پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، ہنڈرڈ انڈکس 82 ہزار پوائنٹس کی نحد بھی عبور کرگیا، سٹاک ایکسچینج 1500 سو سے زائد پوائنٹس اضافہ کے ساتھ 82 ہزار پوائٹس کی سطح پر پہنچ چکا ہے۔
پاکستان نے آئی ایم ایف کی جانب سے عائد سخت شرائط پوری کر لی ہیں، انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کا ایگزیکٹو بورڈ 25 ستمبر کو پاکستان کے 7 ارب ڈالرز قرض کی درخواست کا جائزہ لے گا، یہ قرض معاشی استحکام اور زرمبادلہ ذخائر ذخائر میں اضافہ کے مقاصد پورے
پاکستانی حکومت نے پی آئی اے (پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز) کے 75 فیصد حصص فروخت کرنے کا فیصلہ کر لیا، خریدار کو آئندہ 3 سالوں کے دوران کم از کم 500 ملین امریکی ڈالرز کی سرمایہ کاری کرنا ہو گی، پی آئی اے کے 32 طیارے 12 ممالک کے 32 مقامات تک پرواز کرتے ہیں۔
موڈیز نے پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی صورتحال اور مستحکم ہوتی بیرونی مالیاتی پوزیشن کے پیش نظر پاکستان کی ریٹنگ کو مستحکم نقطہ نظر کے ساتھ سی اے اے 2 تک اپ گریڈ کر دیا ہے۔ موڈیز کے مطابق، پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ بھی نمایاں طور پر کم ہوگیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور نواز شریف کے اعلان کے مطابق عوام کو بجلی کے بلوں میں ریلیف ملنا شروع ہوگیا ہے جس کا مقصد عوام پر معاشی دباو کم کرنا ہے۔ اس ریلیف کے لیے پنجاب حکومت نے 45 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
چینی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی BYD نے پاکستان میں گاڑیاں بنانے کا پلانٹ قائم کرنے کا اعلان۔ کمپنی کراچی، لاہور، اور اسلام آباد میں فلیگ شپ اسٹورز بھی کھولے گی، جہاں ابتدائی طور پر تین ماڈلز فروخت کے لیے پیش کیے جائیں گے۔
عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ’’فچ‘‘ نے پاکستان کی اقتصادی صورتحال میں بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے ریٹنگ ’’سی سی سی‘‘ سے اپ گریڈ کر کے ’’سی سی سی پلس‘‘ کر دی۔ یہ پاکستان کے مالیاتی انتظام، بین الاقوامی حمایت اور معاشی استحکام کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں نیا ریکارڈ قائم ہو گیا، آج تاریخ میں پہلی بار 81 ہزار کی نفسیاتی حد بھی عبور ہو گئی، سٹاک ایکسچینج 12 سو سے زائد پوائنٹس اضافہ کے ساتھ 81 ہزار سے زائد پوائنٹس کی سطح پر پہنچ چکا ہے۔
Building on the 2023 Stand-by Arrangement, IMF staff and Pakistani authorities have reached a staff-level agreement on a 37-month Extended Fund Facility of about US$7 billion, aiming to cement macroeconomic stability, strengthen fiscal and monetary policy, broaden the tax base, improve SOE management, enhance competition, secure investment, enhance human capital, and expand social protection.