چین کی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی بی وائی ڈی کا پاکستان میں گاڑیاں بنانے کا پلانٹ لگانے کا اعلان

چینی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی BYD نے پاکستان میں گاڑیاں بنانے کا پلانٹ قائم کرنے کا اعلان۔ کمپنی کراچی، لاہور، اور اسلام آباد میں فلیگ شپ اسٹورز بھی کھولے گی، جہاں ابتدائی طور پر تین ماڈلز فروخت کے لیے پیش کیے جائیں گے۔

رائے دیں
A file photo is shown of a BYD Seal at car manufacturing line. — FILE/THE THURSDAY TIMES
A file photo is shown of a BYD Seal at car manufacturing line. — FILE/THE THURSDAY TIMES

کراچی (تھرسڈے ٹائمز) — چینی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی بڑی کمپنی بی وائی ڈی  نے پاکستان میں اپنے کاروباری منصوبے کے تحت کراچی میں گاڑیاں بنانے کا پلانٹ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام پاکستان کی آٹو انڈسٹری میں ایک بڑا اضافہ سمجھا جا رہا ہے، جہاں الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔

 بی وائی ڈی جس کا شمار دنیا کی بڑی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں میں ہوتا ہے، نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان میں اپنی موجودگی کو مضبوط بنانے کے لیے کراچی میں ایک جدید کار پلانٹ لگائے گی۔ اس منصوبے کے تحت کمپنی پاکستان میں تین ماڈلز کی فروخت کا بھی آغاز کرے گی، جن میں دو ایس یو وی اور ایک سیڈان شامل ہوگی۔

اس منصوبے کے تحت بی وائی ڈی نے پاکستان کی معروف یوٹیلیٹی کمپنی حب پاور کمپنی ہب کو کی ذیلی کمپنی میگا موٹرز کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔ بی وائی ڈی کے جنرل منیجر برائے ایشیا پیسفک، لیو شویلینگ کا کہنا ہے کہ پاکستانی مارکیٹ میں ہمارا داخلہ نہ صرف جدید گاڑیاں متعارف کرانے کے لیے ہے بلکہ ماحولیاتی ذمہ داری اور ٹیکنالوجیکل جدت کے وژن کو فروغ دینے کے لیے بھی ہے۔

یہ نیا پلانٹ 2026 تک کام شروع کر دے گا اور حبکو ملک کے بڑے شہروں، موٹرویز اور ہائی ویز پر فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز بھی قائم کرے گا، جس سے پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ضروری انفراسٹرکچر کی فراہمی ممکن ہوگی​​۔

 بی وائی ڈی کا پاکستان میں داخلہ ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ سمجھا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری میں نئی توانائی گاڑیوں کی فراہمی ممکن ہوگی اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے اہم اقدامات کیے جا سکیں گے۔∎

گفتگو

اس خبر پر رائے دی جا سکتی ہے۔ ہر تبصرہ شائع ہونے سے پہلے ایک ایڈیٹر پڑھتا ہے۔

ابھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ آپ پہلے ہوں۔

تھرسڈے ٹائمز شائع کرتا ہے Thursday Media International