لاہور (تھرسڈے ٹائمز) — لاہور ہائی کورٹ نے پیر کو جیل حکام کو حکم دیا کہ وہ پی ٹی آئی (PTI) کے بانی عمران خان کی بہن نورین نیازی کی ان کی دونوں بیٹیوں سے منگل کو ملاقات کا انتظام کریں، اور نورین اور ان کی بہن عظمیٰ خان کی حراست میں توسیع کی وضاحت کے لیے ڈپٹی کمشنر لاہور کو طلب کر لیا۔
جسٹس عبہر گل خان نے ڈپٹی کمشنر کو 4 نومبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔ تیسری بہن علیمہ خان کی نئی حراست کے خلاف الگ درخواست کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی گئی۔
تینوں بہنوں کو ستمبر میں پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت اس وقت حراست میں لیا گیا جب پی ٹی آئی اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کی تیاری کر رہی تھی۔ علیمہ کو 20 ستمبر کو 30 دن کے لیے اور نورین اور عظمیٰ کو اگلے روز اتنی ہی مدت کے لیے حراست میں لیا گیا۔ پنجاب حکومت نے بعد ازاں عدالت کو بتایا کہ احکامات میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی گئی ہے۔
ان کے وکیل رانا مدثر عمر نے مؤقف اختیار کیا کہ توسیع غیر قانونی ہے اور عدالت سے استدعا کی کہ نئے نوٹیفکیشنز کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خواتین کو اہلِ خانہ یا وکلا سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ علیمہ کے ڈرائیور کو بھی حراست میں لیا گیا ہے اور اس کے لیے نرمی کی درخواست کی۔
نورین کو گزشتہ ماہ جیل کے ڈاکٹروں کے مشورے پر کوٹ لکھپت جیل سے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا گیا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے بعد ازاں سینیٹ کو بتایا کہ وہ علاج کے بعد ٹھیک ہیں۔



