انقرہ (تھرسڈے ٹائمز) — ترکیہ کی پارلیمانی کمیٹی نے منگل کو پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا بل منظور کر لیا، جس کے بعد ترکیہ تینوں دستخط کنندگان میں توثیق مکمل کرنے والا آخری ملک رہ گیا ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق گرینڈ نیشنل اسمبلی کی خارجہ امور کمیٹی نے نائب وزیر خارجہ لیونت گمرکچو کی جانب سے ارکان کے سوالات کے جواب دینے کے بعد بل منظور کیا۔ گمرکچو نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان اپنی داخلی کارروائی پہلے ہی مکمل کر چکے ہیں اور مطلوبہ اطلاعات بھی بھیج چکے ہیں۔ یہ معاہدہ 7 اگست کو مکہ میں صدر رجب طیب اردوان، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیراعظم شہباز شریف نے طے کیا تھا۔
‘بلاک سازی کے بجائے انضمام’
گمرکچو نے معاہدے کو “اس علاقائی ملکیت کا ٹھوس ثمر” قرار دیا “جس کی ہمارے خطے کو بڑھتی ہوئی ضرورت ہے”، اور کہا کہ یہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے، کسی ملک کے خلاف نہیں اور خطے کی ہر اس ریاست کے لیے کھلا ہے جو بین الاقوامی قانون کا احترام کرتی ہو۔ انہوں نے کہا: “معاہدے میں خطے میں بلاک سازی کے بجائے انضمام کا تصور پیش کیا گیا ہے۔”
ان کے مطابق معاہدے میں اجتماعی دفاعی روک تھام، باقاعدہ سکیورٹی مشاورت، تینوں افواج کے درمیان ہم آہنگی بہتر بنانے کے لیے مشترکہ تربیت اور مشقیں، مشترکہ دفاعی پیداوار اور ٹیکنالوجی کی شراکت، انسدادِ دہشت گردی میں قریبی تعاون اور لاجسٹک معاونت کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
یہ ووٹ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چند روز قبل پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے ایران کے ساتھ مکہ معاہدے پر اپنے پہلے مذاکرات کیے، اور سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے اس نئے اتحاد کا امتحان لے رہے ہیں۔ پاکستان نے مملکت کا “پوری قوت کے ساتھ” دفاع کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ بل اب پوری اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔



