The Thursday Times’ Pakistani news section dives into the pulse of Pakistani politics, offering sharp analysis and timely updates on the decisions and debates shaping the nation’s future, from the corridors of power to grassroots movements.
اگلا نمبر پاکستان کا تاثر گمراہ کن ہے۔ آپریشن ضرب للحق افغان طالبان کی دہشت گرد سہولت کاری اور دہشت گرد سہولت کاروں کے خلاف جاری رہے گا۔ پاکستان اپنے دفاع اور علاقائی سفارت کاری پر پُرعزم ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی ہلاکت کے خلاف مشتعل احتجاجی مظاہرین نے کراچی میں امریکی قونصلیٹ پر حملہ کر دیا، فائرنگ کے باعث کم از کم 6 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہو گئے۔ مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ، ٹریفک پولیس چوکی کو بھی آگ لگا دی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کا متن آئین کے برعکس ہے، عدالت نے آئین کی تشریح کی بجائے اسے از سرِ نو تحریر کیا ہے، آج کا فیصلہ سوال گندم اور جواب چنا کے مصداق ہے، نظرِ ثانی میں جانے کا فیصلہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا جائے گا۔
تحریکِ انصاف مخصوص نشستوں کے حصول کی مستحق ہے، تحریکِ انصاف 15 روز میں مخصوص نشستوں کے افراد کی فہرست دے، سنی اتحاد کونسل نے الیکشن 2024 میں حصہ نہیں لیا، سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی مستحق نہیں۔
اسٹیبلشمنٹ کی حکومت ہے، شہباز شریف فیتے کاٹنے کیلئے ہے، اسٹیبلشمنٹ پاکستان کو بچانا چاہتی ہے تو فیئر الیکشن کی طرف جانا ہو گا، مجھے یوں ٹریٹ کیا جا رہا ہے جیسے میں نے پاکستان میں سب سے بڑی غداری کی ہے۔
تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں جب ہمیں گرفتار کیا گیا اور جیلوں میں قید کیا گیا تو اسد قیصر گُھگو بن کر سپیکر کی کرسی پر بیٹھا رہا، اسد قیصر نے بطور سپیکر پارلیمنٹ کی جو توہین کی اس پر یہ ایوان آج بھی شرمندہ ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ٹیکسلا اور سندر لیبر کالونیوں میں مزدوروں کے لیے 1200 سے زائد مفت فلیٹس دینے کا اعلان کردیا۔ اجلاس میں محکمہ لیبر کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور 6 ارب روپے کی واجبات کی ادائیگی کا حکم دیا گیا جو پچھلی حکومت میں ادا نہیں کیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ، خواتین مزدوروں کے لیے ہاسٹلز اور مفت رہائش کی منظوری بھی دی گئی۔
شہزاد اکبر نے کابینہ کو بتایا کہ پاکستان سے غیر قانونی طور پر باہر بھجوائی گئی بڑی رقم برطانیہ میں پکڑی گئی اور واپس آ رہی ہے، رقم کے حوالہ سے کاغذات بند لفافہ میں پیش کیے گئے، اضافی ایجنڈے پر مجھ سمیت کابینہ کے دیگر اراکین نے اعتراض کیا۔ پرویز خٹک
بجلی کے 200 یونٹس استعمال کرنے والے اڑھائی کروڑ صارفین کیلئے 3 ماہ کے بجلی کے بلوں میں 4 سے 7 روپے فی یونٹ بجلی سستی کی جا رہی ہے جس کیلئے 50 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو ڈویلپمنٹ فنڈز سے نکالے جا رہے ہیں۔
آپ کے لاجک کے مطابق آپ کو صفر مخصوص نشستیں ملنی چاہئیں، الیکشن 2018 کی بات کریں گے تو پورا الیکشن 2018 کھولنا ہو گا، آپ کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتا، کیا 2018 کے انتخابات درست تھے؟
عمران خان نے کہہ دیا کہ عدالتوں، آئین اور اداروں پر اعتماد نہیں تو ہم انصاف اور حق لیکر دکھائیں گے اور بتائیں گے آزادی کیا ہوتی ہے۔ عمران خان کے خلاف گواہی دینے والا خیبرپختونخواہ میں نہیں رہ سکے گا، ایک ایک دن کا حساب لیں گے، تمہارا وہ حشر کریں گے کہ نسلیں یاد رکھیں گی۔
سینٹ کے اراکین کی تنخواہ ٹیکس کٹوتی کے بعد 1 لاکھ 70 ہزار روپے جبکہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہ ٹیکس کٹوتی کے بعد 10 لاکھ روپے سے کم نہیں بنتی۔ پارلیمان کو آئین کے تحت قانون سازی کا حق حاصل ہے اور اس حق کو کسی اور ادارے کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔
میڈیا کا احترام ہے، لیکن بغیر ثبوت کے کسی کی عزت اچھالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ہتک عزت قانون کے تحت، اگر الزام ثابت نہ ہو اور بدنیتی سے لگایا گیا ہو، تو الزام لگانے والے کو سزا ملنی چاہیے۔ جرم کی تصدیق ہونے پر، مجرم چاہے کسی بھی مذہب سے ہو، اسے سزا ملنی چاہیے۔ توہین مذہب کے الزامات ذاتی حساب چکانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جو غلط ہے۔ بغیر ثبوت الزام لگانا اور قانون کو ہاتھ میں لینا بڑا جرم ہے۔
افغانستان کی زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ ریاستی دہشتگردی کی کھل کر مذمت کرنا ہو گی، فلسطین پر جاری اسرائیلی مظالم کا سلسلہ بند اور فلسطینیوں کو ان کا حقِ آزادی ملنا چاہیے، پاکستان القدس دارالحکومت کے ساتھ آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ کرتا ہے۔