ڈھاکا (تھرسڈے ٹائمز) — بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی تازہ ترین پیش گوئیوں کے مطابق بنگلہ دیش اس سال فی کس معاشی پیداوار میں بھارت سے آگے نکلنے والا ہے، حالانکہ بھارت کی معیشت تقریباً آٹھ گنا بڑی ہے اور تقریباً دگنی رفتار سے ترقی کر رہی ہے۔
آئی ایم ایف (IMF) کی اکتوبر 2026 کی ورلڈ اکنامک آؤٹ لک میں اس سال بنگلہ دیش کی فی کس جی ڈی پی (GDP) 2,886 ڈالر اور بھارت کی 2,749 ڈالر رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ تقریباً 17 کروڑ 50 لاکھ آبادی والے بنگلہ دیش سے 506.4 ارب ڈالر کی اشیا اور خدمات کی پیداوار متوقع ہے، جبکہ بھارت کی پیداوار 4,150 ارب ڈالر ہوگی۔
ایسی برتری جو شاید برقرار نہ رہے
آئی ایم ایف کو توقع ہے کہ 2027 میں بنگلہ دیش معمولی فرق سے آگے رہے گا، یعنی فی کس 3,219 ڈالر کے مقابلے میں بھارت کے 3,036 ڈالر، اور 2028 میں بھی وہ ہلکی سی برتری برقرار رکھے گا۔ 2029 تک بھارت کے دوبارہ آگے نکل جانے کی پیش گوئی ہے، یعنی 3,661 ڈالر کے مقابلے میں 3,334 ڈالر۔
اس سال بھارت کی شرحِ نمو 7 فیصد اور بنگلہ دیش کی 3.6 فیصد رہنے کا اندازہ ہے، جبکہ مہنگائی بھارت میں 5 فیصد اور بنگلہ دیش میں 8.7 فیصد رہنے کی پیش گوئی ہے، جو ڈھاکا میں اخراجاتِ زندگی کے زیادہ دباؤ کی علامت ہے۔
قوتِ خرید کی برابری کے لحاظ سے، جس میں مقامی قیمتوں کے فرق کو مدنظر رکھا جاتا ہے، ترتیب الٹ جاتی ہے: بھارت کی فی کس جی ڈی پی 12,998 ڈالر اور بنگلہ دیش کی 10,884 ڈالر رہنے کا تخمینہ ہے۔ دونوں ممالک ترقی پذیر معیشتوں کی تقریباً 7,746 ڈالر کی اوسط اور عالمی اوسط تقریباً 15,889 ڈالر سے ڈالر کے لحاظ سے بہت پیچھے ہیں۔
کارخانے اور ترسیلاتِ زر
بنگلہ دیش کی اس ترقی کی بنیاد اس کی تقریباً 38 ارب ڈالر کی گارمنٹس صنعت، بیرونِ ملک کام کرنے والوں کی ترسیلاتِ زر اور افرادی قوت میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت پر رکھی گئی ہے۔ بھارتی ماہرِ معیشت سنتوش مہروترا نے الجزیرہ کو بتایا کہ بنگلہ دیش کی مجموعی قدر افزودہ میں مینوفیکچرنگ کا حصہ 2014 میں 16.6 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 22 فیصد ہو گیا۔ عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً اسی عرصے میں بھارت کی جی ڈی پی میں مینوفیکچرنگ کا حصہ 15.1 فیصد سے کم ہو کر 13.5 فیصد رہ گیا۔
"یہ برآمدات پر مبنی صنعتی ترقی کا وہ مثبت پہلو ہے جسے بنگلہ دیش درست طور پر اپنائے ہوئے ہے،" مہروترا نے کہا۔
لیکن ایران پر جنگ کے باعث پیدا ہونے والے توانائی کے بحران اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والی جہاز رانی میں خلل نے بنگلہ دیش کو سخت متاثر کیا ہے۔ ملک اپنی ضرورت کا 95 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس درآمد کرتا ہے، جس کا بڑا حصہ مشرقِ وسطیٰ سے آتا ہے، جبکہ ملبوسات، جن سے برآمدی آمدن کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ حاصل ہوتا ہے، بحیرۂ احمر کے راستے جہاز رانی میں خلل سے متاثر ہوئے ہیں۔
فی کس جی ڈی پی (GDP) اس بات کو بھی چھپا لیتی ہے کہ آمدن کیسے تقسیم ہوتی ہے، اور چونکہ یہ ڈالر میں ناپی جاتی ہے، اس لیے شرحِ مبادلہ میں تبدیلیاں کسی بھی معیشت کی پیداوار میں کوئی فرق آئے بغیر درجہ بندی کو بدل سکتی ہیں۔



