The Thursday Times’ Pakistani news section dives into the pulse of Pakistani politics, offering sharp analysis and timely updates on the decisions and debates shaping the nation’s future, from the corridors of power to grassroots movements.
Interior Minister Mohsin Naqvi and his Qatari counterpart agreed to deepen security cooperation in Doha this week, as Pakistan and Qatar push behind the scenes to salvage the Islamabad MoU and bring Washington and Tehran back to the table.
Kuwait's Amir has formally ratified the defence cooperation agreement with Pakistan by decree, published in the official gazette. The agreement covers training, logistics, military intelligence, defence industries and a joint military committee.
اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں پیشی کے دوران چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان کو احاطہ عدالت سے گرفتار کر لیا گیا۔ عمران خان کو نیب کے حکم پر رینجرز نے القادر ٹرست کیس میں گرفتار کیا ہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو اپنے کیس کی شنوائی کیلئے درجنوں خطوط لکھے کہ میرے کیس کا فیصلہ جلد کردیا جائے لیکن آج تک شنوائی نہیں ہوئی۔ میں اب اللہ تعالی کی طرف سےہی انصاف کا طلبگار ہوں۔
مریم نواز، صحافی حامد میر، ابصار عالم اور صحافی اسد طور ان لوگوں میں شامل ہیں جو عمران خان اور جنرل (ر) فیض حمید کی جانب سے قاتلانہ سازشوں میں محفوظ رہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے آئین میں اقلیتوں کے حقوق پر منعقد کی گئی کانفرنس میں شرکت کی جہاں ایک صحافی نے ان سے آڈیو لیکس کے متعلق سوال پوچھا تو چیف جسٹس نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
تحریکِ انصاف کی جانب سے اظہارِ یک جہتی فی الوقت چیف جسٹس اور دیگر ہم خیال ججز کی ضرورت ہے کیونکہ جب ججز اپنی قانونی ساکھ کھو بیٹھتے ہیں تو انہیں سیاسی بیساکھیوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہم خیال ججز اور تحریکِ انصاف کا تعلق اب مکمل طور پر بےنقاب ہو چکا ہے لہذا ان دونوں کو اب ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت ہے۔ آئین کے اندر چیف جسٹس کیلئے ایکسٹینشن کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
ثاقب نثار کی شخصیت ایسی ہے کہ وہ بغیر مفاد کسی بھی قسم کی عمل میں شریک نہیں ہوتے اور ان کا سارا عدالتی کیریئر ایسا ہی ہے۔ اس وقت جو آئینی غیر آئینی، قانونی یا غیر قانونی جو سرگرمیاں جاری ہیں ان سب کا مقصد وہی وعدہ ہے جو عمران خان کی جانب سے اُن سے کیا گیا ہے۔
کیا اس وقت کے آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ سے پوچھا جائے گا کہ ان کی سرپرستی میں اور انھی کی ناک کے نیچے جنرل (ر) فیض حمید کیسے ان جرائم میں ملوث رہا؟
رکن ممالک کو دہشتگردی سے نمٹنے اور اس کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کیلئے مل کر کام کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر ہمارے لوگوں کا تحفظ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے لہذا ہمیں سفارتی پوائنٹ سکورنگ کیلئے دہشتگردی کو حربے کے طور پر استعمال کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
میری جنرل باجوہ سے دو ملاقاتیں ہوئیں جن میں جنرل باجوہ نے کہا حکومتیں توڑ دو میں الیکشن کروا دونگا۔ جنرل باجوہ نے ہمیں لال بتی کے پیچھے لگا دیا اور ہم نے اس کی بات پر یقین کر لیا۔
وزرائے اعظم کی گردنیں لینے کی روایت ختم ہونی چاہیے۔ ہمیں اپنے وزیراعظم کا تحفظ کرنا چاہیے چاہے وہ کسی بھی پارٹی کا ہو۔ وہ وقت چلا گیا جب وزیراعظم کو بلی چڑھایا جاتا تھا۔ اب پارلیمنٹ ہتھیار نہیں ڈالے گی، اب پارلیمنٹ اپنے وزیراعظم کی گردن نہیں اڑانے دے گی۔