پاکستان کی تاریخ میں میں آئی ایم ایف کا پروگرام صرف ایک مرتبہ کامیابی سے مکمل ہوا جو میاں نواز شریف کی آخری حکومت میں بطور وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کیا تھا
چار برس کی پھیلائی گئی تباہی چند ہفتے میں حل نہیں ہوسکتی اس بات کو سب کو سمجھنا پڑیگا پاکستان میں آگے بڑھنے کی صلاحیت ہے یہاں کی معیشت ٹھیک ہوسکتی ہے لیکن اس سب کیلئے وقت درکار ہے۔
ڈالر کا ریٹ اس وقت مصنوعی ہے روپے پر اسوقت نفسیاتی دباو ہے اسکی اصل ویلیو 160/70 سے زیادہ نہیں اس پر کام ہورہا ہے اور ان شا اللہ اسکو جلد اسکی اصل قیمت پر لائینگے۔
آئی ایم ایف کے کہنے پر اپنی عوام پر مزید نہیں ڈالا جاسکتا ہمیں ان سے دوٹوک بات کرنا ہوگی پہلے بھی دو دفعہ ہم نے بات کر کے مسئلے کا حل نکالا تھا اب بھی ان شا اللہ نکالیں گے ان سے بات کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔
عمران نیازی اور انکے ساتھیوں کو وطیرہ ہے کہ ہٹلر کے پی آر گوئیبلز کیطرح جھوٹ کواتنا زیادہ اور پروفیشنلی بولا جائے کہ سب سچ لگنا شروع ہوجائے اور وہ یہی آجکل کررہے ہیں۔
پاکستانی حکومت کو درپیش سنگین مالیاتی بحرانوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، اسٹیٹ بینک کاحالیہ اقدام پاکستان کی مالی خودمختاری پر ایک بے حد غیر ضروری، سنگین اور کاری ضرب کے علاوہ اورکچھ نہیں ہے!