزی ضرور دیکھی گئی ہے۔ اور بٹیر یہ کہ اس سے پہلے قائداعظم یونیورسٹی میں شعبہ فزکس کا طالبعلم حفیظ بلوچ کو خضدار سے لاپتہ کیا گیا۔ چالیس دن بعد ڈیرہ مراد جمالی پولیس تھانہ لایا تھا ، سنگین الزامات کی روشنی میں آج ڈیرہ مراد جمالی کی سینٹرل جیل میں قید ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان یونیورسٹی کے سہیل اور فصیح بلوچ بلوچستان یونیورسٹی کے ہاسٹل سے اغوا کیے گئے اور تربت یونیورسٹی کے شعبہ بلوچی (پہلی سیمسٹر) کا طالب علم کلیم شریف بھی کراچی حملے سے پہلے لاپتہ کیے گئے ہیں۔ اسی لیے یہ کہنا درست ہوگا کہ یہ سلسلہ کافی پرانا اور طویل ہے جس کی شاخیں چودہ سے پندرہ سالوں میں ملتی ہیں۔ لیکن اس تسلسل کا دوسرا رخ پنجاب اور اسلام آباد میں بلوچ طلبا کی جبری گمشدگی ہیں، جن سے پہلے یہ سلسلہ بلوچستان تک محدود رہتا تھا۔ کراچی میں حکومت ہے پاکستان پیپلز پارٹی کی۔ محترمہ شہید بینظیر سے بلاول تک پی پی نے جو بھی سیاسی طشت از بام دیکھے ہیں، عروج و زوال کی تاریخ دیکھی ہوگی لیکن پی پی کا بلوچی ترانہ “دلاں تیر بجا” ایسی ہی نیا ہے جیسا تیس سال پہلے ہوا کرتا تھا۔ یہ دراصل ایک نعرہ نہیں بلوچ جیالے کی جوش و خروش ہیں بھٹو خاندان پہ۔ پی پی کا گڑھ اگرچہ لیاری ہے اور لیاری ہے بلوچوں کی زمین۔ لیکن کراچی میں ان دنوں جس طرح سے بلوچ طلبا جبری لاپتہ کیے جا ریے ہیں، چند دن پہلے جس طرح سے لاپتہ افراد کی لواحقین کی ریلی پہ پولیس گردی ہوا تھا اور لاپتہ افراد کے لواحقین کو جس طرح پولیس تھانہ لے جایا گیا، وہ بھی بنا کیس کے۔ دونوں واقعات سے لگتا ہے کہ پی پی شاید لیاری کو اپنا سیاسی ووٹ بینک سمجھتا ہے لیکن خیر خواہی کے خواہشات اب دم ہی توڑ رہے ہیں ایسے کہ جیسے مریم نواز شریف کی بطور اپوزیشن سیاستدان کی پی ڈی ایم کوئٹہ جلسے میں لاپتہ افراد کے ساتھ کی گئی یقین دہانیاں۔

سب سے بڑی المیہ یہی ہے کہ بلوچ اپنی تعلیم یافتہ نسل کو بغیر جرم و عدالت، بغیر مدعی و منصف کوٹھڑیوں میں جاتی دیکھ رہی ہے۔ بلوچ کے نظر میں یہ ایک قوم کی شعور پر حملہ ہے اور اس کی کوئی جواز بھی نہیں بنتی۔ بلوچ طلبا سمیت تمام مکاتب فکر کے لوگ ہر روز اپنی صبح کی شروعات ایک نئی نام “سیو بلوچ اسٹوڈنٹس” اور “اسٹاف ہراسنگ بلوچ اسٹوڈنٹس” کی پیش ٹیگ کے ساتھ کرتی آ رہی ہے۔ بلوچ طلبا کو اب کتابوں کے اندر خوف کی تعارف اور سطریں پڑھائی جا رہی ہیں اور بلوچ طلبا کتاب پڑھنے، علم حاصل کرنے لیے بھی خوف محسوس کرتا ہے۔


The contributor, Yousuf Baloch, specialises in the discussion of human rights violations worldwide.

Reach out to him @YousufBaluch1.

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.