موجودہ حکومت مجھے قتل کروانا چاہتی ہے، عمران خان
سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ ان جان کو موجودہ حکومت سے خطرہ ہے۔ یہ بات انہوں نے برطانوی آئی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہی۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ ان جان کو موجودہ حکومت سے خطرہ ہے۔ یہ بات انہوں نے برطانوی آئی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہی۔

چین کا 58 ارب ڈالر کا جدید ترین ریلوے نظام کا منصوبہ پاکستانی بندرگاہ گوادر کو چینی شہر کاشغر کیساتھ جوڑ دے گا جس سے نہ صرف تجارت کو فروغ حاصل ہوگا بلکہ یہ خطے کی جغرافیائی سیاست کو بھی نئی شکل دے دے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کوئی پنچایت نہیں اس کا کام ثالثی کروانا نہیں انکا کام آئین و قانون کے تحت فیصلے دینا ہے۔

یہ فوج قومی فوج ہے ہمارے لیے تمام سیاسی جماعتیں اور سیاسی لیڈر قابل احترام ہیں افواج پاکستان کا کسی خاص سیاسی جماعت اور سوچ کی طرف جھکاو نہیں ہے۔

جنرل باجوہ نے مجھے کہا کہ اگر آپ الیکشن چاہتے ہیں تو اپنی حکومتیں گرادیں تو ہم نے اپنی حکومتیں ختم کردیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جب میری حکومت ختم ہورہی تھی تو میں نے جنرل باجوہ سے کہا کہ ہماری حکومت نہ گراو ہم تمہیں ایکسٹیشن دے دیے ہیں۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے قبل از انتخابات کی خواہش میں پاکستان کو ایک آئینی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ اس معاملہ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال مرکزی کردار بن چکے ہیں جنہوں نے عمران خان کی جانب سے دو صوبوں کی اسمبلیوں کو تحلیل کیے جانے کے بعد ازخود نوٹس لے کر انتخابات کا حکم جاری کیا۔

سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد میاں محمد نواز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے شاہی محل میں ملاقات ہوئی جس میں مسلم لیگ نواز کی چیف آرگنائزر اور سینئر نائب صدر محترمہ مریم نواز شریف بھی شریک تھییں۔

آئین میں سوموٹو کا لفظ استعمال نہیں نہیں ہوا، یہ شق سپریم کورٹ کو شرائط کے ساتھ بنیادی حقوق کے نفاذ کیلئے کوئی کام کرنے کا اختیار دیتی ہے، یہ شق دراصل ان مظلوموں کیلئے رکھی گئی تھی جو عدالت تو دور وکیل تک نہیں پہنچ سکتے، اس شق کو کسی ایک فرد کو فائدہ پہنچانے کیلئے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ میری رائے کے مطابق اس شق کا اختیار چیف جسٹس نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے پاس ہے۔

نئے پاکستان کے نعرے کے ساتھ آنے والے عمران خان کے دور حکومت میں پاکستان کو سیاسی جبر،خارجہ تعلقات میں سرد مہری، سرمایہ کاری میں کمی، عدم استحکام اور دیوالیہ پن کا سامنا رہا۔ اقتدار سے عدم اعتماد کے ذریعہ نکالے جانے کے بعد عمران خان نے ملک میں افراتفری برپا رکھی جس سے بحران کا شکار ملک مزید غیر مستحکم ہورہا ہے۔

برطانوی جریدے "دی ٹیلی گراف" میں 21 اکتوبر 2007 کو عمران خان نے بینظیر بھٹو کو خود کارساز بم دھماکوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے لکھا کہ یہ سانحہ ناگزیر تھا اور اس کا سب کو انتظار تھا۔
