Columns

News

تحریکِ انصاف نے آئی ایم ایف کو خط لکھ دیا، نیوز ایجنسی رائٹرز

تحریکِ انصاف نے آئی ایم ایف کو خط لکھ کر پاکستان کے ساتھ معاہدہ کو عام انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات اور سیاسی استحکام سے مشروط کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

بینک آف امریکا نے پاکستان کے ڈالر بانڈز کا درجہ بڑھا کر ہیوی ویٹ کرنے کی تجویز دے دی، جریدہ بلومبرگ

بینک آف امریکا نے پاکستان کا درجہ مارکیٹ ویٹ سے بڑھا کر ہیوی ویٹ کرنے کے تجویز دے دی، پاکستان میں عام انتخابات نے سیاسی بےیقینی کو کم کیا جس سے پاکستان کے ڈالر بانڈز میں عالمی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے۔

عمران خان اور بشریٰ بی بی پر 190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس میں فردِ جرم عائد کر دی گئی

اڈیالہ جیل راولپنڈی میں احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس میں سابق چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر فردِ جرم عائد کر دی، ملزمان کا صحتِ جرم سے انکار، سماعت 6 مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔

قومی اسمبلی کا اجلاس 29 فروری کو صبح 10 بجے ہو گا

صدر عارف علوی کے انکار کے بعد قومی اسبملی سیکرٹریٹ نے قومی اسمبلی کا اجلاس 29 فروری کو صبح 10 بجے بلا لیا۔

مریم نواز شریف پنجاب کی پہلی خاتون وزیرِ اعلٰی منتخب ہو گئیں

رف مسلم لیگ (ن) کی وزیرِ اعلٰی نہیں ہوں بلکہ پنجاب کے 12 کروڑ عوام کی وزیرِ اعلٰی ہوں، میرے دل میں کسی کیلئے انتقام کا جذبہ نہیں ہے، مجھے اس میں آپ سب کا ساتھ چاہیے، انشاءاللّٰه ہم ایک بہتر پنجاب بنائیں گے۔
Newsroomتوشہ خانہ کے تحائف ذاتی طور پر نہیں بلکہ اپنے ملٹری سیکرٹری...

توشہ خانہ کے تحائف ذاتی طور پر نہیں بلکہ اپنے ملٹری سیکرٹری کے ذریعہ فروخت کیے، عمران خان

سابق وزیراعظم عمران خان نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ میں نے توشہ خانہ کے تحائف ذاتی طور پر نہیں بلکہ اپنے ملٹری سیکرٹری کے ذریعے فروخت کیے تھے۔

spot_img

لاہور/اسلام آباد—توشہ خانہ فوجداری کیس میں چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان نے معزز جج ہمایوں دلاور کے سامنے 342 کا بیان ریکارڈ کروا دیا۔ سابق وزیراعظم نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ میں نے توشہ خانہ کے تحائف ذاتی طور پر نہیں بلکہ اپنے ملٹری سیکرٹری کے ذریعہ فروخت کیے تھے۔

عمران خان کے وکیل مرزا عاصم بیگ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں معزز جج ہمایوں دلاور کے سامنے پیش ہوئے اور ملزم عمران خان کے متعلق عدالت کو بتایا کہ وہ آج ساڑھے بارہ بجے سیشن عدالت میں پیش ہوں گے۔ معزز جج ہمایوں دلاور نے ساڑھے بارہ بجے تک سماعت میں وقفہ کر دیا۔

وقفے کے بعد سماعت کا آغاز ہوا تو تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان عدالت کے روبرو پیش ہوئے، معزز جج نے انہیں روسٹرم پر بلایا اور کہا کہ میں سوالات سن رہا ہوں، آپ جوابات دینا چاہیں تو دیں، عدالت آپ کو سوالات پڑھ کر سنائے گی، باقی آپ کی مرضی ہے۔

سماعت سے قبل غیر متعلقہ افراد کو عدالت سے باہر نکال دیا گیا جبکہ چند صحافیوں اور وکلاء کو کمرہ عدالت میں داخلہ کی اجازت دی گئی۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج ہمایوں دلاور نے عمران خان سے پوچھا کہ کیا آپ نے شکایت کنندہ کے الزامات پڑھے؟
عمران خان نے جواب دیا کہ انہوں نے شکایت کنندہ کے الزامات نہیں سنے اور یہ کہ بیانات ان کی موجودگی میں ریکارڈ نہیں ہوئے۔

سابق وزیراعظم نے مؤقف اختیار کیا کہ میری موجودگی میں فردِ جرم عائد نہیں کی گئی، مجھے فرد جرم پڑھ کر نہیں سنائی گئی، میں نے کیس میں کسی کو نمائندہ مقرر نہیں کیا، سیشن کورٹ نے خود میرا نمائندہ مقرر کیا، مجھے گواہان کے بیانات قلمبند کرتے وقت ہر سماعت پر استثنیٰ دیا گیا، عدالت نے میرے مقررہ نمائندہ کا مؤقف ٹھیک طرح نہیں لکھا، میں نے نمائندہ مقرر کرنے کی کوئی درخواست جمع نہیں کروائی اور میرے وکلاء نے عدالت کے نمائندہ مقرر کرنے کی مخالفت بھی کی۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ 17 جولائی کو مجھے گواہان کے بیانات کی کاپی فراہم کی گئی، 31 جولائی کو مکمل دن عدالت میں رہا اور گواہان کے بیانات پڑھے، الیکشن کمیشن نے شکایت دائر کرنے کیلئے کسی کو نامزد نہیں کیا اور شکایت 120 دنوں کے بعد دائر کی گئی، میں نے 2017 سے 2021 تک اثاثہ جات الیکشن کمیشن میں جمع کروائے، قانون میں نہیں لکھا کہ تحائف کے نام جمع کروائے جائیں اور فارم بی میں تحائف کے نام لکھنے کا کالم موجود نہیں، توشہ خانہ کے تحائف ذاتی طور پر نہیں بلکہ اپنے ملٹری سیکرٹری کے ذریعہ فروخت کیے تھے۔

چیئرمین تحریکِ انصاف نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 2020-2019 کے حوالے سے کبھی تحائف کے خریداروں کے نام نہیں پوچھے، فوجداری کارروائی میں شکایت کنندہ کو ثابت کرنا ہے کہ تحائف میرے پاس تھے جو میں نے ظاہر نہیں کیے، لسٹ بناتے وقت تحائف کی تفصیلات نہیں بنائی گئیں، گواہان نے تحائف کی مالیت کا چالان جمع نہیں کروایا، مجھ سے تحائف کے حوالے سے دستاویزات بناتے وقت رابطہ نہیں کیا گیا، دستاویزات کو سوالنامہ میں نہیں لکھا جا سکتا، تحائف کی دستاویزات مہیا کرنے والا بطور گواہ عدالت میں پیش نہیں ہوا، دستاویزات کو نہ تصدیق کیا گیا نہ اس کی شہادت لی گئی، کسی فرد نے دستاویزات کا بطور گواہ اقرار نہیں کیا، تحائف کے حوالے سے دستاویزات کا کبھی مجھ سے نہیں پوچھا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کیبنٹ ڈویژن کی جانب سے کوئی گواہ نہیں لایا گیا، دستاویزات 160 صفحات پر مشتمل ہیں لیکن کوئی گواہ سامنے نہیں آیا، تحائف کی دستاویزات کو بطور ثبوت عدالت میں شامل نہیں کیا جا سکتا، الیکشن کمیشن نے فیصلہ جاری کرنے کے بعد نجی بینک کا ریکارڈ طلب کیا، قانون کے مطابق نجی بینک کا ریکارڈ طلب نہیں کیا جا سکتا۔

عمران خان نے پہلے حلف پر بیان ریکارڈ کروانے سے انکار کر دیا تاہم پھر انہوں نے اپنے ریکارڈ کروائے گئے 342 کے بیان پر دستخط کر دیئے جس کے بعد وہ کمرہ عدالت سے روانہ ہو گئے۔

Read more

میاں نواز شریف! یہ ملک بہت بدل چکا ہے

مسلم لیگ ن کے لوگوں پر جب عتاب ٹوٹا تو وہ ’نیویں نیویں‘ ہو کر مزاحمت کے دور میں مفاہمت کا پرچم گیٹ نمبر 4 کے سامنے لہرانے لگے۔ بہت سوں نے وزارتیں سنبھالیں اور سلیوٹ کرنے ’بڑے گھر‘ پہنچ گئے۔ بہت سے لوگ کارکنوں کو کوٹ لکھپت جیل کے باہر مظاہروں سے چوری چھپے منع کرتے رہے۔ بہت سے لوگ مریم نواز کو لیڈر تسیلم کرنے سے منکر رہے اور نواز شریف کی بیٹی کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے۔

Celebrity sufferings

Reham Khan details her explosive marriage with Imran Khan and the challenges she endured during this difficult time.

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
spot_img
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
error: