AnalysisUNDER THE KNIFE

مئی کی جنگ میں بھارتی رافیل طیارے مار گرائے جانے کے بعد پاکستانی جے ایف تھنڈر کی عالمی مانگ میں نمایاں اضافہ، دی ٹیلیگراف

مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی محدود جنگ کے دوران بھارتی رافیل طیاروں کے مار گرائے جانے کے بعد پاکستانی ساختہ جے ایف تھنڈر جنگی طیارے عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ کم لاگت، جدید صلاحیتوں اور عملی جنگی کارکردگی کے باعث متعدد ممالک نے ان طیاروں میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جس سے پاکستان کی دفاعی برآمدات میں نمایاں اضافے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔

ترکی سعودی عرب اور پاکستان دفاعی اتحاد میں شمولیت کا خواہاں ہے، جریدہ بلومبرگ

ترکی سعودی عرب اور جوہری صلاحیت رکھنے والے پاکستان کے درمیان قائم دفاعی اتحاد میں شمولیت کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکرات کر رہا ہے۔ یہ معاہدہ، جس میں کسی ایک رکن پر حملے کو سب پر حملہ تصور کیا جاتا ہے، نیٹو کے آرٹیکل فائیو سے مشابہ ہے اور اس میں ترکی کی شمولیت مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو نمایاں طور پر بدل سکتی ہے۔

پاکستان میں تعینات سابق امریکی سفیر کے خلاف امریکہ میں جاری تحقیقات میں اہم انکشافات، واشنگٹن پوسٹ

پاکستان میں تعینات رہنے والے سابق امریکی سفیر رچرڈ اولسن کے خلاف امریکہ میں تحقیقات جاری، قیمتی تحائف چھپانے اور پاکستانی خاتون صحافی کے ساتھ غیر ازدواجی تعلقات قائم رکھنے کے انکشافات۔

عدلیہ کی تنخواہوں فری بجلی پٹرول اور دیگر مراعات کے متعلق انکشافات، عوام سراپا احتجاج

عوام اشرافیہ کو ملنے والے تقریباً 220 ارب روپے کے مفت پیٹرول اور کم و بیش 550 ارب کی مفت بجلی بند کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ عدلیہ کی شاندار تنخواہوں، مراعات اور الاؤنسز نے بھی لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔

سعودی شاہی خاندان کی جانب سے ملنے والی قیمتی گھڑیاں فروخت کرنے پر سابق برازیلین صدر کی گرفتاری جلد متوقع، امریکی اخبار نیو یارک...

سابق برازیلین صدر بولسونارو کیلئے سب سے بڑا خطرہ ان گھڑیوں کو غبن کرنے کے بعد فلاڈیلفیا کے ایک شاپنگ مال میں فروخت کرنے کا معاملہ ہے جو سعودی شاہی خاندان کی طرف سے بطور تحفہ ملی تھیں، جیئر میسیاس بولسونارو نے مبینہ طور پر ان گھڑیوں کو فروخت کر کے کم از کم 68 ہزار ڈالرز حاصل کیے۔

عمران خان حکومت کے خلاف امریکی سازش یا مداخلت کے الزامات مضحکہ خیز ہیں، امریکی جریدہ وال سٹریٹ جرنل

وال سٹریٹ جرنل کے مطابق انٹر سیپٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان میں عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے کیلئے کردار ادا کیا تھا تاہم اس الزام کا کوئی بھی ثبوت موجود نہیں ہے بلکہ اگر دیکھا جائے تو یہ الزام قابلِ تمسخر ہے۔

عمران خان کی طرح کوئی بھی اس قدر ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹ نہیں بول سکتا، شہباز شریف

سیاسی پختگی رکھنے والا کوئی بھی شخص اس قدر ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹ نہیں بول سکتا جس طرح عمران خان جھوٹ بولتے ہیں، عمران خان نے کہا کہ ان کے پاس سائفر موجود ہے لیکن پھر کہا کہ وہ مجھ سے کہیں کھو گیا ہے اور اب امریکہ میں ایک نیوز ویب سائٹ نے اس کو شائع کر دیا ہے۔

عمران خان نے پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات کو سیاسی فائدے کیلئے استعمال کیا، امریکی دفاعی تجزیہ کار

پاکستان کے سیاستدان اکثر پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات کو اپنے سیاسی فائدے کیلئے استعمال کرتے رہتے ہیں اور میں سمجھتی ہوں کہ عمران خان نے بھی ایسا ہی کیا، عمران خان نے سفارتی گفتگو کو اپنی سیاست چمکانے کیلئے استعمال کیا اور کہا کہ دیکھو امریکہ یہ چاہتا ہے۔

خلیجی ممالک پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کیلئے تیار ہیں، جریدہ وال سٹریٹ جرنل

پاکستان کو شمسی توانائی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت کم و بیش 25 بلین ڈالرز کے معاہدوں کی توقع ہے، پاکستان کی دفاعی صنعتیں بھی سرمایہ کاری کیلئے کھلی ہیں جبکہ پاکستان زراعت کیلئے غیر کاشت شدہ سرکاری زمین طویل عرصہ کیلئے لیز پر دینے کیلئے بھی تیار ہے۔

امریکی اخبار دی انٹرسیپٹ نے مبینہ سائفر کا غیر تصدیق شدہ متن شائع کر دیا

امریکی نیوز ویب سائٹ "دی انٹر سیپٹ" نے مبینہ سائفر کا متن شائع کر دیا جس کی تصدیق سے ادارہ خود بھی انکار کر رہا ہے جبکہ یہ ڈاکومنٹ کسی نامعلوم ذریعہ سے حاصل کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ عمران خان اپنے پاس موجود سائفر کی کاپی گم ہو جانے کا اعتراف کر چکے ہیں۔

عمران خان کے دور حکومت میں کرپشن میں اضافہ ہوا، برطانوی اخبار دی گارڈین

عمران خان کے دور حکومت میں کرپشن میں اضافہ ہوا آزادی صحافت میں کمی اور معیشت میں بگاڑ پیدا ہوا، برطانوی اخبار دی گارڈین

بی بی سی کے صحافی نے عمران خان کو منافق قرار دے دیا

عمران خان نے برطانیہ کے قومی نشریاتی ادارہ ”بی بی سی“ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب مجھے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطہ سے گرفتار کیا گیا تو اس کا ردعمل آنا ہی تھا، جب میرے حامیوں نے دیکھا کہ مجھے گرفتار کر کے لے جایا جا رہا ہے تو کیا میرے حامی کوئی ردعمل ظاہر نہ کرتے؟

عمران خان کسی کو قابلِ اعتبار نہیں سمجھتے، سیاسی مستقبل مخدوش نظر آرہا ہے

تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کو فی الحال ڈیڑھ سو سے زائد مقدمات کا سامنا ہے جن میں متعدد مقدمات ایسے بھی ہیں جو نہ صرف انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا سکتے ہیں بلکہ ان کے سیاسی مستقبل کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں یعنی سابق وزیراعظم ہمیشہ کیلئے سیاسی میدان سے باہر بھی ہو سکتے ہیں۔

پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے اربوں ڈالر کے منصوبوں کی منظوری

وفاقی حکومت کی جانب سے معاشی استحکام اور ملک میں سرمایہ کاری لانے کیلئے بنائے گئے فورم "سپیشل انویسٹمنٹ فسیلی ٹیشن کونسل" نے اربوں ڈالرز کے ایسے 28 بڑے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے جن میں خلیجی ممالک کو سرمایہ کاری کی دعوت دی جائے گی جبکہ ان پراجیکٹس میں دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر اور بلوچستان میں ریکوڈک منصوبہ بھی شامل ہیں۔
error: