29.9 C
Islamabad
Sat, 1 October 2022

کرپشن کا تسلسل

کرپشن کا تسلسل

- Advertisement -

+ other posts

Hammad Hassan has been in the journalism field for well over twenty years, during which he has written for both national and internationally-published mediums. Highly regarded for his distinctive style of analysis, Hassan's new book "قلم بولتا رھا" is out now.

اگر کسی کو غصہ چڑھتا ھے یا ناراض ہوتا ھے تو ناراض ہونے کی بجائے اپنی کرتوتوں کو ٹھیک کر لے ورنہ غصہ بھی ہونے دیں اور ناراض بھی ہونے دیں۔ کیا فرق پڑتا ہے۔ سوال تو ہم پوچھتے رہیں گے اور بار بار پوچھتے رہیں گے کہ کرپشن کے مواقع ایک کے ہاتھ سے پھسل کر دوسرے کے ہاتھ آنے کے علاوہ کونسی تبدیلی اور بہتری دیکھنے کو ملی؟ ورنہ عمران خان کی حکومت بھی تبدیل ہوئی شہباز شریف اس کی جگہ وزیراعظم بھی بنے مولانا فضل الرحمن اور اس کا بھائی اب نیب میں بھی نہیں بلائے جاتے اور مولانا کور کمانڈر ھاوس کے گھیراؤ کی دھمکی بھی نہیں دیتے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری وزارت خارجہ کا قلمدان بھی سنبھال چکے ہیں۔

اور حکومتی راوی چین ہی چین بھی لکھنے لگا ہے۔ لیکن تبدیلی کہاں دیکھنے کو ملے گی؟ اور بدلے ہوئے سیاسی منظر نامے نے چند سیاسی گھرانوں کے ہاتھ اقتدار اور ”مواقع“ دینے کے علاوہ زمینی حقائق کی تبدیلی پر اثر کیا ڈالا؟ آگرچہ حکومتی تبدیلی کو زیادہ عرصہ بھی نہیں ہوا لیکن کم از کم نئے فرح گوگیوں کو تو روکا جا سکتا ہے۔ کرپٹ اور بد دیانت افسروں کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ان افسروں کا احتساب تو شروع کیا جا سکتا ہے۔ ان کے سرپرستوں کو شٹ اپ کال دی جا سکتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا کچھ بھی نہیں ہو رہا ہے بلکہ بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے میں نئے فرح گوگی نکل آئے ہیں اور ان کی دیدہ دلیری پہلے سے بھی بڑھ کر ہے۔ صرف ایک محکمے اور چند ہی افراد کے کرتوت دیکھیں اور اندازہ لگائیں کہ یہ بد نصیب ملک آگے کیوں نہیں بڑھ رہا ہے۔ تبدیلی کیوں نہیں آرہی ہے؟ سٹیٹس کو ٹوٹ کیوں نہیں رہا ہے؟ اور کرپشن رواں دواں کیوں ہے؟

سر دست مثال کے طور پر وفاقی حکومت کے ماتحت پشاور میں قائم ایک محکمے کے حوالے سے بات کروں گا۔ اور پھر خود ہی سوچیں کہ کرپشن کیوں نہیں رک رہی ہے۔ انصاف کا حصول کیوں نا ممکن ہے۔ اور ادارے زوال کا شکار کیوں ہیں؟ بہر حال ایک چھوٹی سی مثال سامنے ہے۔ عباس خان سیکرٹریٹ گروپ سے تعلق رکھنے والے ایک ایک اہسے افسر ہیں جو۔ جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے۔

دو ہزار اٹھارہ میں تحریک انصاف حکومت کے قیام کے بعد موصوف سوشل میڈیا پر زور و شور سے عمران خان کی کمپین چلاتا اور انہیں ایک دیوتا بناتا رہا سو وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے ہاتھ طاقت آئی تو ایک کٹر یوتھیا اور گرائیں(دونوں کا تعلق مردان سے ہے) ہونے کے سبب شدید تحفظات اور رپورٹس کو نظر انداز کرتے ہوئے عباس خان کو ایک انتظامی عہدے (کمشنر افغان ریفیوجز پشاور) تعینات کر دیا۔

موصوف نے چارج سنبھالتے ہی مالی اور انتظامی تو کیا اخلاقی حوالے سے بھی ایسے ایسے گل کھلائے کہ کبھی یہ خوفناک حقائق سامنے آئیں تو اس شخص کی نہ صرف باقی زندگی سلاِخوں کے پیچھے گزرے گی بلکہ اس کے سابقہ اور موجودہ پشت پناہ بھی نشان عبرت بن جائیں گے۔ عباس خان کے خلاف نہ صرف جنسی ہراسانی کا کیس چلتا رہا بلکہ اس کیس میں محکمہ افغان ریفیوجز کمشنریٹ کے بدنام زمانہ چیف فنانس افسر عطاء اللہ اور ایک پراجیکٹ ڈائریکٹر نوکری سے ڈسمس بھی ہو چکے ہیں. بحوالہ کیس نمبر۔
1(59)/2021 -FOS(Reg)/pesh
(یہ فیصلہ دو مارچ 2022 کو آیا)
لیکن طرفہ تماشا ملا حظہ ہو کہ یہ سب کے سب مجرمان نہ صرف ابھی تک اپنے عہدوں پر موجود ہیں بلکہ الٹا جنسی ہراسانی کے شکار اور عدالت میں کیس جیتنے والے لوگ ہی نوکریوں سے برطرف کر دیئے گئے ہیں۔ جنسی ہراسانی کیس کےعلاوہ بد ترین کرپشن اور بد انتظامی پر نیب۔ بحوالہ کیس نمبر۔
No.1/25/Notice /1w-1/NAB(KP)1161

اور ایف آئی اے۔ بحوالہ انکوائری نمبر 17/2021 کی تحقیقات۔ پشاور ھائی کورٹ بحوالہ کیس نمبر

WP NO-1484 -P of 2021
اور سپریم کورٹ میں کیسز میڈیا کی چیخ و پکار اور گلی کوچوں میں پھیلتی ہوئی اخلاق باختگی کی کہانیوں کے باوجود بھی عباس خان بلکہ اس کا ”معاون“ چیف فنانس افسر عطاء اللہ حکومتی تبدیلی کے باوجود بھی اپنے عہدوں سے کیوں نہیں ہٹانے گئے؟ حتی کہ اس سلسلے میں عدالتی فیصلے تک موجود ہیں۔ لیکن لمحہ موجود کی کہانی اس سے بھی زیادہ دلچسپ بلکہ خوفناک ہے۔ عمران خان کی حکومت تبدیل ہوئی تو نئی حکومت میں وزارت سیفران اتحادی حکومت میں شامل ایک دینی جماعت کے حصے میں آئی۔ یاد رہے کہ محکمہ افغان ریفیوجز کمشنریٹ اسی وزارت (سیفران) کے ماتحت ہے۔ یہ وزارت تو ”بعض قربانیوں“ کے بدلے گو کہ جماعت سے وابستہ ایک ارب پتی سینیٹر کو ملی لیکن واقفان حال کو معلوم ھے کہ اصل اختیارات کس کے پاس ہیں؟ لیکن اس سے بھی زیادہ قابل غور بات یہ ہے کہ ”کیوں“ ہیں۔

بہر حال وزارت بلکہ ”مارکیٹ“ پر چھایا تجربہ کار وارداتیا ایک زمانے میں پی ٹی سی ایل میں ایک عام سے ملازم (واقفان حال کے مطابق ٹیلی فون آپریٹر) تھے لیکن دو ہزار آٹھ میں خیبر پختونخواہ میں آئے ”اسلامی انقلاب“ اور اکرم خان درانی کی وزارت اعلی نے اس ”ہیرے“ کو پہچان لیا اور طرفہ تماشا دیکھیں کہ اسے فوری طور پر پی ٹی سی ایل سے ڈپٹی کمشنر بنا کر بیوروکریٹس کےلئے طنز و مزاح کا سامان پیدا کیا۔ (اس حوالے سے سول افسران دلچسپ لطیفے بھی سناتے رہتے ہیں)۔ سو وزارت سیفران ہاتھ آتے ہی کمشنر افغان ریفیوجز عباس خان کا کام پھر سے آسان ہو گیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ ”سودا“ کہاں کرنا ہے اور کام کہاں سے نکلوانا ہے۔ اس شخص( کمشنر افغان ریفیوجز عباس خان) کا کردار جانچنے کے لئے اتنا کرنا ضروری ھے کہ صرف اس سرکاری انکوائری کو نکالا جائے جب جنسی ہراسانی کیس میں اسلام آباد سے انکوائری کے لئے اپنے ایک ہمراز افسر سے خط موصول ہوا۔

اور نہ صرف ایک ہی دن میں انکوائری مکمل ہوئی بلکہ درخواست دہندگان کو بلایا تک نہیں گیا حتی کہ انکوائری رپورٹ بھی ملزم کے دفتر سے بھیجی گئی۔ جبکہ اس معاملے کو بھی دیکھنا چاہیے کہ جب محکمے سے وابستہ چند خواتین نے چیف فنانس افسر عطاء اللہ کی جنسی ہراسانی کے خلاف کمشنر افغان ریفیوجز عباس خان کو تحریری طور پر آگاہ کیا بحوالہ۔
NO.CAR/Sec/CFO/286 Dated 18/12/2020
تو ملزم کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے الٹا درخواست دہندگان کے خلاف مسلسل انتقامی کاروائیاں کرتا رہا حتی کہ دو میں سے ایک خاتون کو نوکری سے بھی برطرف کر دیا جبکہ دوسری درخواست دہندہ خاتون کے خلاف نہ صرف من گھڑت الزامات پر انکوائری کمیٹی بٹھا دی بلکہ ملزمان کو انکوائری کمیٹی کا ممبر بھی بنا دیا۔ جبکہ خواتین کے ساتھ ہونے والی جنسی ہراسانی کیس میں گواہ بننے والے بقیہ تین افسروں کو بھی ملازمت سے نکال دیا۔ اس سلسلے میں پشاور ھائی کورٹ کے عزت ماب چیف جسٹس نے بھری عدالت میں عباس خان کی جو کلاس لی تھی وہ ایک الگ کہانی ہے۔

دین اور جمہوریت کے داعی خاندان کے ”چشم و چراغ صاحب“ کا ایک بھانجا چونکہ عباس خان اور عطاء اللہ (جنسی ہراسانی کیس کے مجرم) کا ماتحت ہے اس لئے فوری طور پر اسبچے کو وی آئی پی پوزیشن پر لا کر نیا دفتر فراہم کر دیا گیا نئی گاڑی بھی مل گئی اور حد درجہ مکار عباس خان نے اپنی نگرانی میں نیا ایئر کنڈیشنڈ بھی منگوا کر فوری طور پر لگوا لیا۔ اگلے مرحلے میں واردایئے یعنی ”چشم و چراغ“ سے ملاقات طے پائی اور ”باہمی دلچسپی“ کے امور پر گفتگو کے بعد یہ ملاقات ”کامیابی“ کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ لیکن پوچھنا چاہئے کہ ”چشم و چراغ صاحب“ کس حیثیت میں محکمے کی آدھ درجن قیمتی گاڑیوں کو اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں اور یہ گاڑیاں اسے کس نے کن خدمات کے عوض بمع سینکڑوں لیٹر سرکاری پٹرول فراہم کر دی ہیں؟ ایک اہم سیاسی لیڈر کا قریبی عزیز ہونا غیر قانونی کاموں اور خلاف ضابطہ ریاستی وسائل استعمال کرنا کہاں کا اور کونسا میرٹ ہے؟ (باقی کہانیاں تو کہیں زیادہ خوفناک ہیں تاہم یہ کسی اور کالم میں سہی)۔ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ موصوف اس محکمے کے تمام معاملات سے یقینا پوری طرح آگاہ یوں گے۔ کہ عباس خان کیا کیا گل کھلاتے رہے ہیں۔ بغیر کسی میرٹ کے پروموشن کس طرح ملتے رہے۔ بنگلوں کی الاٹمنٹ کے لئے سنیارٹی کی بجائے کونسا ”میرٹ“ چلتا ہے۔ انتہائی جونیئر ”لوگوں“ کی تنخواہوں میں کئی گنا اضافہ کے ”اسباب“ کیا ہیں۔ گاڑیوں کی الاٹمنٹ کے لئے “خدمات“ کا پیمانہ کیا ہے؟

تا ہم وثوق کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ انہیں ان اخلاق باختہ معاملات کا بھی علم ہو کیونکہ وہ ذاتی طور پر اس حوالے سے قدرے نیک نام آدمی ہیں۔ لیکن اگر وہ سرکاری معاملات میں بے جا مداخلت سے باز نہیں آتے تو پھر انہیں ”معاملات“ کا علم بھی ہونا چاہیے۔ کیونکہ حالات بدلتے دیر بھی نہیں لگتی اور پھر پوچھا بھی جاتا ھے۔ تازہ ترین صورتحال یہ ھے کہ عباس خان بمع اپنے معاونین چشم و چراغ صاحب کی شفقت و سرپرستی کے سبب جنسی ہراسانی کیس نیب اور ایف آئی اے تحقیقات کرپشن بد انتظامی اور خوفناک اخلاقی الزامات کے باوجود بھی اسی طرح اپنے عہدوں پر موجود رہیں گے جس طرح پی ٹی آئی حکومت میں موجود رھے۔ اور وہی کچھ کریں گے جو پچھلی حکومت میں کرتے رھے۔

فی الحال ٹو صورتحال یہ ہے کہ عمران خان سے چھٹکارا پانے کے بعد فرق یہی آیا ہے کہ پچھلی حکومت میں اپنے اپنے فائدے کے لئے ان ناسوروں کے سرپرست اعظم خان اور ارباب شہزاد ہوا کرتے تھے جبکہ اب وہ جگہ فرح گوگی کا جانشین لے چکا۔ حتی کہ موصوف کے حوالے سے اپنے خاندان کے سیاسی اثر و رسوخ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جنسی ہراسانی کیس پر اثر انداز ہونے کی چہ میگوئیاں بھی ہو رہی ہیں۔ پشاور کے صحافتی حلقوں میں بہت سی چونکا دینے والی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ جو یقینا بہت مایوس کن ہیں کیونکہ ھائبرڈ ریجیم کے خلاف ایک مشکل جدوجہد اس لئے نہیں کی گئی تھی کہ فرح گوگی کلچر بدلتی ہوئی فضا میں پہلے سے کہیں زیادہ تعفن پھیلاتا رہے گا۔ تا ہم پی ڈی ایم سربراہ سمیت حکومت میں شامل تمام جماعتوں کے رہنماؤں کو سسنجیدگی کے ساتھ اس حوالے سے توجہ دینی ہوگی۔ اپنے عزیز و اقارب اور پارٹی ورکروں کو سمجھانا بھی ہوگا اور روکنا بھی ہوگا۔ خصوصا ان افراد کو جو ”سودا بازی“ کر کے انتہائی گھناؤنے اور جرائم پیشہ لوگوں کی پشت پناہی کرتے ہیں. کیونکہ برق رفتار سوشل میڈیا حد درجہ الرٹ ہے اور یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ اب لحاظ بھی کسی کا نہیں کیا جاتا اور خوف اور دھمکی کو بھی جوتے کی نوک پر رکھا جاتا ہے۔

- Advertisement -

تھرسڈے ٹائمز نیوز لیٹر کو سبسکرائب کیجئے

خبریں اور اداریے براہ راست سب سے پہلے اپنی ای میل میں حاصل کریں۔

Your information will be processed in accordance with our data usage policy

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

RELATED ARTICLES