لاہور (تھرسڈے ٹائمز) — اس ہفتے لاہور میں ہوا کے معیار کا اشاریہ 530 سے تجاوز کر گیا، اور پیش گوئی کے مطابق آنے والے دن بھی خراب ہوں گے۔ باہر کی ہوا کو ٹھیک نہیں کیا جا سکتا، لیکن عالمی ادارہ صحت اور امریکی ادارہ تحفظِ ماحول نے گھر کے اندر کی ہوا کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیے واضح ہدایات دی ہیں۔
گھر کو بند رکھیں
ڈبلیو ایچ او (WHO) کے مطابق شدید آلودگی کے دوران بیرونی دروازے اور کھڑکیاں بند رکھیں۔ ای پی اے (EPA) جنگلات کی آگ کے دھوئیں سے متعلق اپنی رہنمائی میں، جس میں بھی باریک ذرات ہوتے ہیں، مشورہ دیتا ہے کہ اگر آپ کے ایئر کنڈیشنر میں تازہ ہوا کی سیٹنگ ہے تو اسے بند کر دیں اور ہوا کو اندر ہی گردش دینے والا موڈ استعمال کریں۔
آلودگی میں اضافہ نہ کریں
ڈبلیو ایچ او کے مطابق گھر کے اندر جلنے والی ہر چیز سے گریز کریں، جن میں لکڑی کے چولھے، موم بتیاں اور اگربتی شامل ہیں، اور گھر کے اندر تمباکو نوشی نہ کریں۔ پاکستانی گھروں میں سردیوں کے دوران یہ ہدایت اگربتی اور کھلے شعلے والے ہیٹروں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔
جھاڑو نہیں، پوچا لگائیں
ڈبلیو ایچ او کے مطابق جھاڑو دینے یا ویکیوم کرنے کے بجائے گیلے کپڑے سے پوچا لگانا اور گرد صاف کرنا بہتر ہے، کیونکہ جھاڑو اور ویکیوم سے مزید گرد اور ذرات اڑ سکتے ہیں۔
ایک کمرہ صاف رکھیں
اگر آپ پورے گھر کو صاف نہیں رکھ سکتے تو ای پی اے تجویز کرتا ہے کہ ایک ایسا کمرہ منتخب کریں جو گھر کے تمام افراد کے لیے کافی بڑا ہو اور وہاں پورٹیبل ایئر کلینر چلائیں۔ دیکھ لیں کہ ایئر کلینر اس کمرے کے لیے کافی طاقتور ہو اور اوزون بہت کم پیدا کرے یا بالکل پیدا نہ کرے، کیونکہ اوزون خود بھی ایک نقصان دہ آلودگی ہے۔ فلٹر گندے ہو جائیں تو انہیں تبدیل کریں، جو ممکن ہے کہ کمپنی کی بتائی ہوئی مدت سے پہلے کرنا پڑے۔
اگر ایئر پیوریفائر آپ کی پہنچ سے باہر ہو تو ای پی اے خود بنایا جانے والا ایک ایئر کلینر بھی بیان کرتا ہے، جو باکس فین اور ایک یا ایک سے زیادہ اعلیٰ کارکردگی کے فلٹروں سے تیار ہوتا ہے۔
کسے اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے
بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور دل یا پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا افراد کو سب سے زیادہ خطرہ ہے، اور ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ خطرے کی زد میں آنے والے افراد جہاں تک ممکن ہو گھر کے اندر رہیں۔ ہر شخص کو باہر طویل یا سخت جسمانی مشقت سے بچنا چاہیے۔
پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کے مطابق اکتوبر میں لاہور میں باریک ذرات کی آلودگی کی اوسط 100 مائیکروگرام فی مکعب میٹر رہی، حتیٰ کہ 2021 کے بعد شہر کے سب سے صاف اکتوبر میں بھی، اور یہ تمام 31 دنوں میں پاکستان کی قانونی حد سے زیادہ رہی۔ ادارے نے بدھ تک اس کی سطح تقریباً 149 تک پہنچنے کی پیش گوئی کی ہے۔



