ریاض (تھرسڈے ٹائمز) — یمن کے حوثیوں نے منگل کو دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ریاض میں سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔ یہ دعویٰ راس تنورہ میں مملکت کی سب سے بڑی آئل ریفائنری پر حملے کے دعوے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔ دوسری جانب پاکستان کے وزیرِ دفاع نے اعلان کیا کہ اسلام آباد سعودی عرب کا "بھرپور طاقت سے" دفاع کرے گا۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے دارالحکومت کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیے۔ اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے یہ میزائل "دہشت گرد حوثی ملیشیا" کی جانب سے داغے جانے کا بتایا۔ اے ایف پی کے نمائندوں نے ریاض میں دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔ سعودی حکام نے حوثیوں کے براہِ راست نشانہ بنانے کے دعوے پر کوئی ردِعمل نہیں دیا، جبکہ جانی نقصان یا تباہی کے بارے میں بھی کچھ نہیں بتایا گیا۔
حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ گروپ نے ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ڈرون سے بھی نشانہ بنایا اور نجران ایئرپورٹ پر کھڑے فوجی ٹرانسپورٹ طیاروں اور خمیس مشیط میں کنگ خالد ایئر بیس پر بیلسٹک میزائل داغے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گروپ نے باب المندب آبنائے کے قریب سعودی حمایت یافتہ فورسز کی پیش قدمی پسپا کر دی۔ ان میں سے کسی بھی دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
راس تنورہ میں آگ
منگل کو اس سے پہلے سریع نے کہا تھا کہ بیلسٹک میزائل سے خلیج کے ساحل پر واقع مملکت کی سب سے بڑی ریفائنری راس تنورہ میں آگ لگ گئی۔ سعودی عرب کی تقریباً تمام تیل برآمدات راس تنورہ اور بحیرۂ احمر پر واقع ینبع کے ذریعے ہوتی ہیں۔ سعودی حکام نے حملے کی تصدیق نہیں کی، تاہم بلومبرگ نیوز نے معاملے سے واقف ایک شخص کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمینل پر سعودی آرامکو کی تنصیبات کے قریب لگنے والی آگ پر علی الصباح قابو پا لیا گیا۔ اتحاد نے رات گئے کہا تھا کہ اس نے مشرقی صوبے کی جانب داغے گئے تین بیلسٹک میزائل روک لیے۔
حوثی، جن کا 2014 سے صنعا پر کنٹرول ہے اور جن پر ایران سے مدد لینے کا الزام ہے، موسمِ گرما سے سعودی ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور فوجی مقامات پر حملے تیز کر چکے ہیں، جس سے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی وسیع تر جنگ میں ایک اور محاذ کھل گیا ہے۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے یمن کے اندر حوثیوں کے میزائل لانچروں، ذخیرہ کرنے والی سرنگوں اور ایک میزائل ڈپو کو نشانہ بنایا۔
‘بھرپور طاقت’
اسلام آباد میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ سعودی عرب کا دفاع پاکستان کے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنا اپنی سرزمین کا دفاع۔ انہوں نے کہا: “ہم سعودی عرب کا بھرپور طاقت سے دفاع کریں گے”، اور ریاض کے ہوائی اڈے کو بار بار نشانہ بنائے جانے اور حرمین شریفین پر حملوں کی کوششوں کو “انتہائی افسوسناک” قرار دیا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے تحریری عہد کیا ہے کہ اپنے معاہدے کے دائرے میں آنے والے کسی بھی خطرے کا مل کر جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا: “اب جبکہ تین ممالک شامل ہیں، معاہدے کے تحت بھی، ہم کسی بھی غیر ملکی جارحیت کے خلاف ایک دوسرے کی سرزمین کا دفاع کریں گے۔” وہ یہ گفتگو اس کے بعد کر رہے تھے جب فیلڈ مارشل عاصم منیر سعودی اور ترک حکام کے ساتھ تہران میں ایرانی قیادت سے مذاکرات میں شریک ہوئے، جن میں چاروں ممالک نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ کچھ پیش رفت ہوئی ہے اور امریکا کی ممکنہ کارروائی پر “یقینی طور پر” بات ہوئی، تاہم نتیجے کے بارے میں وہ “کسی حد تک محتاط” ہیں۔
انقرہ میں توثیق کی جانب پیش رفت
انقرہ میں ترک پارلیمان کی خارجہ امور کمیٹی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا بل منظور کر لیا، جس پر صدر رجب طیب اردوان، ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیر اعظم شہباز شریف نے 7 اگست کو دستخط کیے تھے۔ نائب وزیر خارجہ لیونت گمرکچو نے ارکان پارلیمان کو بتایا کہ سعودی عرب اور پاکستان توثیق کا عمل پہلے ہی مکمل کر چکے ہیں۔ بل پر ابھی پوری اسمبلی کی رائے شماری باقی ہے۔
گمرکچو نے کہا کہ یہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، کسی ملک کو نشانہ نہیں بناتا اور ان علاقائی ریاستوں کے لیے کھلا ہے جو بین الاقوامی قانون کا احترام کرتی ہیں۔ ان کے مطابق اس میں اجتماعی دفاعی روک تھام، مشترکہ تربیت اور مشقیں، دفاعی صنعت میں مشترکہ پیداوار اور انسداد دہشت گردی شامل ہیں۔ کمیٹی کے چیئرمین فواد اوکتے نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ یہ نیٹو کا متبادل ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا: “بالکل نہیں۔” حکمران جماعت کے ایک رکن پارلیمان نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ معاہدے کی توثیق کے بعد انقرہ سعودی عرب میں فوجی اہلکار تعینات کرنے کے لیے الگ مینڈیٹ طلب کرے گا۔



