اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) نے ہفتے کو جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ نیوکلیائی آئسوٹوپ تکنیکوں کی بدولت پاکستان اب اپنے زیرِ زمین پانی کی مسلسل اور کہیں زیادہ تفصیل کے ساتھ نگرانی کر سکتا ہے۔
رپورٹ میں اس کامیابی کا سہرا ہائیڈرولوجی اور زیرِ زمین پانی سے متعلق علاقائی تعاون کے معاہدے (آر سی اے) (RCA) کے پروگرام کو دیا گیا ہے، جس کی مدد سے پاکستان نے آئسوٹوپ طریقے اپنائے۔ ان طریقوں سے معلوم ہوتا ہے کہ زیرِ زمین پانی کی بھرائی کہاں سے ہوتی ہے، وہ کتنا پرانا ہے اور آلودگی کن راستوں سے اس تک پہنچتی ہے۔
اس پروگرام کے تحت کی گئی تحقیقات میں میدانِ سندھ، وادیٔ کوئٹہ اور صحرائے چولستان کا احاطہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس سے پہلے روایتی طریقوں سے حکام کو ملک کے آبی ذخائر (ایکویفرز) کے بارے میں صرف بنیادی معلومات ملتی تھیں۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (پنسٹیک) (PINSTECH) اب خطے کی جدید ترین آئسوٹوپ تجزیہ سہولیات میں سے ایک کا میزبان ہے، جسے ملک بھر میں 12 تجربہ گاہوں کے نیٹ ورک کی معاونت حاصل ہے۔ یہ ادارہ پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز (پی سی آر ڈبلیو آر) (PCRWR) کے ساتھ مل کر آئسوٹوپ ڈیٹا کو زیرِ زمین پانی کے قومی ماڈلز میں شامل کر رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ”یہ انضمام پانی کے ضرورت سے زیادہ اخراج، کھارے پانی کے سرایت کرنے اور آبی ذخائر پر دباؤ کی دیگر صورتوں کی بروقت نشاندہی میں مدد دیتا ہے“۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پالیسی ساز اب زیرِ زمین پانی کے بحرانوں کے بعد ردِعمل دینے کے بجائے انہیں روکنے کی طرف بڑھ رہے ہیں، جس کے معاشی، سماجی اور ماحولیاتی فوائد ہیں۔
پاکستان زیرِ زمین پانی کے دنیا کے سب سے بڑے صارفین میں سے ایک ہے۔ یہ پانی پنجاب کی زیادہ تر زرعی زمین کو سیراب کرتا ہے اور شہروں میں پیے جانے والے پانی کا بڑا حصہ فراہم کرتا ہے۔ وادیٔ کوئٹہ جیسے مقامات پر کئی دہائیوں سے پانی کی سطح گر رہی ہے، جبکہ شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں کے تیزی سے پھیلاؤ نے، جن کی بدولت کسان تقریباً بغیر کسی چلانے کے خرچ کے چوبیس گھنٹے پانی نکال سکتے ہیں، اس تشویش میں اضافہ کیا ہے کہ آبی ذخائر کتنی تیزی سے خالی ہو رہے ہیں۔



