spot_img

Columns

Columns

News

سابق افغان جنرل نے افغان طالبان حکومت کے خلاف مسلح کارروائیوں کا اعلان کر دیا

سابق افغان جنرل نے طالبان حکومت کے خلاف مسلح کارروائیوں کا اعلان کر دیا۔ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے سربراہ سمیع سادات نے طالبان حکومت کے ارکان، اڈوں اور قیادت کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔ اُنہوں نے امریکا اور نیٹو سے سیاسی و مادی مدد کی درخواست بھی کی ہے۔

Pakistan and Qatar deepen security ties as fragile US-Iran peace push gains ground

Interior Minister Mohsin Naqvi and his Qatari counterpart agreed to deepen security cooperation in Doha this week, as Pakistan and Qatar push behind the scenes to salvage the Islamabad MoU and bring Washington and Tehran back to the table.

Kuwait ratifies defense pact with Pakistan

Kuwait's Amir has formally ratified the defence cooperation agreement with Pakistan by decree, published in the official gazette. The agreement covers training, logistics, military intelligence, defence industries and a joint military committee.

Security forces launch Mastung operation, 15 terrorists killed

Security forces launched Operation Al Azm in Mastung's Tehsil Khad Kucha, killing 15 terrorists and wounding 12, according to security sources. Eight suspects were detained, one hideout destroyed and a large cache of weapons seized. No casualties were reported among security forces.

Pakistan backs Saudi Arabia after Houthi attacks on Red Sea oil tankers

Prime Minister Shehbaz Sharif has condemned Houthi attacks on Saudi oil tankers and reaffirmed Pakistan's full support for the Kingdom during a call with Crown Prince Mohammed bin Salman. Both leaders pledged closer cooperation to protect regional stability and vital maritime trade routes.
Op-Edنوازشریف کی گفتگو۔۔۔مخاطب کون؟
spot_img

نوازشریف کی گفتگو۔۔۔مخاطب کون؟

Op-Ed
Op-Ed
Want to contribute to The Thursday Times? Get in touch with our submissions team! Email views@thursdaytimes.com
spot_img

مریم نواز شریف کے ایون فیلڈ لندن پہنچنے کے بعد میاں صاحب نے میڈیا کے ساتھ اپنی پہلی باضابطہ گفتگو میں بہت سی باتیں کیں۔ یہ باتیں نئی نہیں تھیں۔ پہلے بھی یہ باتیں ہو چکی ہیں اور ان پر مختلف انداز میں تبصرے اور تجزیے بھی ہو چکے ہیں لیکن اب میاں صاحب نے ان تمام واقعات کو ایک ہی نشست میں کر کے اکٹھا کر دیا۔ میاں صاحب کی گفتگو ایک میچور اور سنجیدہ سیاستدان کی گفتگو تھی؛ ایسی گفتگو جس میں نہ تو کوئی بھڑک تھی، نہ الزام تراشی، نہ مستقبل کے دعوے اور نہ ہی واقعات کو ایسا رنگ دینے کی کوشش جس سے بات کا پس منظر بدل جائے۔ میاں صاحب نے اپنی بیوی، والدہ اور بیٹی کے حوالے سے اپنے جذباتی لمحات شئیر کیے اور اپنے تاثرات بتاتے ہوئے سوال کیا کہ آخر ان کا کیا قصور تھا جو ان کے ساتھ یہ سب کیا گیا؟ ساتھ ہی سوال کا دوسرا حصہ پہلے سے بھی زیادہ اہم تھا کہ میرا نقصان کرتے کرتے ملک کا نقصان کیوں کر دیا؟ میاں صاحب نے اپنے مختلف ادوار کی کارکردگی کا ذکر کیا۔ ایٹمی دھماکے کرنے کے حوالے سے امریکہ کی پیشکش ٹھکرانے کا ذکر کیا۔ بجلی کے منصوبوں اور دیگر عوامی ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے اپنے دور کی معاشی ترقی پر بات کی۔ یہ سب کرنے کے باوجود آخر وہ ناپسندیدہ کیوں رہے اور ان کے ساتھ ایسا مخاصمانہ سلوک کیوں کیا گیا؟

میاں صاحب کا یہ سوال ظاہر ہے سیاسی مخالفین سے تو نہیں ہے اور نہ ہی میاں صاحب کے ساتھ یہ سب عمران خان یا کسی اور سیاسی مخالف نے کیا۔ سوال انہیں سے ہے جو اس ریاست کے بزعمِ خود دائمی و حتمی حکمران بنے پھرتے ہیں۔ کچھ لوگ میاں صاحب کے خطاب پر کہتے ہیں کہ میاں صاحب نے نام کیوں نہیں لیے؟ میاں صاحب جانتے ہیں کہ ان کے ساتھ یہ سب ظلم اور زیادتی کیوں کی گئی پھر وہ بتاتے کیوں نہیں ہیں؟ یہ وہی سوال ہیں جو 2017 میں جب میاں صاحب کو نااہل کیا گیا اور انہوں نے عوام رابطہ مہم شروع کی تو میاں صاحب سے کیا جاتا تھا کہ آپ نام کیوں نہیں لیتے؟ پھر ایک وقت آیا جب میاں صاحب نے نام بھی لیے اور ہر بات واضح کر کے بتائی بھی تو پھر کیا ہوا؟ کیا میاں صاحب کے لیے نام اور بتائے گئے حقائق میڈیا پر دکھانے کی کسی نے جرات کی؟ کیا کسی نے میاں صاحب کے لیے ناموں پر ان کرداروں سے سوال کرنے کی ہمت کی؟ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ پھر اب دوبارہ میاں صاحب سے گلہ کیوں اور کیسے؟ آج جب میاں صاحب نے اپنی ہمت، طاقت، سمجھداری، حکمت اور اپنے صبر اور برداشت سے اپنی لڑائی جیت لی ہے تو اب انہیں کیا ضرورت ہے نام لینے کی اور نیا پینڈورا باکس کھولنے کی؟

یہ میاں صاحب کے بیانیے کی جیت ہی ہے کہ 24 چینلز نے میاں صاحب کو براہ راست دکھایا، یہ میاں صاحب کی جیت ہے کہ میاں صاحب کا بھائی وزیراعظم پاکستان ہے، یہ میاں صاحب کی جیت ہے کہ ان کا سب سے قریبی ساتھی وزیر خزانہ پاکستان ہے، یہ میاں صاحب کی جیت ہے کہ ان کی بیٹی تمام مقدمات سے بری ہو کر آج ان کے ساتھ موجود ہے جس کا انہوں نے اعتراف بھی کیا اور مریم کی ہمت، جرات اور بہادری کی تعریف بھی کی۔ میاں صاحب ایک سیاستدان ہیں اور سیاست میں ہر وقت للکار اور مرنے مارنے کی باتیں نہیں ہوتیں بلکہ بہت سی باتیں بین السطور بھی کہی جاتی ہیں اور معاملات کو جذبات کی بجائے عقل کی کسوٹی پر طے کیا جاتا ہے۔ احتجاج اور مفاہمت ایک دوسرے کے متوازی چلتے ہیں اور جب جہاں جس عمل کی ضرورت ہو اس سے کام لیا جاتا ہے۔ میاں صاحب کی گفتگو سن کر صاف پتہ چلتا ہے کہ میاں صاحب نے اپنا بیانیہ نہیں چھوڑا اور وہ آج بھی انہیں مقتدر حلقوں کو اپنے سوالات کی زد میں لا کر کٹہرے میں کھڑا کر رہے ہیں جنہوں نے نوازشریف سے مخاصمت میں ملک کا بیڑا غرق کروا لیا۔ میاں صاحب کا بیانیہ وہی ہے بس انداز بدلا ہے اور بدلتے وقت کے ساتھ اس بدلے انداز کی اہمیت اور افادیت کو سمجھنا ہم سب کے لیے ضروری ہے۔

اللہ پاک پاکستان کا حامی و ناصر ہو، آمین۔


The contributor, Naddiyya Athar, has an M.A. in Urdu Literature and a B.Ed. With experience teaching at schools and colleges across Pakistan, she specialises in the discussion of the country’s ever-changing political landscape.

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.