9.9 C
Islamabad
Thu, 24 November 2022

ہم نازک دور سے گزر رہے ہیں

تھرسڈے ٹائمز نیوز لیٹر کو سبسکرائب کیجئے

خبریں اور اداریے براہ راست سب سے پہلے اپنی ای میل میں حاصل کریں۔

Your information will be processed in accordance with our data use policy
- Advertisement -

+ other posts

Want to contribute to The Thursday Times? Get in touch with our submissions team! Email views@thursdaytimes.com

جب سے ہوش سنبھالا ہے ہمیشہ یہی سنا ہے کہ “پاکستان تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔” پھر جب پڑھنے پڑھانے سے واسطہ پڑا تو پتہ چلا کہ ہمارے والدین نے بھی ایسے ہی دور میں ہوش سنبھالا تھا جب “پاکستان تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا تھا۔” اور آج جب ہمارے بچے بڑے ہو رہے ہیں تو آج بھی یہی سننے کو ملتا ہے کہ” پاکستان تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔” سوال یہ ہے کہ آخر وہ کونسے عناصر ہیں جن کی وجہ سے پاکستان ہمیشہ تاریخ کے نازک دور سے ہی گزرتا رہا اور گزر رہا ہے؛ یعنی وجود میں آنے سے لے کر آج 75 سال گزر جانے کے باوجود بھی یہ “نازک دور” پاکستان کی جان نہیں چھوڑ سکا تو اس کی کیا وجہ ہے؟

جبکہ ہم اپنے ساتھ آزاد ہونے والے ہمسائے پر ہی نظر ڈالیں تو وہاں سیاسی استحکام بھی نظر آتا ہے اور معاشی ترقی بھی ہے؛ مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ اپنے اپنے دائرہ کار میں محدود اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ خرابیاں تو یقیناً ہوں گی اور ہیں لیکن ان خرابیوں کو بنیاد بنا کر کوئی دوسرے کے دائرہ کار میں داخل نہیں ہوتا۔ آئین کی حکمرانی کے ساتھ ساتھ پروفیشنل ازم نے بھارت کو دنیا کی ترقی کرتی ہوئی ریاستوں کی صف میں لاکھڑا کیا ہے؛ دوسری طرف پاکستان آج بھی وہیں کھڑا ہے جہاں اپنی پیدائش کے وقت کھڑا تھا۔

آخر کیوں؟

پڑھایا تو ہمیں یہ جاتا ہے کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ایک وسیع ملک ہے جس کی زمین زراعت کے لیے بھی موزوں ہے اور معدنیات کی دولت سے بھی مالامال ہے؛ پاکستان کے لوگ محنتی، جفاکش اور ہنرمند ہیں، پاکستان کے پہاڑوں، دریاؤں، میدانوں اور دریاؤں، سمندروں کا کوئی ثانی نہیں۔ پھر آخر وسائل سے مالا مال ریاست ترقی کیوں نہ کر سکی اور ہمیشہ بحرانوں کا شکار کیوں رہی؟ یہاں سیاستدانوں نے بھی اپنی حکومت سازی کے جوہر دکھائے اور جرنیلوں نے بھی باریاں لگائیں، ٹیکنوکریٹس بھی حکومت میں رہے اور مذہبی علماء نے بھی ضیاء کی مجلسِ شوریٰ میں اپنا شوق پورا کیا۔ پھر بھی نہ یہاں سیاسی استحکام آیا، نہ معاشی ترقی ہوئی، نہ معاشرتی اقدار کو فروغ ملا، نہ تعلیم و تربیت کے میدان میں کوئی نمایاں نام نظر آتا ہے اور نہ ہی شعر و ادب نے ہی ترقی کی منازل طے کیں۔ ہر شعبہ ہائے زندگی میں ہم بتدریج پستی کی طرف ہی جاتے نظر آتے ہیں اور پھر ساتھ وہی ہمیشہ کا شریکِ سفر “تاریخ کا نازک ترین دور”

جمہوریت کے فدائین آمریت کو الزام دیتے ہیں اور آمریت کے خیال میں سیاستدانوں نے ملک کو برباد کر دیا اور ساتھ دعویٰ کہ وہ سیاستدانوں کو ملک تباہ نہیں کرنے دیں گے لیکن جہاں یہ دیکھا گیا ہے کہ ہر آمریت کے بعد پاکستان پہلے سے زیادہ بحرانوں کا شکار ہوا وہیں جمہوریت نے بھی عوام کی زندگیوں پر کوئی بہتر اثرات مرتب نہیں کیے ویسے تو خیر جمہوریت چلنے ہی کس نے دی؟ 

سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ نازک دور صرف عوام کے لیے ہوتا ہے۔ ملک کی اشرافیہ کو اس نازک دور سے چنداں فرق نہیں پڑتا۔ نہ تو ان کے لائف سٹائل میں کوئی فرق آتا ہے، نہ ان کو ملنے والی سہولیات میں کوئی کمی بیشی ہوتی ہے اور نہ ہی ان کی مراعات کو کوئی زک پہنچتی ہے۔ ملٹری و سویلین اسٹیبلشمنٹ ہو یا حکومتی عہدیدار، انتظامیہ ہو یا عدلیہ ان کی مراعات کبھی نازک دور سے نہیں گزرتیں۔ نازک دور کا بوجھ بس عوام کے ناتواں کاندھوں پر ہی ڈالا جاتا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ عوام اپنے من پسند حکمرانوں کی چاہ میں ہنسی خوشی یہ بوجھ اٹھا بھی لیتی ہے اور اگر ہنسی خوشی نہ بھی اٹھائے تو روتے دھوتے بھی اٹھانا تو پڑتا ہی ہے کیونکہ “اپنی طاقت” سے بےخبر “بیچاری عوام” کے پاس اور کوئی چارہ نہیں ہوتا۔

اگر عوام نے اپنے حقوق کو سمجھتے ہوئے سوال اٹھانا سیکھا ہوتا اور اپنے حکمرانوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی عادت ڈالی ہوتی تو شاید یہ نازک دور کبھی ختم ہو جاتا۔

سیاستدان تو خیر پھر بھی کسی حد تک کبھی نا کبھی کسی نا کسی کٹہرے میں کھڑے نظر آ ہی جاتے ہیں۔ میں یہاں سیاسی حکمرانوں کے ساتھ ساتھ ریاست کے دیگر سٹیک ہولڈرز اور دس دس سال کی باریاں لگانے والوں کی بھی بات کرتے ہوئے کہوں گی کہ بطور عوام ہم نے کبھی طاقت کے اصل مراکز سے جواب دہی کی ہوتی تو شاید حالات بدل جاتے! وائیٹ کالر اشرافیہ سے کبھی ان کی آمدن کا حساب مانگا ہوتا تو شاید حالات بدل چکے ہوتے! آئین شکنوں سے آئین شکنی کی جوابدہی کی ہوتی تو شاید حالات بدل چکے ہوتے! اپنے دائرہ کار سے نکل کر دوسرے کے دائرہ کار میں مداخلت کرنے والوں سے حساب لیا ہوتا تو شاید حالات بدل چکے ہوتے!۔

آئین کی بجائے ضمیر کے مطابق فیصلے کرنے والوں کے لیے کٹہرا بنایا ہوتا تو شاید حالات بدل چکے ہوتے! کبھی سیم پیج کے دعوے اور کبھی نیوٹرل ہونے کا اعلان کرنے والوں سے پوچھا ہوتا کہ کیا انہیں اپنی آئینی ذمہ داریوں کا پتہ بھی ہے یا نہیں؟ تو شاید حالات بدل چکے ہوتے اور کبھی تو ان سیاستدانوں سے پوچھا ہوتا کہ موقع کی مناسبت سے اپنا نظریہ بدل لیتے ہو آخر اتنی منافقت کیسے کر لیتے ہو؟ تو شاید حالات بدل چکے ہوتے!۔

یاد رہے کہ قوموں کی زندگی میں نظریے کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ نظریے نے محمد علی جناح کو قائداعظم بنا دیا تھا اور ایک ہجوم کو قوم جس نے آزادی حاصل کر لی اور نظریے سے دوری نے اس قوم کو پھر ہجوم بنا دیا اور 75 سال سے یہ ہجوم کسی میرِ کارواں کے انتظار میں نازک دور سے گزر رہا ہے۔


The contributor, Naddiyya Athar, has an M.A. in Urdu Literature and a B.Ed. With experience teaching at schools and colleges across Pakistan, she specialises in the discussion of the country’s ever-changing political landscape.

- Advertisement -

1 COMMENT

  1. اگر وطنِ عزیز کو سدا کے نازک حالات سے نکالنا ہے تو اس کا واحد حل آئینی بالادستی اور جمہوریت ہے
    جمہوریت جیسی بھی ہو ،ٹوٹی پھوٹی لنگڑی لولی جمہوریت۔۔۔۔۔ جمہوریت ناکام ہو جائے تو مزید جمہوریت ، اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

RELATED ARTICLES

FRESH OFF THE PRESS

ایک جعلی اور جھوٹا سازشی بیانیہ بنا کر ملک میں ہیجان کی کیفیت پیدا کی گئی، آرمی چیف جنرل قمر باجوہ

فوج پچھلے ستر برس سے سیاست اور سیاسی معاملات میں ملوث رہی ہے جو کہ ایک غیر آئینی اقدام تھا اور یہی وجہ ہے کہ فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے

فرح گوگی نے توشہ خانہ گھڑی اورتحائف میرے پاس کیش کے عوض بیچے، عمر فاروق

توشہ خانہ گھڑی اور تحائف بیچنے کیلئے سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر نے عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی سہیلی فرح گوگی کو میرے پاس دبئی بھیجا جس نے کیش کے عوض وہ تحفے مجھے بیچے

ترکی کے شہر استنبول میں بم دھماکہ متعدد ہلاکتیں اور کئی افراد زخمی

استنبول میں بم دھماکہ چار افراد جانبحق 38 افراد زخمی ہوگئے

عمران خان امریکہ پر سازش کے الزامات لگانے کے بعد اس سے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں، برطانوی جریدہ

بین الاقوامی معتبر جریدہ فنانشل ٹائمز میں شائع مضمون کیمطابق عمران خان نے جس امریکہ پرسازش کا الزام لگایا تھا اسی امریکہ سے تعلقات بہتر کرنے کے خواہاں ہیں

پاکستان نیوزی لینڈ کو شکست دیکرٹی ٹونٹی ورلڈ کپ فائنل میں پہنچ گیا

پاکستان کرکٹ ٹیم نے شاندار آل راونڈ پرفارمنس دیتے ہوئے نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کو ورلڈ ٹی ٹونٹی کے پہلے سیمی فائنل میں 8 وکٹ سے ہرا کر ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے فائنل میں رسائی حاصل کرلی ہے

Public vandalism and criminal prosecution

The Criminal Damage Act 1971 states that the penalty for offences, such as graffiti, carry up to 10 years in prison, or a fine of up to £5k.

عمران خان کو کوئی فیس سیونگ نہیں دی جائیگی، میاں نواز شریف

دس لاکھ لانے کا دعوی کرنے والا ابھی تک دو ہزار بندے اکٹھے نہیں کر سکا عوام کی لا تعالقی کی وجہ وہ شر انگیز جھوٹ ہیں جن کا کچا چٹھہ قوم کے سامنے آ چکا ہے

عمران خان کے لانگ مارچ کنٹینر کے نیچے آکر خاتون صحافی جاں بحق

تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران مریدکے میں لانگ مارچ کی کوریج کرتے ہوئے نجی نیوز چینل فائیو کی خاتون صحافی رپورٹر تحریک انصاف کے کنٹینر کے نیچے آکر جاں بحق ہوگئیں

 فوج پر غداری کے الزامات لگانے والے رات کی تاریکی میں پردوں کے پچھے کیوں چھپ چھپ کرسپہ سالارسے ملتے ہیں، ڈی جی آئی...

ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈی جی آئی ایس آئی نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک مخصوص جھوٹا بیانیہ بنا کر لوگوں کو گمراہ کیا گیا اداروں پر اور اسکی لیڈر شپ یہاں تک کی آرمی چیف پر بھی بے جا الزام تراشی کی گئی معاشرے میں تقسیم اور غیر معمولی اضطراب پیدا کرنے کی کوشش کی گئی

Rishi Sunak is the UK’s new prime minister

Sunak has secured over 100 votes of confidence from his fellow party members