Columns

Columns

News

پاکستان اور آذربائجان کے مابین جے ایف 17 لڑاکا طیاروں کا تاریخی معاہدہ طے پا گیا

پاکستان اور آذربائجان کی فضائیہ کے مابین 1 اعشاریہ 6 ارب ڈالرز میں جے ایف 17 سی بلاک تھری لڑاکا طیاروں کا ایک بڑا اور تاریخی برآمدی معاہدہ طے پا گیا ہے جبکہ اس معاہدہ میں طیارے، تربیت اور گولہ بارود شامل ہیں۔

مسلم لیگ (ن) قومی اسمبلی میں 108 ارکان کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن گئی

مسلم لیگ (ن) قومی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت، مسلم لیگ (ن) کو 24 جبکہ پیپلز پارٹی کو 14 مخصوص و اقلیتی نشستیں الاٹ، مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی مجموعی تعداد 108 جبکہ پیپلز پارٹی کے ارکان کی مجموعی تعداد 68 ہو گئی، سنی اتحاد کونسل کے 81 ارکان ہیں۔

پنجاب کی نامزد وزیراعلی مریم نواز نے اسمبلی رکنیت کا حلف اٹھا لیا

پنجاب کی نامزد خاتون وزیراعلی مریم نواز نے پنجاب اسمبلی کی رکنیت کا حلف اٹھا لیا ہے۔ مریم نواز کا کہنا ہے کہ وہ امید کرتی ہیں کہ اب پنجاب میں خدمت کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ نے غلط بیانی کا اعتراف کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگ لی

میں نے ایک سیاسی جماعت کے بہکانے پر غلط بیان دیا تھا جو صریحاً غیر ذمہ دارانہ عمل تھا، اس منصوبے کو ایک سیاسی جماعت کی بھرپور حمایت حاصل ہے، چیف جسٹس کا نام جان بوجھ کر شامل کیا گیا، قوم سے معافی چاہتا ہوں۔

حضرت محمدﷺ اللّٰه کے آخری نبی ہیں اور انکو تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

نبی آخر الزماں حضرت محمدﷺ کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے، آپﷺ صرف مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ تمام انسانوں سمیت اللّٰه کی تمام مخلوقات کیلئے بھی رحمت ہیں، آپﷺ کے بعد اب کوئی نبی اور رسول نہیں آئے گا اور اسکے بعد بات ختم ہوجاتی ہے۔
Op-Edنظام کی تبدیلی یا سوچ کی تبدیلی

نظام کی تبدیلی یا سوچ کی تبدیلی

Op-Ed
Op-Ed
Want to contribute to The Thursday Times? Get in touch with our submissions team! Email views@thursdaytimes.com
spot_img

اگر ہم پچھتر سال کے سود و خسارے کا حساب لگانے بیٹھیں تو خسارے کا تناسب سود سے زیادہ ہی ہو گا اور بتدریج یہ خسارہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ قوموں کی زندگی میں اتار چڑھاؤ کا آنا یا ناکامیوں اور کامیابیوں کے بیچ رسہ کشی کا جاری رہنا کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ یہ ایک متوازن قوم ہونے کی نشانی ہے اور اپنے ہر فائدے اور ہر خسارے کے بعد قومیں کچھ نئی سیکھ لیتی ہیں اور نئے عزم سے آگے بڑھنے کی کوشش بھی کرتی ہیں۔ وطنِ عزیز میں بھی نفع نقصان، کامیابی ناکامی اور اتار چڑھاؤ کا سامنا تو قانونِ فطرت کے مطابق ہی رہتا ہے لیکن اپنے نفع نقصان اور اتار چڑھاؤ سے سیکھنے کا عنصر تقریباً ناپید ہی ہے۔

برصغیر پاک و ہند کے طول و عرض میں پھیلے مسلمانوں نے جب آزادی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تو اس جھنڈ کو قوم بننے میں دیر نہیں لگی کیونکہ سرسید سے لے کر محمد علی جناح تک سبھی کے پاس کوئی نا کوئی سوچ اور نظریہ تھا اور اس سوچ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی بتدریج متحدہ ہندوستان میں آزادی کی لہر پروان چڑھی۔ برصغیر کی تقسیم اور آزادی ایک سیاسی جدوجہد کا نتیجہ تھی اور اس کے پیچھے اگر محمد علی جناح کی قائدانہ صلاحیتیں تھیں تو عوام کا جوش اور جذبہ بھی بہت ہی اہم عنصر تھا لیکن اس جوش اور جذبے کو ہم نے آزادی کے بعد کھو دیا۔ جہاں نوآزاد مملکت میں ریاست کی ذمہ داریاں سنبھالنے والے اقتدار کی رسہ کشی اور اختیارات کی کھینچا تانی میں پڑ گئے وہیں عوام کے جذبے کو بھی غمِ روزگار نے ماند کر دیا۔ وہ احمد ندیم قاسمی نے کہا ہے نا کہ پھر بھیانک تیرگی میں آ گئے، ہم گھر بجنے سے دھوکہ کھا گئے، کس تجلی کا دیا ہم کو فریب، کس دھندلکے میں ہمیں پہنچا گئے۔ تو ہمارے ساتھ کچھ یہی بیتی؛ قائد اعظم کی علالت اور وفات کے بعد قیادت کا جو خلاء پیدا ہوا وہ تادمِ تحریر نہیں بھرا یا ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ بھرنے ہی نہیں دیا گیا کیونکہ غداری، کفر، وطن فروشی و کرپشن کے نام نہاد نعرے و الزامات قائد کے ساتھیوں سے لے کر آج تک ہر عوامی راہنما کا تعاقب کرتے رہے اور کر رہے ہیں۔

سیاسی جدوجہد سے آزاد ہونے والے ملک پر اجارہ داری اس فوج اور اسٹیبلشمنٹ نے حاصل کر لی جو 14اگست 1947 تک ملکہ برطانیہ کی وفادار تھی اور آزادی حاصل کرنے میں ان کا کوئی کردار نہ تھا تو جب کردار ہی نہ تھا تو انہیں اس سے کوئی غرض بھی نہیں تھی کہ ملک کا نظریہ کیا ہے، آئین کی کیا اہمیت ہوتی ہے، تاریخ سے کیسے سیکھا جاتا ہے اور اقتدار عوام کی امانت ہے۔ آئین کو ردی کاغذ سمجھا اور تاریخ کو بس جھوٹی شان و شوکت کی نمائش کرنے کا ذریعہ، عوام سے انہیں ویسے ہی کوئی تعلق نہیں تھا اور نظریہ ان کا صرف ذاتی مفادات کا حصول ہی رہا یا اپنے اقتدار کو دوام دینے کے طریقے سوچنا اور اس دوام کے لیے سب سے اہم کردار ان نعروں اور الزامات کا رہا جو اوپر لکھے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر آمریت نے ہمیں ایسے تحائف دئیے جنہوں نے ملک اور عوام کو تقسیم در تقسیم ہی کیا اور ایوب و یحییٰ کی آمریت نے تو ملک ہی دولخت کر دیا لیکن دعویٰ بہرحال یہی ہے کہ ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں۔

کوئی پوچھنے والا نہیں کہ اگر زندہ و پائندہ ہوتے تو 90 ہزار ہتھیار کیوں ڈال دیتے؟ ایسا نہیں ہے کہ دنیا میں آمرانہ نظام کے ذریعے ممالک نے ترقی نہیں کی؛ چین میں ایک طرح کی آمریت ہی ہے لیکن گزشتہ ستر سال میں جیسے چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت بنا اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ میں اس بحث میں نہیں پڑتی کہ چین نے ترقی کیسے کی اور نہ ہی چین کو ہی مثال بناتے ہیں کیونکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد ترقی کرنے والوں میں چین ہی قابلِ ذکر نہیں ہے بلکہ جدید سنگا پور، ملائشیا، جرمنی اور یورپ کے تقریباً تمام ہی ممالک نے صنعتی ترقی کے ذریعے اپنے اپنے ملک اور عوام کے لیے ترقی، خوشحالی اور استحکام کے دروازے کھولے۔ ہمارے ساتھ ہی آزاد ہونے والا ملک بھارت بھی آج دنیا میں بڑھتی ہوئی معاشی طاقت کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ چین کا یک جماعتی نظام ہو، مغربی جمہوریت ہو یا امریکہ کا صدارتی نظام کسی نے بھی ان ممالک کو ترقی کرنے سے نہیں روکا۔ وجہ بہت سادہ سی ہے اور وہ یہ کہ ان ممالک میں ہر ادارہ، محکمہ اور عدلیہ اور مقننہ اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں اور افراد سے زیادہ ادارے اہم گردانے جاتے ہیں۔

حکومتوں کی تبدیلی ہو یا ادارہ جاتی تعیناتیاں افراد کے آنے جانے سے ملک کے انتظام و انصرام کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایک جاتا ہے تو دوسرا آنے والا وہی ذمہ داریاں احسن طریقے سے سرانجام دینے لگتا ہے۔ ایک مربوط اور مستحکم نظام جمہوریت، آمریت، بادشاہت یا صدارتی کسی بھی شکل میں ہو؛ ایک ایسی چھلنی ہوتا ہے جس میں سے نااہل و نالائق افراد خود بخود ہی چھن کر نظام سے باہر ہو جاتے ہیں اور اگر آ بھی جائیں تو ریاست کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ پاکستان کو جمہوری، صدارتی اور آمرانہ تینوں ہی طریقوں سے چلانے کی کوشش کی گئی لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہم دائروں کے سفر پر ہیں اور دائروں کے اس سفر نے کچھ افراد کو تو شاید بہت طاقتور بنا دیا لیکن ریاست کو کمزور ہی کیا۔ ہر کچھ عرصے کے بعد یہاں ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت کی گونج سنائی دینے لگتی ہے، ہر دفعہ حکومت کی تبدیلی کے عمل کو ریاست کی بقاء کا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے، ہر دفعہ جب ایک محکمے کے سربراہ کی تعیناتی کا وقت آتا ہے تو ایسے لگتا ہے کہ جیسے یہ کوئی ایسا مسئلہ ہے جو زندگی اور موت سے بھی بڑھ کر ہے اور نظام بدلنے کے نعرے تو یہاں تین وقت کے کھانے کی طرح ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ جبکہ مسئلہ وہی دائرہ کار کا ہے۔ جب تک ہر شخص، ہر ادارہ، ہر محکمہ، عدلیہ اور مقننہ اپنے اپنے دائرہ کار میں رہنا نہیں سیکھیں گے دائروں کا یہ سفر جاری رہے گا۔ آپ نظام کوئی بھی لے آئیں جب تک اپنی ڈومین میں رہ کر اپنے کام سے کام رکھنا شروع نہیں کیا جائے گا تب تک ترقی، خوشحالی اور استحکام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔


The contributor, Naddiyya Athar, has an M.A. in Urdu Literature and a B.Ed. With experience teaching at schools and colleges across Pakistan, she specialises in the discussion of the country’s ever-changing political landscape.

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
error: