نئی دہلی (تھرسڈے ٹائمز) — بھارت میں ایران کے سپریم لیڈر کے نمائندے آیت اللہ عبدالمجید حکیم الٰہی نے بھارت اور ایران کو "ایک ہی کتاب کے دو صفحات" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کا تعلق عام سفارت کاری سے کہیں آگے ہے۔
نئی دہلی میں این ڈی ٹی وی (NDTV) ورلڈ سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے حکیم الٰہی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان 5,000 سال پرانے ثقافتی، تہذیبی اور معاشی رشتے ہیں، این ڈی ٹی وی نے رپورٹ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ثقافت، تہذیب، تعلیم اور معیشت دونوں اقوام کو باہم جوڑتی ہیں، اور دونوں کے عوام کی عادات، رویوں اور ثقافتی اقدار میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔
"کبھی محسوس نہیں ہوا کہ میں کسی غیر ملک میں ہوں"
حکیم الٰہی نے کہا کہ جب بھی وہ ایران واپس جا کر لوگوں کو بتاتے ہیں کہ وہ بھارت میں رہتے ہیں تو ان کی عزت بڑھ جاتی ہے، کیونکہ ایرانی بھارت سے بے حد محبت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں رہتے ہوئے انہیں کبھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ وہ کسی غیر ملک میں ہیں، اور بھارتی اور ایرانی بعض اوقات اتنے ملتے جلتے ہوتے ہیں کہ ان میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں بڑی تعداد میں ایرانی بھارت آئے اور یہیں بس گئے۔
مشرق وسطیٰ میں کردار
حکیم الٰہی نے کہا کہ بھارت امن، سلامتی اور انصاف کے قیام میں، خصوصاً مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس میں، اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے بھارت کو دنیا کے بااثر ممالک میں سے ایک قرار دیا جس کی آواز بین الاقوامی فورمز پر سنی جاتی ہے، اور کہا کہ دنیا کو مکالمے، انصاف اور تعاون کی راہ پر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
دو روزہ سمٹ 22 اور 23 اکتوبر کو "نظاموں کے درمیان ایک دنیا" کے عنوان سے منعقد ہوا، جس کے مقررین میں وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر شامل تھے۔
اسلام آباد کی قیادت میں ثالثی
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایران سے متعلق جنگ کے گرد سفارت کاری میں پاکستان مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان نے اپریل میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کی، اور اس ہفتے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی سے ملاقات کی۔
مئی میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ بھارت نے اس تنازع میں پاکستان کے ثالث کے کردار پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا، جیسا کہ دی وائر نے رپورٹ کیا۔∎



