دوحہ (تھرسڈے ٹائمز) — انادولو ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان بدھ کو دوحہ میں دفاعی صنعت کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط متوقع ہیں۔
انادولو کو حکام سے ملنے والی معلومات کے مطابق ترکیہ کے وزیر قومی دفاع یاشار گولر کو دستخط کی تقریب میں شرکت کے لیے منگل کی دوپہر قطر روانہ ہونا تھا۔ مفاہمتی یادداشت کا مکمل متن جاری نہیں کیا گیا، اور یہ سطور لکھے جانے تک اسلام آباد یا جکارتہ کی جانب سے کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا تھا۔
اس معاہدے کو دفاعی صنعت میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، نہ کہ باہمی دفاع کے معاہدے کے طور پر۔ ٹی آر ٹی ورلڈ نے رپورٹ کیا کہ اس کا مقصد چاروں ممالک کے درمیان دفاعی صنعت کے تعلقات کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ قطر اپنی مقامی دفاعی پیداواری صلاحیتوں کو وسعت دینے کی جانب بڑھ رہا ہے۔
قطر کی دفاعی پیداوار بڑھانے کی کوشش
یہ دستخط قطر کے وزیر مملکت برائے دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمٰن آل ثانی کے اس بیان کے بعد ہو رہے ہیں جو انہوں نے پیر کو دوحہ میں گلوبل سیکیورٹی فورم میں دیا۔ انہوں نے کہا کہ قطر جلد مقامی دفاعی پیداوار کا مرکز قائم کرنے کے منصوبوں کا اعلان کرے گا، اور یہ کہ وہ علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں، بشمول امریکہ، برطانیہ اور فرانس، کے ساتھ مل کر مقامی دفاعی صلاحیتیں بڑھانے اور دفاعی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے پر کام کر رہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ قطر جلد بیلسٹک میزائلوں، ڈرونز اور سائبر حملوں کے خلاف اپنی صلاحیتیں مضبوط بنانے کے لیے ایک نئی شراکت داری کا اعلان کرے گا، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
یہ کوشش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جنگ کا اثر خلیج پر پڑ رہا ہے۔ ٹی آر ٹی ورلڈ کے مطابق قطر نے لڑائی شروع ہونے کے فوراً بعد راس لفان میں اپنے مرکزی مائع قدرتی گیس کمپلیکس کا بڑا حصہ بند کر دیا، اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والی جہاز رانی پر پابندیوں سے عالمی تجارت متاثر ہوئی ہے۔
موجودہ تعلقات کا جال
چار فریقی مفاہمتی یادداشت کئی دوطرفہ تعلقات کی بنیاد پر قائم ہے۔ ترکیہ اور قطر دوحہ میں مشترکہ فوجی کمان چلا رہے ہیں، اور اکتوبر 2025 میں انہوں نے دفاعی صنعت میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ ترکیہ نے پاک بحریہ کے لیے MILGEM کارویٹ جنگی جہاز تیار کیے ہیں اور انڈونیشیا کو 48 KAAN جنگی طیارے برآمد کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
قطر اور انڈونیشیا نے جون میں جکارتہ میں ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے اور کہا کہ وہ دفاعی تعاون کا ایک وسیع تر معاہدہ طے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دی نیو عرب کی رپورٹ کے مطابق، رواں سال کے آغاز میں قطری وزارت دفاع کی سرمایہ کاری شاخ برزان ہولڈنگز نے انڈونیشیا کی وزارت دفاع کے ساتھ 8 ارب قطری ریال (2.2 ارب ڈالر) مالیت کے خریداری کے معاہدوں پر دستخط کیے۔
پاکستان کے لیے یہ معاہدہ دفاعی سفارت کاری کے مصروف سال میں ایک اور اضافہ ہے۔ اگست میں وزیراعظم شہباز شریف، ترک صدر رجب طیب اردوان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے مکہ میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کے مطابق، اس معاہدے میں تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملے کو سب پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
اسرائیلی بیان
یہ دستخط اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموتریچ کے اس بیان کے کچھ ہی عرصے بعد سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے عبرانی زبان میں کہا تھا کہ “پاکستان، ترکیہ اور ہمارے مخالف ممالک کے اتحاد کے مقابلے میں یونانی اتحاد کو مضبوط کرنا ممکن بھی ہے اور ضروری بھی۔”



