دوہزار گیارہ میں شروع ہونے والا پراجیکٹ عمران اپنے اختتام کی جانب گامزن اور رواں دواں ہے ایک ایک کرکے تمام وہ کردار جنہوں نے اس پراجیکٹ کو بنایا پالا پوسا پروان چڑھایا وہ ایک ایک کرکے منظر سے غائب ہوتے اور تاریخ کے اوراق کا حصہ بنتے جارہے ہیں
یہ وہ پراجیکٹ ہے جس کی آبیاری تین آئی ایس آئی کے سربراہران نے علی الاعلان کی جن میں جنرل پاشا جنرل ظہیرالاسلام اور جنرل فیض حمید شامل ہیں
جنرل پاشا نے اس پراجیکٹ کوجھاڑ پونچھ کرکے مارکیٹ میں لانچ کیا جنرل ظہیر الاسلام نے اسے جلا بخشی اورجنرل فیض نے اسے دوام دیا یہاں پرسابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کا ذکرنہ کرنا انکے ساتھ زیادتی ہوگی کیونکہ پراجیکٹ عمران کودوام بخشنے میں جنرل فیض حمید کیساتھ جنرل باجوہ کا ایک کلیدی کردار رہا
جنرل باجوہ نے بیالیس برس فوج میں ملازمت کی جس کے آخری چھے برس انہوں نے پاکستانی فوج کی کمان سنبھالے رکھی اپنی کمان کے پانچویں برس انکو احساس ہوا کہ سیاست میں جس حد تک انکا عمل دخل ہوچکا ہے اس سے پیچے ہٹا جائے اور نیوٹرل رہا جائے جویقینا ایک قابل تحسین فیصلہ تھا لیکن جب تک یہ فیصلہ کیا گیا اس وقت تک پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی بہہ چکا تھا
جنرل باجوہ کے دور حکومت میں سیاست میں جس حد تک مداخلت کی گئی ایسا شاید ہی جمہوری تاریخ میں کہیں ملے نیوٹرل ہونا اچھی بات لیکن جو غدراور گند سیاسی میدان میں پھیلایا گیا اس کی صفائی کیے بغیرملک اورقوم کو اس سے چھٹکارا ملنا ممکن نہں غلطی کا احساس ہونا اچھی بات ہے لیکن غلطی کو جب تک مکمل طور پر سدھارا نہ جائے تب تک اس غلطی کا مداوا ممکن نہیں
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جس ناکام پراجیکٹ کوخون دل دیکر نکھارا گیا اس پراجیکٹ کی بری طرح ناکامی کے بعد اسکا مکمل سدباب کیا جاتا جیسے کسی زخم کا مکمل علاج نہ کیا جائے تو وہ ناسور بن جاتا ہے ویسے ہی یہ ناکام پراجیکٹ ملکی سیاست معیشت اور سالمیت کیلئے ایک ناسور بن چکا ہے اور جب تک اس ناسور کا مکمل علاج نہیں کیا جائیگا تب تک اس سے چھٹکارا ملنا ممکن نہیں تب تک یہ سیاست کے میدان کو گدلا کرتا رہیگا
فوج کو نیوٹرل ضرور ہونا چاہیے لیکن نیوٹرل ہونے سے قبل اس پراجیکٹ کا مکمل خاتمہ بہت ضروری تھا جس پراجیکٹ کو بینڈ باجوں کیساتھ پاکستانی عوام کے کاندھوں پر لادا گیا اسے اسی زور شور سے عوام کے کاندھوں سے اتار کر زمیں بوس کیا جانا بہت ضروری تھا اور ایسا کرنے کے بعد بے شک جی بھر کر نیوٹرل ہوجاتے کسی کواس پر کوئی اعتراض نہ ہوتا
اگر نیوٹرل ہونا تھا تو اس وقت ہوتے جب ملکی معیشت بہت بہتر حالت میں تھی ڈالر کنڑول میں تھا سٹاک مارکیٹ پچپن ہزار پر تھی سی پیک کا آغاز ہوچکا تھا بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم ہوچکی تھی لیکن اس وقت تو نیوٹرل ہونے کا خیال نہیں آیا اور اچھے خاصے چلتے ملک کو پراجیکٹ عمران کے ایڈونچر میں دھکیل دیا گیا
اگر نیوٹرل ہونا تھا تو اسوقت ہوتے جب ایک منتخب وزیراعظم کو عدالتوں سے نااہل کروایا گیا اور اسی پر اکتفا نہیں کیا بالکہ اسکو پارٹی صدارت سے بھی نااہل کروایا گیا اور جب اس پربھی جی نہ بھرا توسیاست سے تاعمر نااہل کروادیا گیا اور یہ سب کچھ پراجیکٹ عمران کودوام بخشنے کیلئے کیا گیا
اگر نیوٹرل ہونا تھا تو اس وقت ہوتے جب تین مرتبہ کے منتخب وزیراعظم کوبیٹی کے ساتھ وطن واپسی پرائیرپورٹ سے گرفتار کیا گیا اور اسی پر اکتفا نہیں کیا بالکہ اسکی بیٹی کو بھی ساتھ ہی گرفتار کرلیا گیا
اگر نیوٹرل ہونا تھا تو اس وقت ہوتے جب جے آئی ٹی بنوا کر تین مرتبہ کے وزیراعظم کو بلیک لا ڈکشنری کا سہارا تلاش کرکے عدالت کا کندھا استعمال کرکے سزا دلوائی گئی
اگر نیوٹرل ہونا تھا تو اسوقت ہوتے جب تین مرتبہ کے منتخب وزیراعظم کواس کی بیٹی مریم نواز جیل ملنے آئی تووالد کے سامنے بیٹی کوگرفتار کرلیا گیا تاکہ والد کو ذہنی تکلیف پہنچائی جاسکے
اگر نیوٹرل ہونا تھا تو اس وقت ہوتے جب ملکی معیشیت کا جنازہ نکالا جارہا تھا سی پیک بند ہورہا تھا ملک کو دوبارہ معاشی تنزلی میں پھینکا جارہا تھا لیکن اسوقت تو اپنے پراجیکٹ کو ہر ممکن بچانے کی دھن سوار تھی
اگر نیوٹرل ہی ہونا تھا تواس وقت ہوتے جب الیکشن میں آر ٹی ایس بٹھایا جارہا تھا جب الیکشنز کو الیکشن سے قبل ہی مینج کیا جارہا تھا
اگر نیوٹرل ہی ہونا تھا تو اس وقت ہوتے جب اپنے پراجیکٹ کو اعتماد کے ووٹ کیلئے ممبران کو فون کرکے اسمبلی بلایا جارہا تھا اگر نیوٹرل ہی ہونا تھا تو اس وقت ہوتے جب سینٹ میں اپنے پراجیکٹ کو کامیاب کروانے کیلئے اسکی اقلیت تو اکثریت میں بدلا گیا
لیکن نیوٹرل ہونا اسوقت یاد آیا جب دیکھا کہ اب تو پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی بہہ چکا ہے ملک دیوالیہ ہونے کے قریب آچکا ہے ملک چلانا اس پراجیکٹ کے بس کا روگ نہیں اور جب سرپر مکمل آن پڑی تو فیصلہ ہوا کہ نیوٹرل ہوجاتے ہیں نیوٹرل ہونے کا فیصلہ اگرکرہی لیا گیا تھا تو اس پراجیکٹ سے جو عوام کے سروں پر زبردستی مسلط کیا گیا اس سے عوام کی مکمل جان خلاصی کروائی جاتی لیکن شاید کسی مصلحت کے تحت اس سے جان تو چھڑوائی لیکن پوری نہیں بالکہ آدھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ پراجیکٹ آج بھی ملکی سیاست کے زخم کا ناسور بن کرگھوم رہا ہے جب تک سیاست کے اس ناسور کا مکمل علاج نہیں ہوتا ملکی سیاست میں استحکام نہیں آسکتا تب تک ملکی معیشت میں واضع استحکام نہیں آسکتا
سوال یہ ہے کہ اس پراجیکٹ کا خاتمہ کیونکر ممکن ہےاس پراجیکٹ کو دوام بخشنے والے تو گمنامی کی زندگی گزارے کا کہہ کر چلتے بنے ہیں لیکن جو عفریت بنا گئے ہیں اس سے کون نبٹے گا کیا انکے بعد نئے آنیوالے اس سے نبٹ پائیں گے
∎



