تہران (تھرسڈے ٹائمز) — تہران میں پاکستانی سفارت خانے نے اتوار کو ان خبروں کی تردید کر دی کہ سفیر عمران احمد صدیقی پر ایرانی دارالحکومت میں حملہ کیا گیا، اور انہیں "بے بنیاد اور حقائق کے منافی" قرار دیا۔
سفارت خانے نے ایکس (X) پر انگریزی اور فارسی میں جاری بیان میں کہا کہ اس نے سفیر کے بارے میں سوشل میڈیا اور دیگر فورمز پر گردش کرنے والی خبروں کا نوٹس لیا ہے۔ آن لائن پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایک تقریب میں مدعو کیے جانے کے بعد کئی افراد نے ان پر حملہ کیا۔
چند گھنٹے بعد سفارت خانے نے صدیقی کی وہ تصاویر جاری کیں جن میں وہ پردیس ٹیکنالوجی پارک کے صدر مہدی صفری نیا سے تعلیم اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون پر بات چیت کر رہے ہیں، اور پارک کے سائنس دانوں کے باغ میں پاکستانی سائنس دان پروفیسر محمد اقبال چوہدری کے مجسمے کے پاس کھڑے ہیں۔ سفارت خانے نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورہ کب ہوا۔

یہ افواہیں ایسے وقت پھیل رہی ہیں جب پاکستان اور قطر ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسلام آباد نے جون کی اس مفاہمتی یادداشت کے لیے ثالثی میں مدد کی تھی جو اگست میں ختم ہو گئی، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر جنگ کے دوران کئی بار تہران کا دورہ کر چکے ہیں۔



