اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — بلومبرگ نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ پاکستان نے تائیوانی ایئرلائنز کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دینے والے پرمٹس کی تجدید کر دی ہے، یہ اقدام بیجنگ کی ون چائنا پالیسی کی حمایت میں ان کے لیے فضائی حدود بند کرنے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔
بلومبرگ کی جانب سے حوالہ دیے گئے فلائٹ ریڈار 24 کے ڈیٹا کے مطابق تائی پے سے ویانا جانے والی ای وی اے ایئر کی ایک پرواز پابندیوں کے بعد پاکستان کے اوپر سے گزرنے والا پہلا تائیوانی تجارتی طیارہ بن گئی، جو جمعرات کو پاکستانی وقت کے مطابق تقریباً صبح 3 بج کر 30 منٹ پر اس کی فضائی حدود میں داخل ہوئی۔ خبر رساں ادارے کی جانب سے دیکھی گئی دستاویزات کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بدھ کو پرمٹس کی تجدید کی اور یہ 27 مارچ تک مؤثر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بدھ کی رات دیر گئے اور جمعرات کی علی الصبح روانہ ہونے والی یورپ جانے والی ای وی اے ایئر اور چائنا ایئرلائنز کی دیگر پروازیں بدستور پاکستان سے گریز کرتی رہیں اور روس کے اوپر سے یا بھارت کے راستے پرواز کرتی رہیں۔
تائی پے کا اشارہ بیجنگ کی جانب
تائیوان کے نائب وزیر خارجہ چن منگ چی نے اے ایف پی (AFP) کو بتایا کہ پاکستان نے تائیوانی ایئرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کیں اور پھر دوبارہ کھول دیں، اور کہا کہ تائی پے کو شبہ ہے کہ اس اقدام کے پیچھے چین تھا۔ تائیوان کی وزارت خارجہ نے بدھ کو اس پابندی کی مذمت کی تھی اور اسلام آباد پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے بیجنگ کا مؤقف اپنایا ہے اور فضائی حدود تک رسائی کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس سے قبل بلومبرگ کو بتایا تھا کہ پاکستان ون چائنا پالیسی پر عمل کرتا ہے اور اس نے “صرف چینی ایئرلائنز کو پاکستان کے اوپر سے پرواز کی اجازت دی ہے”۔ نہ ای وی اے ایئر اور نہ ہی چائنا ایئرلائنز نے بندش یا دوبارہ کھولے جانے کی تصدیق کی۔



