9.9 C
Islamabad
Thu, 24 November 2022

نظام کی تبدیلی یا سوچ کی تبدیلی

تھرسڈے ٹائمز نیوز لیٹر کو سبسکرائب کیجئے

خبریں اور اداریے براہ راست سب سے پہلے اپنی ای میل میں حاصل کریں۔

Your information will be processed in accordance with our data use policy
- Advertisement -

+ other posts

Want to contribute to The Thursday Times? Get in touch with our submissions team! Email views@thursdaytimes.com

اگر ہم پچھتر سال کے سود و خسارے کا حساب لگانے بیٹھیں تو خسارے کا تناسب سود سے زیادہ ہی ہو گا اور بتدریج یہ خسارہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ قوموں کی زندگی میں اتار چڑھاؤ کا آنا یا ناکامیوں اور کامیابیوں کے بیچ رسہ کشی کا جاری رہنا کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ یہ ایک متوازن قوم ہونے کی نشانی ہے اور اپنے ہر فائدے اور ہر خسارے کے بعد قومیں کچھ نئی سیکھ لیتی ہیں اور نئے عزم سے آگے بڑھنے کی کوشش بھی کرتی ہیں۔ وطنِ عزیز میں بھی نفع نقصان، کامیابی ناکامی اور اتار چڑھاؤ کا سامنا تو قانونِ فطرت کے مطابق ہی رہتا ہے لیکن اپنے نفع نقصان اور اتار چڑھاؤ سے سیکھنے کا عنصر تقریباً ناپید ہی ہے۔

برصغیر پاک و ہند کے طول و عرض میں پھیلے مسلمانوں نے جب آزادی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تو اس جھنڈ کو قوم بننے میں دیر نہیں لگی کیونکہ سرسید سے لے کر محمد علی جناح تک سبھی کے پاس کوئی نا کوئی سوچ اور نظریہ تھا اور اس سوچ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی بتدریج متحدہ ہندوستان میں آزادی کی لہر پروان چڑھی۔ برصغیر کی تقسیم اور آزادی ایک سیاسی جدوجہد کا نتیجہ تھی اور اس کے پیچھے اگر محمد علی جناح کی قائدانہ صلاحیتیں تھیں تو عوام کا جوش اور جذبہ بھی بہت ہی اہم عنصر تھا لیکن اس جوش اور جذبے کو ہم نے آزادی کے بعد کھو دیا۔ جہاں نوآزاد مملکت میں ریاست کی ذمہ داریاں سنبھالنے والے اقتدار کی رسہ کشی اور اختیارات کی کھینچا تانی میں پڑ گئے وہیں عوام کے جذبے کو بھی غمِ روزگار نے ماند کر دیا۔ وہ احمد ندیم قاسمی نے کہا ہے نا کہ پھر بھیانک تیرگی میں آ گئے، ہم گھر بجنے سے دھوکہ کھا گئے، کس تجلی کا دیا ہم کو فریب، کس دھندلکے میں ہمیں پہنچا گئے۔ تو ہمارے ساتھ کچھ یہی بیتی؛ قائد اعظم کی علالت اور وفات کے بعد قیادت کا جو خلاء پیدا ہوا وہ تادمِ تحریر نہیں بھرا یا ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ بھرنے ہی نہیں دیا گیا کیونکہ غداری، کفر، وطن فروشی و کرپشن کے نام نہاد نعرے و الزامات قائد کے ساتھیوں سے لے کر آج تک ہر عوامی راہنما کا تعاقب کرتے رہے اور کر رہے ہیں۔

سیاسی جدوجہد سے آزاد ہونے والے ملک پر اجارہ داری اس فوج اور اسٹیبلشمنٹ نے حاصل کر لی جو 14اگست 1947 تک ملکہ برطانیہ کی وفادار تھی اور آزادی حاصل کرنے میں ان کا کوئی کردار نہ تھا تو جب کردار ہی نہ تھا تو انہیں اس سے کوئی غرض بھی نہیں تھی کہ ملک کا نظریہ کیا ہے، آئین کی کیا اہمیت ہوتی ہے، تاریخ سے کیسے سیکھا جاتا ہے اور اقتدار عوام کی امانت ہے۔ آئین کو ردی کاغذ سمجھا اور تاریخ کو بس جھوٹی شان و شوکت کی نمائش کرنے کا ذریعہ، عوام سے انہیں ویسے ہی کوئی تعلق نہیں تھا اور نظریہ ان کا صرف ذاتی مفادات کا حصول ہی رہا یا اپنے اقتدار کو دوام دینے کے طریقے سوچنا اور اس دوام کے لیے سب سے اہم کردار ان نعروں اور الزامات کا رہا جو اوپر لکھے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر آمریت نے ہمیں ایسے تحائف دئیے جنہوں نے ملک اور عوام کو تقسیم در تقسیم ہی کیا اور ایوب و یحییٰ کی آمریت نے تو ملک ہی دولخت کر دیا لیکن دعویٰ بہرحال یہی ہے کہ ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں۔

کوئی پوچھنے والا نہیں کہ اگر زندہ و پائندہ ہوتے تو 90 ہزار ہتھیار کیوں ڈال دیتے؟ ایسا نہیں ہے کہ دنیا میں آمرانہ نظام کے ذریعے ممالک نے ترقی نہیں کی؛ چین میں ایک طرح کی آمریت ہی ہے لیکن گزشتہ ستر سال میں جیسے چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت بنا اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ میں اس بحث میں نہیں پڑتی کہ چین نے ترقی کیسے کی اور نہ ہی چین کو ہی مثال بناتے ہیں کیونکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد ترقی کرنے والوں میں چین ہی قابلِ ذکر نہیں ہے بلکہ جدید سنگا پور، ملائشیا، جرمنی اور یورپ کے تقریباً تمام ہی ممالک نے صنعتی ترقی کے ذریعے اپنے اپنے ملک اور عوام کے لیے ترقی، خوشحالی اور استحکام کے دروازے کھولے۔ ہمارے ساتھ ہی آزاد ہونے والا ملک بھارت بھی آج دنیا میں بڑھتی ہوئی معاشی طاقت کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ چین کا یک جماعتی نظام ہو، مغربی جمہوریت ہو یا امریکہ کا صدارتی نظام کسی نے بھی ان ممالک کو ترقی کرنے سے نہیں روکا۔ وجہ بہت سادہ سی ہے اور وہ یہ کہ ان ممالک میں ہر ادارہ، محکمہ اور عدلیہ اور مقننہ اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں اور افراد سے زیادہ ادارے اہم گردانے جاتے ہیں۔

حکومتوں کی تبدیلی ہو یا ادارہ جاتی تعیناتیاں افراد کے آنے جانے سے ملک کے انتظام و انصرام کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایک جاتا ہے تو دوسرا آنے والا وہی ذمہ داریاں احسن طریقے سے سرانجام دینے لگتا ہے۔ ایک مربوط اور مستحکم نظام جمہوریت، آمریت، بادشاہت یا صدارتی کسی بھی شکل میں ہو؛ ایک ایسی چھلنی ہوتا ہے جس میں سے نااہل و نالائق افراد خود بخود ہی چھن کر نظام سے باہر ہو جاتے ہیں اور اگر آ بھی جائیں تو ریاست کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ پاکستان کو جمہوری، صدارتی اور آمرانہ تینوں ہی طریقوں سے چلانے کی کوشش کی گئی لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہم دائروں کے سفر پر ہیں اور دائروں کے اس سفر نے کچھ افراد کو تو شاید بہت طاقتور بنا دیا لیکن ریاست کو کمزور ہی کیا۔ ہر کچھ عرصے کے بعد یہاں ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت کی گونج سنائی دینے لگتی ہے، ہر دفعہ حکومت کی تبدیلی کے عمل کو ریاست کی بقاء کا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے، ہر دفعہ جب ایک محکمے کے سربراہ کی تعیناتی کا وقت آتا ہے تو ایسے لگتا ہے کہ جیسے یہ کوئی ایسا مسئلہ ہے جو زندگی اور موت سے بھی بڑھ کر ہے اور نظام بدلنے کے نعرے تو یہاں تین وقت کے کھانے کی طرح ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ جبکہ مسئلہ وہی دائرہ کار کا ہے۔ جب تک ہر شخص، ہر ادارہ، ہر محکمہ، عدلیہ اور مقننہ اپنے اپنے دائرہ کار میں رہنا نہیں سیکھیں گے دائروں کا یہ سفر جاری رہے گا۔ آپ نظام کوئی بھی لے آئیں جب تک اپنی ڈومین میں رہ کر اپنے کام سے کام رکھنا شروع نہیں کیا جائے گا تب تک ترقی، خوشحالی اور استحکام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔


The contributor, Naddiyya Athar, has an M.A. in Urdu Literature and a B.Ed. With experience teaching at schools and colleges across Pakistan, she specialises in the discussion of the country’s ever-changing political landscape.

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

RELATED ARTICLES

FRESH OFF THE PRESS

ایک جعلی اور جھوٹا سازشی بیانیہ بنا کر ملک میں ہیجان کی کیفیت پیدا کی گئی، آرمی چیف جنرل قمر باجوہ

فوج پچھلے ستر برس سے سیاست اور سیاسی معاملات میں ملوث رہی ہے جو کہ ایک غیر آئینی اقدام تھا اور یہی وجہ ہے کہ فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے

فرح گوگی نے توشہ خانہ گھڑی اورتحائف میرے پاس کیش کے عوض بیچے، عمر فاروق

توشہ خانہ گھڑی اور تحائف بیچنے کیلئے سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر نے عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی سہیلی فرح گوگی کو میرے پاس دبئی بھیجا جس نے کیش کے عوض وہ تحفے مجھے بیچے

ترکی کے شہر استنبول میں بم دھماکہ متعدد ہلاکتیں اور کئی افراد زخمی

استنبول میں بم دھماکہ چار افراد جانبحق 38 افراد زخمی ہوگئے

عمران خان امریکہ پر سازش کے الزامات لگانے کے بعد اس سے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں، برطانوی جریدہ

بین الاقوامی معتبر جریدہ فنانشل ٹائمز میں شائع مضمون کیمطابق عمران خان نے جس امریکہ پرسازش کا الزام لگایا تھا اسی امریکہ سے تعلقات بہتر کرنے کے خواہاں ہیں

پاکستان نیوزی لینڈ کو شکست دیکرٹی ٹونٹی ورلڈ کپ فائنل میں پہنچ گیا

پاکستان کرکٹ ٹیم نے شاندار آل راونڈ پرفارمنس دیتے ہوئے نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کو ورلڈ ٹی ٹونٹی کے پہلے سیمی فائنل میں 8 وکٹ سے ہرا کر ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے فائنل میں رسائی حاصل کرلی ہے

Public vandalism and criminal prosecution

The Criminal Damage Act 1971 states that the penalty for offences, such as graffiti, carry up to 10 years in prison, or a fine of up to £5k.

عمران خان کو کوئی فیس سیونگ نہیں دی جائیگی، میاں نواز شریف

دس لاکھ لانے کا دعوی کرنے والا ابھی تک دو ہزار بندے اکٹھے نہیں کر سکا عوام کی لا تعالقی کی وجہ وہ شر انگیز جھوٹ ہیں جن کا کچا چٹھہ قوم کے سامنے آ چکا ہے

عمران خان کے لانگ مارچ کنٹینر کے نیچے آکر خاتون صحافی جاں بحق

تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران مریدکے میں لانگ مارچ کی کوریج کرتے ہوئے نجی نیوز چینل فائیو کی خاتون صحافی رپورٹر تحریک انصاف کے کنٹینر کے نیچے آکر جاں بحق ہوگئیں

 فوج پر غداری کے الزامات لگانے والے رات کی تاریکی میں پردوں کے پچھے کیوں چھپ چھپ کرسپہ سالارسے ملتے ہیں، ڈی جی آئی...

ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈی جی آئی ایس آئی نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک مخصوص جھوٹا بیانیہ بنا کر لوگوں کو گمراہ کیا گیا اداروں پر اور اسکی لیڈر شپ یہاں تک کی آرمی چیف پر بھی بے جا الزام تراشی کی گئی معاشرے میں تقسیم اور غیر معمولی اضطراب پیدا کرنے کی کوشش کی گئی

Rishi Sunak is the UK’s new prime minister

Sunak has secured over 100 votes of confidence from his fellow party members