spot_img

Columns

Columns

News

Saudi Arabia, Turkey and Pakistan sign Makkah Joint Defence Agreement

Saudi Arabia, Turkey and Pakistan have signed the Makkah Joint Defence Agreement at Al-Safa Palace, a trilateral pact under which an armed attack against any one of the three states will be regarded as an attack against them all.

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی ”مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ“ پر دستخط کر دیئے

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ دفاعی، عسکری اور تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں

پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات جولائی 2026 میں پہلی مرتبہ 1.833 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین ماہانہ سطح ہے۔ صرف ایک ماہ میں 43 فیصد اضافے کے ساتھ ٹیکسٹائل شعبہ نئے مالی سال کے آغاز میں بھی پاکستان کی برآمدی معیشت کا سب سے بڑا ستون بن کر سامنے آیا۔

Pakistan’s textile exports hit record $1.83 billion in a single month

Pakistan's textile exports reached $1.833 billion in July, the highest monthly figure on record, up 43 percent from June and 9.11 percent on the same month last year. Total exports rose 10 percent to $2.96 billion, with textiles the clear driver.

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ریاض میں اہم دفاعی معاہدہ آج متوقع

ریاض (تھرسڈے ٹائمز) — سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ...
Opinionڈیجیٹل میڈیا برانڈنگ، بیانیے کی جنگ اور مسلم لیگ ن
spot_img

ڈیجیٹل میڈیا برانڈنگ، بیانیے کی جنگ اور مسلم لیگ ن

Raza Butt
Raza Butt
Raza Butt is the editor of The Thursday Times.
spot_img

سولہ اکتوبر کو ہونے والی ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف نے اپنی ہی جیتی ہوئی آٹھ نشستوں میں سے چھے نشستیں دوبارہ جیت لیں البتہ دو نشستوں پر اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا واضع رہے کہ ماسوائے ایک نشست کے جس پر شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کے مدمقابل تھیں بقیہ تمام نشستوں پر عمران خان نے الیکشن لڑا۔

اس الیکشن میں پیپلز پارٹی نے دو نشستوں پر الیکشن میں کامیابی حاصل کی جبکہ ن لیگ جس کا گڑھ پنجاب سمجھا جاتا ہے اسکو فیصل آباد میں ایک بڑے مارجن سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اسکے علاوہ ن لیگ کو پنجاب کی دو صوبائی نشستوں پر بھی ناکام ہوئی اور یہ ناکامی ن لیگ کیلئے کئی سوالات اٹھا چکی ہے۔

عمران خان جو اپنی حکومت میں سخت غیر مقبول ہوچکے تھے حکومت چھن جانے کے بعد انہوں نے سازش کے بیانیے کوجس طرح بنایا اسے عوام میں مقبول کروایا اور اسکی بنیاد پر اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت کو پھر دوام بخشنے میں کامیاب ہوگئے جبکہ اسکے مقابلہ میں ن لیگ جو عمران خان حکومت میں مقبولیت کی انتہا پر پہنچ چکی تھی اسے نہ صرف پچھلے بالکہ حالیہ ضمنی انتخابات میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

یہاں پرکچھ لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ پچھلے اور موجودہ ضمنی انتخابات میں جن نشستوں پر تحریک انصاف کو کامیابی نصیب ہوئی وہ تو حقیقت میں تحریک انصاف کی اپنی ہی جیتی ہوئی نشستیں تھیں اس بات کو اگرکچھ وقت کیلئے تسلیم کربھی لیا جائے تویاد دہانی کیلئے بتاتا چلوں کہ دوہزاراٹھارہ کے انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی کو آرٹی ایس سسٹم کی مرہون منت قرار دیا گیا تھا اس حساب سے تو پھر تحریک انصاف کو اب یہ نشستیں جیتنا نہیں چاہییں تھیں۔

ن لیگ کے ہارنے کی اور کئی وجوہات ہونگی لیکن ناکامی کی ایک بڑی وجہ اسٹریٹیجی اور منیجمنٹ کا فقدان نظر آتا ہے جس دورمیں آج ہم جی رہے ہیں وہ ڈیجیٹل میڈیا کا دور ہے پراپیگنڈہ کا دور ہے پبلک ریلیشنز کا دور ہے اور اسی ہتھیار کو استعمال کرکے تحریک انصاف نے اپنے سچے جھوٹے بیانیے کواپنے ووٹر سپورٹرز کے دل ودماغ میں نقش کردیا ہے لیکن اسکے برعکس ن لیگ ابھی تک ڈیجیٹا میڈیا کے جدید دور کے جدید تقاضوں سے کوسوں دور نظر آتی ہے ڈیجیٹل میڈیا صرف سوشل میڈیا کا نام نہیں ہے بالکہ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔

ن لیگ تو جیسے ابھی بھی نوے کی دہائی میں جی رہی ہے اوراسی حساب سے اپنی الیکشن اسٹریٹجی بناتی نظر آتی ہے اور شاید یہ ہی جماعت کی ناکامی کی بہت بڑی وجہ ہے نہ ہی بحثیت جماعت کوئی موثر بیانیہ یہ بنا سکے ہیں اور نہ ہی مخالف کے بیانیے کا توڑ نکال پائے ہیں اور وہ توڑ نکلے بھی تو کیسے کیونکہ مخالف دور جدید کے ڈیجیٹل ہتھیاروں سے مکمل طور پر لیس ہے اور جب آپ مخالف کے ہتھیاروں کے مقابلہ میں پچھلے زمانہ کے ہتھیاروں سے لیس ہوں تو مقابلہ کیسے ہوسکتا ہے۔

موجودہ دور ڈیجیٹل میڈیا مارکیٹنگ بشمول سوشل میڈیا کا ہے پراپیگنڈہ کا ہے پبلک ریلیشنز کا ہے برانڈنگ کا ہے میڈیا مینیجمنٹ کا ہے اوراپنے بیانیہ کو ووٹرز تک پہنچانے کیلئے اور مخالف کے بیانیے کا توڑ کرنے کیلئے ان ٹولز کا استعمال بے حد ضروری ہے سوشل میڈیا اورانٹرنیٹ فیک نیوز اورپراپیگنڈہ سے بھرا ہوا ہے اپنے بیانیے کو اتنی مہارت سے پھیلایا جاتا ہے کہ وہ عوام کی بھرپورتوجہ بڑی جلدی حاصل کرلیتا ہے اس سب سے نبٹنے کیلئے نوے کی دہائی والی اسٹریٹیجی کے تحت اگرکاونٹر اسٹریٹیجی اپنائی جائیگی تو پھرنتیجہ وہی نکلے گا جوموجودہ اور پچھلے ضمنی انتخابات کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

ن لیگ کے پاس اب زیادہ وقت نہیں پچا آئیندہ عام انتخابات جلد یا دیر ہونے ہیں ان انتخابات میں اگر روایتی طریقہ سے جایا گیا تو پھر نتیجہ زیادہ مختلف نہیں نکلے گا اور اس کا واحد حل ڈیجیٹل میڈیا، پراپیگنڈہ، پبلک ریلیشنز میڈیا منیجمنٹ کے ماہرین پر مشتمل پروفیشنلز کی الگ الگ ٹیم بنانا ہے جو نہ صرف جماعتی بیانیے کی بھرپورما برانڈنگ اور مارکیٹنگ کرے بالکہ اسے عوام کو ذہن نشین کروانے کیلئے ایک طرف تمام ڈیجیٹل میڈیا اورروایتی میڈیا کو بھر پور موثر انداز میں استعمال کرے جبکہ دوسری جانب پراپیگنڈہ ٹیم مخالفین کے تمام پراپیگنڈہ کا بروقت اور بھرپورجواب دینے کی مکمل صلاحیت سے لیس ہوتاکہ انکا سچا جھوٹا تمام پراپیگنڈہ سر اٹھانے سے قبل ہی زمیں بوس ہوجائے تاکہ جو بھی فیک نیوز پھیلائئ جائیں انکا فوری اور مکمل سدباب برقت کیا جاسکے۔

اس سب کیساتھ ساتھ جو جماعت کے والنٹیئرز مختلف ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز پر انفرادی حیثیت میں کام کررہے ہیں انکو بھی آن بورڈ لینا بہت ضروری ہے یہ وہ گمنام ہیروز ہیں جنہوں نے ہر مشکل وقت میں جماعتی بیانیے کے علم کو بلند رکھنے کی بھرپور کوشش کی ہے ان سب کے تجربات سے بھی جماعت کو بھرپورفائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔

دنیا بدل رہی ہے وقت حالات بدل رہے ہیں جوجدید دور کے جدید تقاضون کے متلاشی ہوتے ہیں بیانیہ کوئی بھی ہو اگر بدلتے وقت اور حالات کیساتھ ساتھ خود کو نہ بدلا جائے تو پھر وقت آگے نکل جاتا ہے اوربیانیہ پیچھے رہ جاتا ہے وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا اسکا واحد حل وقت کیساتھ ساتھ بدلتے حالات و واقعات کے مطابق خود کو ڈھالنے میں ہے اور چونکہ موجودہ دور ڈیجیٹل میڈیا برانڈنگ، پراپیگنڈہ، پبلک ریلیشنز اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کا ہے لہذا اس دور کے ہتھیاروں سے لیس ہوئے بغیرکسی بھی بیانیے کو کامیابی ملنا ناممکن ہے۔

  1. The leadership of the N-League is looking very non-serious. These are things that have been repeatedly pointed out and criticized for reform but have no impact on leadership.

    If even now a formal strategy is not made by digital media professionals and the volunteers of the party are not taken into confidence, then it will suffer serious consequences.

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.