سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صرف 40 منٹ میں مجھے برطرف کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جسٹس شوکت صدیقی

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو اپنے کیس کی شنوائی کیلئے درجنوں خطوط لکھے کہ میرے کیس کا فیصلہ جلد کردیا جائے لیکن آج تک شنوائی نہیں ہوئی۔ میں اب اللہ تعالی کی طرف سےہی انصاف کا طلبگار ہوں۔

Join the conversation

Translating from the Urdu… 0 of 2 Read the original

A file photo is shown of former Senior Justice of the Islamabad High Court Shaukat Aziz Siddiqui. — FILE/THE THURSDAY TIMES
A file photo is shown of former Senior Justice of the Islamabad High Court Shaukat Aziz Siddiqui. — FILE/THE THURSDAY TIMES
Listen to this articleسپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صرف 40 منٹ میں مجھے برطرف کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جسٹس شوکت صدیقی2 min · device voice0:00 / 1:57

اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق سینیئر جج شوکت عزیز صدیقی نے جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں صحافی حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کوئی درخواست نہیں آئی بلکہ اس وقت کے چیف جسٹس نے سوموٹو لیکر نوٹس لیا یکم اکتوبر کو مجھے طلب کیا اور گیارہ اکتوبر کو میڈیا سے پتہ چلا سپریم جوڈیشل کونسل نے مجھے نکالنے کی سفارش کی ہے اور صرف چالیس منٹ میں مجھے نکالنے کا نوٹیفکیشن جاری ہوگیا۔

جسٹس شوکت صیقی نے کہا کہ اسوقت چیف جسٹس ثاقب نثار اور جنرل فیض حمید بہت ایکٹو تھے۔ جب میں نے فیض حمید کا نام لیا تو اسوقت میرے پاس سارے ثبوت موجود تھے اور میں نے اسوقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کو کہا کہ اس پر کمیشن بنایا جائے اور میرے الزامت غلط ثابت ہوتے ہیں تو مجھے بے شک لٹکا دیا جائے۔

اس موقع پر شوکت صدیقی نے کہا کہ اس وقت کی سپریم کورٹ کے سینئر ججز اور اس وقت کی فوج کی لیڈرشپ آپس میں ایک تھے اور مل کر اپنے پراجیکٹ کو چلا رہے تھے۔

جسٹس شوکت صدیقی نے کہا کہ موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو اپنے کیس کی شنوائی کیلئے درجنوں خطوط لکھے کہ میرے کیس کا فیصلہ جلد کردیا جائے لیکن آج تک شنوائی نہیں ہوئی۔ میں اب اللہ تعالی کی طرف سےہی انصاف کا طلبگار ہوں۔

سابق جج نے مزید کہا کہ الیکشن کروانا الیکشن کمیشن کا کام ہے جسکی آرٹیکل 218/3  کے تحت صاف شفاف الیکشن کروانے ذمہ داری ہے اور اگر وہ مقررہ مدت میں الیکشن کروانے کیلئے تیار نہیں تو پھر نوے روز میں کیسے الیکشن ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک نئے الیکشن نہیں ہوجاتے تب تک نگران حکومتیں کام کرتی رہینگی۔

TT Court Reporter

Courts and the law, from The Thursday Times' court reporter.

More from this desk

The conversation

Comments are open on this story. An editor reads every one before it appears.

No one has said anything yet. Be the first.

Published by Thursday Media International thursday.media