پوری دنیا کو یہ واضح پیغام ہے کہ چین اور پاکستان کی دوستی ناقابلِ تسخیر اور اٹوٹ ہے، وزیراعظم شہباز شریف اور چینی قیادت کے مابین سی پیک کی اپ گریڈیشن پر اتفاق ہوا ہے، ہم دونوں ممالک کے مابین تعاون کو نئی جہتوں تک پہنچانے کے خواہاں ہیں۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں نیا ریکارڈ قائم ہو گیا، آج تاریخ میں پہلی بار 78 ہزار کی نفسیاتی حد بھی عبور ہو گئی، سٹاک ایکسچینج 18 سو سے زائد پوائنٹس کے اضافہ کے ساتھ 78 ہزار 500 سے زائد پوائنٹس کی سطح پر پہنچ چکا ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ پیش کیے جانے کے بعد پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 76 ہزار کی نفسیاتی حد عبور ہو گئی، آج ہنڈرڈ انڈیکس میں مجموعی طور پر 3 ہزار 410 پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہ ہوا۔
وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ پیش کیے جانے کے بعد پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 75 ہزار کی نفسیاتی حد عبور ہو گئی، آج ہنڈرڈ انڈیکس میں اب تک 3 ہزار سے زائد پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہ ہو چکا ہے۔
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں گریڈ 1 سے گریڈ 16 کے ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد جبکہ گریڈ 17 سے گریڈ 22 کے افسران کی تنخواہوں میں 22 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، ریٹائرڈ ملازمین کی پینشنز میں 22 فیصد اضافہ کی تجویز دی گئی ہے۔
پاکستان ایشیاء میں مہنگائی کے لحاظ سے تیز ترین کمی والا ملک بن گیا، مہنگائی مسلسل 5 ماہ سے کم ہو رہی ہے، پیٹرول کی قیمتیں ایک ماہ میں 7.1 فیصد کم ہوئیں، غذائی اشیاء (آٹا، چینی، سبزیاں) سَستی ہوئیں جبکہ روپے کی قیمت بھی مستحکم ہوئی ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 4 روپے 74پیسے اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 3 روپے 86 پیسے کمی کا فیصلہ، نئی قیمتوں کے مطابق پیٹرول 268 روپے 36 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل 270 روپے 22 پیسے فی لیٹر دستیاب ہو گا۔
پاکستانی روپیہ گزشتہ ایک سال کے دوران 3 اعشاریہ 1 فیصد بہتری کے ساتھ ایشیاء میں امریکی ڈالر کے مقابل بہترین کرنسی بن کر ابھرا ہے، اس کی وجوہات میں آر ڈی اے، ترسیلاتِ زر اور آئی ایم ایف، عالمی بینک و دوست ممالک سے معاشی تعاون اور قرضوں کا رول اوور ہونا شامل ہیں۔
مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں کا اقتدار میں واپس آنا ملکی معاشی استحکام اور پالیسیز کے تسلسل کیلئے خوش آئند ہے، کاروبار اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے جبکہ مہنگائی میں کمی واقع ہوئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرول، ڈیزل، مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی منظوری دی ہے۔ اس کمی کا مقصد عوام کو مالی راحت ریلیف فراہم کرنا اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔ اس فیصلے سے عوام کے لئے روزمرہ کے اخراجات میں کمی کی توقع کی جا رہی ہے۔