اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — بھارت نے پاکستان کے وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی کو اگلے ماہ نئی دہلی میں شنگھائی تعاون تنظیم کے ایک اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ مئی 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان چار روزہ تنازع کے بعد کسی سینئر پاکستانی وزیر کو دی جانے والی یہ پہلی ایسی دعوت ہے۔ انڈین ایکسپریس نے منگل کو یہ خبر دی۔
اخبار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ کھچی کو 20 اور 21 نومبر کو نئی دہلی میں ہونے والے ایس سی او تہذیبی مکالمہ فورم میں مدعو کیا گیا ہے۔ میزبان ہونے کے ناطے بھارت پر لازم ہے کہ وہ ایس سی او کے تمام رکن ممالک کے نمائندوں کو دعوت دے۔ یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ کھچی شرکت کریں گے یا نہیں۔
یہ فورم سب سے پہلے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ستمبر 2025 میں تیانجن میں ایس سی او کے سربراہی اجلاس میں تجویز کیا تھا۔ اس کا مقصد ثقافتی روابط کو فروغ دینا اور تنظیم کے رکن ممالک کے مشترکہ ورثے، فنون اور ادب کو اجاگر کرنا ہے۔ ان ممالک میں پاکستان، بھارت، چین، روس، ایران، بیلاروس اور وسطی ایشیا کے چار ممالک شامل ہیں۔
منجمد تعلقات
بھارت نے آخری بار مئی 2023 میں کسی سینئر پاکستانی وزیر کی میزبانی کی تھی، جب اس وقت کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری ایس سی او کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے گوا گئے تھے۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر اکتوبر 2024 میں ایس سی او کی سربراہانِ حکومت کونسل کے اجلاس کے لیے اسلام آباد آئے تھے، جس کی میزبانی وزیر اعظم شہباز شریف نے کی تھی۔
نئی دہلی نے ایک دہائی سے اسلام آباد کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو بڑی حد تک منجمد رکھا ہے، تاہم اسے ایس سی او کے ذریعے پاکستان کے ساتھ رابطہ رکھنا پڑا ہے۔ گزشتہ ماہ تنظیم کے لیے بھارت کے قومی کوآرڈینیٹر آلوک دمری نے اسلام آباد میں ایس سی او کے ایک اجلاس میں بھارتی وفد کی قیادت کی۔ یہ تقریباً دو سال میں پاکستان میں ایس سی او کی کسی تقریب میں بھارت کی پہلی شرکت تھی۔ انہوں نے سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی کو بتایا کہ ایس سی او "پڑوس میں آ گئی ہے"۔ پاکستان آئندہ سال ایس سی او کے سربراہان کے اجلاس کی میزبانی کرنے والا ہے۔



