پاکستان میں 2007 کے بعد سمندر سے تیل اور گیس کی تلاش دوبارہ شروع، لائسنس جاری

پاکستان نے 2007 کے بعد پہلی بار آف شور تیل و گیس تلاش کے 23 بلاکس کی نیلامی مکمل کر لی ہے۔ چار مقامی کمپنیوں کے کنسورشیم کو لائسنس دیے گئے ہیں جبکہ ترکی کی کمپنی ٹی پی اے او نے بھی شراکت داری اختیار کی ہے۔ ابتدائی سرمایہ کاری 8 کروڑ ڈالر ہوگی جو کامیاب ڈرلنگ کی صورت میں ایک ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

Join the conversation

Translating from the Urdu… 0 of 2 Read the original

Pakistan has awarded 23 offshore oil exploration blocks in its first bidding round since 2007, signalling renewed momentum in its energy sector. — ORIGINAL/THE THURSDAY TIMES
Pakistan has awarded 23 offshore oil exploration blocks in its first bidding round since 2007, signalling renewed momentum in its energy sector. — ORIGINAL/THE THURSDAY TIMES
Listen to this articleپاکستان میں 2007 کے بعد سمندر سے تیل اور گیس کی تلاش دوبارہ شروع، لائسنس جاری2 min · device voice0:00 / 2:28

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان نے اٹھارہ برس بعد آف شور تیل و گیس کی تلاش کے بلاکس کی نیلامی مکمل کر لی ہے، جسے توانائی کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

وزارتِ توانائی کے مطابق 40 پیش کیے گئے بلاکس میں سے 23 بلاکس کامیاب بولی دہندگان کو دے دیے گئے ہیں۔ ان بلاکس کو چار ملکی کمپنیوں کے اشتراکی گروپوں کے سپرد کیا گیا ہے، جن میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل)، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل)، ماری انرجیز اور پرائم انرجی (حب پاور کمپنی کا ذیلی ادارہ) شامل ہیں۔

ترکی کی سرکاری کمپنی ترکش پیٹرولیم کارپوریشن (ٹی پی اے او) نے بھی ایک بلاک میں شراکت داری اختیار کی ہے اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کے ساتھ 25 فیصد حصہ حاصل کیا ہے۔ وزارتِ توانائی کے حکام کا کہنا ہے کہ ترکی کی شمولیت سے ڈیپ واٹر ایکسپلوریشن میں تکنیکی تعاون اور تجربے کا فائدہ حاصل ہوگا۔

ابتدائی تین برسوں میں ان منصوبوں پر تقریباً آٹھ کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی جو سائنسی مطالعات، سروے اور جیولوجیکل جانچ کے لیے مختص ہے۔ اگر نتائج مثبت نکلے تو ڈرلنگ کے اگلے مراحل میں سرمایہ کاری بڑھ کر پچھتر کروڑ سے ایک ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

پاکستان کا آف شور علاقہ تقریباً تین لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط ہے لیکن آزادی کے بعد سے اب تک صرف اٹھارہ کنویں کھودے گئے ہیں۔ 2019 میں کیکڑا 1 نامی گہرے سمندر کی کھدائی بھی تجارتی نتائج دینے میں ناکام رہی تھی۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بار بولی کا عمل نئی قومی پیٹرولیم پالیسی کے تحت کیا گیا ہے جس میں سرمایہ کاروں کے لیے بہتر مالی مراعات، منافع کی شفاف تقسیم اور منظوری کے عمل میں تیزی کو یقینی بنایا گیا ہے۔

حکام کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی بلکہ درآمدی ایندھن پر انحصار بھی کم ہوگا۔ وزارتِ توانائی کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت پاکستان کے سمندری وسائل کو بروئے کار لانے اور ملکی معیشت کو نئی سمت دینے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

TT Business Desk

Economy, markets and business news from The Thursday Times' business desk.

More from this desk

The Thursday Times, every morning

The day’s stories that matter, the argument, and what readers read most, in one email before work.

Free. One click to stop, any time.

The conversation

Comments are open on this story. An editor reads every one before it appears.

No one has said anything yet. Be the first.

Published by Thursday Media International thursday.media