The Thursday Times’ Pakistani news section dives into the pulse of Pakistani politics, offering sharp analysis and timely updates on the decisions and debates shaping the nation’s future, from the corridors of power to grassroots movements.
حذّر وزير الخارجية الباكستاني إسحاق دار نظيره الإيراني من شنّ أي هجمات على السعودية، مشيراً في ذلك إلى اتفاق الدفاع المشترك بين باكستان والسعودية. وفي وقتٍ سابق، أعرب رئيس الوزراء شهباز شريف خلال اتصال هاتفي مع ولي العهد السعودي عن تضامنٍ كامل مع المملكة.
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت پارلیمانی جماعتوں کے راہنماؤں و نمائندوں کا اجلاس، دفترِ خارجہ حکام نے ایران اسرائیل تنازعہ کے بعد ملکی فارن پالیسی پر بریفنگ دی۔ شرکاء کو خلیجی و عرب ممالک پر ایرانی حملوں کے بعد پاکستانی سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا گیا۔
9 مئی کا واقعہ ایک دن میں رونما نہیں ہوا بلکہ عمران خان نے گرفتاری سے بچنے کیلئے کارکنان کی ذہن سازی کی اور انہیں ہیومن شیلڈ کے طور پر استعمال کیا جبکہ جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد اور زمان پارک میں جو کچھ ہوا وہ اسی ذہن سازی کا نتیجہ تھا۔
آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے تحریکِ انصاف کے وکلاء کے اعتراض کے بعد سائفر کیس کی سماعت 9 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
سویلینز کو ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ فوج کسی بھی صورت میں اپنے سابق چیف پر کوئی سمجھوتا نہیں کرتی، سویلینز بار بار ایک ہی غلطی دوہراتے ہیں، سویلینز کو یہ بات اب سمجھ جانی چاہیے کہ فوج اپنے سابق سربراہ پر کسی بھی قسم کی تنقید برداشت نہیں کرتی۔
نواز شریف پاکستان کے زخموں پر مرہم ہیں، 21 اکتوبر کو کسی فردِ واحد کی واپسی نہیں بلکہ ملک میں امید کی واپسی ہے، ترقی و خوشحالی کی واپسی ہے، امن اور روزگار کی واپسی ہے، سستی بجلی اور سستی گیس کی واپسی ہے۔
سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو کی وطن واپسی پر جن دہشتگرد عناصر کی جانب سے ایک بڑا حملہ کیا گیا تھا، انھی کے متعلق یہ اطلاعات ہیں کہ وہ اب مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
ہنستے بستے پاکستان کو سازش کے تحت تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا اور کھلنڈروں کے ٹولے کو ملک پر مسلط کر دیا گیا، جب تک تمام سازشی کردار کیفرِ کردار تک نہیں پہنچائے جائیں گے تب تک پاکستان آگے نہیں بڑھ سکے گا۔
نواز شریف نے 9 سالوں میں پاکستان کی اتنی خدمت کی ہے کہ اگر انہیں نکال دیں تو پیچھے کھنڈرات کے علاوہ کچھ باقی نہیں رہتا، آپ سب پاکستان بنانے والی جماعت کے وارث ہیں۔
کروڑوں عوام کے وزیراعظم کو چار ججز نے گھر بھیج دیا، اس کے پیچھے جنرل (ر) باجوہ اور فیض حمید تھے، آلہ کار ثاقب نثار اور آصف کھوسہ تھے، ملک کو اس حال تک پہنچانے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانا ہو گا۔ نواز شریف کا پارٹی اجلاس سے خطاب
مجھے نہیں معلوم کہ الیکشن کب ہوں گے، چیف الیکشن کمشنر کو بھی نہیں پتہ کہ الیکشن کب ہوں گے لیکن صرف ایک جماعت کو پہلے سے پتہ ہے کہ الیکشن فروری میں ہوں گے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی کا مظفر گڑھ میں جلسہ سے خطاب
مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف 21 اکتوبر کو وطن واپس پہنچیں گے، لاہور میں میاں نواز شریف کا شاندار استقبال کیا جائے گا جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں میاں نواز شریف کیلئے ریلیوں کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔