لاہور (تھرسڈے ٹائمز) — وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ”میرا جسم، میری مرضی“ کا نعرہ لگانے اور کینسر میں مبتلا ہونے پر دعائیں مانگنے والی خواتین کا مذاق اڑانے پر وسیع تنقید کا سامنا ہے، جس میں بظاہر ان کی اہلیہ کا ایک واضح جواب بھی شامل ہے۔
اس ہفتے کے اوائل میں چنیوٹ میں ختمِ نبوت ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صفدر نے کہا: ”یہ کہتی ہیں، ’میرا جسم، میری مرضی۔‘ لیکن جب یہ بیمار ہوتی ہیں یا انہیں کینسر ہو جاتا ہے تو یہ علما کے پاس جاتی ہیں، شفا کے لیے دعائیں اور دم کیا ہوا پانی مانگتی ہیں۔ انہیں سمجھنا چاہیے کہ اگر یہ اپنے جسم کی مالک ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں تو انہیں اس کا علاج بھی خود کر لینا چاہیے۔ حقیقت میں انسانی جسم اللہ کے اختیار میں ہے۔“
جمعہ کو مریم نواز نے ایکس پر ایک پوسٹ کا جواب دیا جس میں نشاندہی کی گئی تھی کہ صفدر کی اپنی ساس کینسر سے انتقال کر گئی تھیں۔ ان کی والدہ کلثوم نواز مہینوں اس بیماری سے لڑنے کے بعد 2018 میں انتقال کر گئی تھیں۔ وزیرِ اعلیٰ نے لکھا، ”دل شکن“، اور مزید کہا: ”وہ خاموش جنگیں جو ایک عورت، ایک بیوی، بند دروازوں کے پیچھے لڑتی ہے … وہ ہمت جو اسے تب بھی ڈھونڈنی پڑتی ہے جب وہ ٹوٹنے کے قریب ہو۔ کچھ جنگیں خاموشی سے لڑی جاتی ہیں اور کچھ زخم دکھائی نہیں دیتے۔“
ڈان کے مطابق سوشل میڈیا صارفین نے بھی ان ریمارکس کی مذمت کی، اور بہت سے لوگوں نے کینسر کے حوالے سے اپنے خاندانوں کے تجربات بیان کرتے ہوئے ان کے تبصروں کو شرمناک قرار دیا۔



