spot_img

Columns

Columns

News

پاکستان نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ یمن میں اپنے حوثی اتحادیوں پر قابو پائے، روئٹرز

پاکستان نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ یمن میں اپنے حوثی اتحادیوں پر قابو پائے۔ تہران نے اضافی فنڈنگ و ہتھیاروں کا وعدہ کرتے ہوئے حوثیوں کو سعودی عرب پر حملے کی ہدایت دی۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب حوثیوں کے خلاف مشترکہ کارروائی بھی کر سکتے ہیں۔ روئٹرز

Pakistan warns Iran to rein in Houthis as Saudi strikes back

Pakistan has moved on two fronts over the Houthi assault on Saudi Arabia this week: Defence Minister Khawaja Asif warning the Makkah Defence Pact could become operational, and Pakistan separately delivering a direct diplomatic warning to Iran, Reuters reports, urging Tehran to rein in the Houthis.

Apple unveils iPhone Duo, its first foldable iPhone

Apple has unveiled the iPhone Duo, its first-ever foldable iPhone, featuring a 7.6-inch display Apple calls the largest and most immersive iPhone screen ever. The launch, presided over by new CEO, starts at $1,999, with preorders opening October 16.

Trump did not object to UK’s Israel settlement sanctions

US President Donald Trump did not push back on British plans to sanction Israeli settlements when briefed by Prime Minister Andy Burnham, a Western official told The Times of Israel.

UK PM Burnham announces sanctions on Israeli settlements

British Prime Minister Andy Burnham announced a package of measures targeting Israeli settlements in the West Bank, including a trade ban, a formal declaration that the occupation is unlawful, and sanctions on individuals and companies profiting from settlement expansion, calling it a decisive break from years of British hesitancy.
Op-Ed⁨پراجیکٹ عمران کی حقیقت⁩
spot_img

⁨پراجیکٹ عمران کی حقیقت⁩

پراجیکٹ عمران کا آغاز 2011سے نہیں بلکہ 1992کی مشکوک ورلڈ کپ جیتنے سے ہوئ۔یہ کیسے ہوا کہ جو ٹیم مسلسل ہار رہی تھی ایکدم سے فائنل میں پہنچ گئی اور پھر جیت گئی۔

Op-Ed
Op-Ed
Want to contribute to The Thursday Times? Get in touch with our submissions team! Email views@thursdaytimes.com
spot_img

پراجیکٹ عمران کا آغاز 2011سے نہیں بلکہ 1992کی مشکوک ورلڈ کپ جیتنے سے ہوئ۔یہ کیسے ہوا کہ جو ٹیم مسلسل ہار رہی تھی ایکدم سے فائنل میں پہنچ گئی اور پھر جیت گئی۔

بہرحال اس پراجیکٹ پر کام شروع کیا گیا اور ایک پلے بواے بدنام زمانہ کرکٹر کو ایک فلاحی کام کرنے والا سادھو بنا کر اسوقت کی عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔
ایک ایسا شخص جو ماں کے جنازے میں شریک نہ ہوا ہو اسے یکایک ماں کے نام پر کینسر ہسپتال کھولنے کا خیال آگیا۔
اس فتنے کو فنڈ ریزنگ کے نام پر تعلیمی اداروں میں بھیجا گیا تاکہ اسوقت کے بچے اور نوجوان اس کے سحر میں مبتلا ہو سکیں۔
پھر یکایک برطانیہ کے ارب پتی گولڈ سمتھ نے اپنی بیٹی کی شادی اس کرکٹر کے ساتھ کردی۔جبکہ ایسے کئی کرکٹر برطانیہ میں موجود تھے تو پھر ایک کنگلا پلے بواے ہی کیوں گولڈ سمتھ کا منظور نظر ٹہرا۔
اس فتنے کا ایک امیج بنایا گیا کہ جیسے یہ عوام سے بھیک چندہ زکوة مانگ کر پاکستان کا پہلا کینسر ہسپتال بنا رہا ہے جبکہ یہ بھی حقیقت نہیں۔
شوکت خانم سے پہلے بھی کئی کینسر کے مفت ہسپتال پاکستان میں کام کررہے تھے۔
جب یہ فتنہ پوری طرح اس وقت کے بچوں اور نوجوانوں کے دماغوں پر چھا گیا تو راتوں رات ایک سیاسی جماعت تحریک انصاف بنا دی گئی۔
شروع میں لوگوں نے اسے سیریس نہیں لیا کیونکہ بقول لوگوں کے کہ یہ تو ایک فلاحی کام کرنے والا ایماندار شخص ہے۔گویا ایمانداری اور فلاحی کام کا ٹھپہ لگ چکا تھا۔
اب باری آتی ہے اس فتنے کی سیاسی لانچنگ کی۔
لہذا 2014کے دھرنے میں اس بدبخت فتنے کی مکمل سہولتکاری کرتے ہوے ایک عدد دھرنا ارینج کروایا گیا جس میں اسوقت کی اسٹیبلشمنٹ پوری طرح ملوث تھی۔
اس دھرنے میں پاکستان کے منتخب وزیراعظم سے لیکر ہر سیاستدان کو گالیاں دی گئیں۔برابھلا کہا گیا اور پولیس کے افسران پر ہجوم سے جان لیوا حملے تک کرواے گئے۔
یہ دراصل نفرت کی،انتشار،تقسیم کی سیاست کا باقاعدہ آغاز تھا۔
عوام اب واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ایک وہ جو سیاسی لوگ تھے دوسرا اس بدبخت فتنے نیازی کا فین کلب جو اسے ایک مسیحا اور تمام خطاوں سے مبرا قرار دے چکی تھی۔گویا یہ طبقہ ایک کلٹ کی صورت اختیار کرگیا۔
اس فتنے کا یہ دھرنا سانحہ اےپی ایس کے بعد سمیٹا گیا اور 2016میں پانامہ کا شوشہ چھوڑا گیا اور اسوقت کے منخب وزیراعظم میاں نواز شریف کا نام نہ ہوتے ہوے بھی انہیں اس میں ملوث قرار دیکر انکا عدالتی ومیڈیا ٹرائل شروع کردیا گیا۔
پانامہ میں سے تو کچھ نہ ملا لیکن چونکہ پراجیکٹ عمران کی تکمیل کا وقت آچکا تھا لہذا پانامہ کیس میں سے ایک عدد اقامہ نکال کر اسوقت کے عمرانی چیف جسٹس ثاقب نثار اور سہولتکاروں نے اسوقت کے منتخب وزیراعظم کو تاحیات نااہل کردیا۔
ایک سال بعد 2018کے الیکشن میں آرٹی ایس بیٹھا کر اس فتنے کو زبردستی عوام پر مسلط اور تین دفعہ کے منتخب وزیراعظم کو بےقصور جیل میں ڈال دیا گیا۔
آج پاکستان جس دیوالیہ پن کے دہانے پر ہے وہ سب اس فتنے کو مسلط کرنے کے ثمرات ہیں۔جسکا اقرار اب اس کے ہینڈلرز کررہے اور برملا کررہے۔
ایک فتنے پراجیکٹ کو مسلط کرنے کی ضد نے ایک ہنستے بستے واحد اسلامی ایٹمی طاقت ملک کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کردیا۔
اس فتنے نے معیشت کی ریڑھ کی ہڈی گویا چکناچور کردی جسکو بحال ہوتے بھی کئی سال لگ جائیں گے۔
The contributor, Shabnam Husnain, is a social media activist.

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.