میں نے کبھی پاکستان کا قانون نہیں توڑا، عمران خان
جسطرح اسلام آباد میں ہوا تو اسطرح حالات کسی کے کنٹرول میں نہیں رہینگے اور پھر آپ سری لنکا کو بھول جائیں گے یہ بات اب انقلاب ایران کی طرف چلی جائیگی۔
جسطرح اسلام آباد میں ہوا تو اسطرح حالات کسی کے کنٹرول میں نہیں رہینگے اور پھر آپ سری لنکا کو بھول جائیں گے یہ بات اب انقلاب ایران کی طرف چلی جائیگی۔

جسٹس کھوسہ اور پانامہ بنچ جس نے نواز شریف کو سسلین مافیا ڈان اور گاڈ فادر کے ناموں سے پکارا امید ہے انکو آج پتہ چل گیا ہوگا کہ اصل میں سسلین مافیا ڈان اور گاڈ فادر کون ہوتا ہے۔

وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کا ریکارڈ کابینہ ڈویژن کی سرکاری ویب سائٹ پر اپلوڈ کردیا ہے۔توشہ خانہ کا 2002 سے 2023 کا 466 صفحات پر مشتمل ریکارڈ اپلوڈ کیا گیا،توشہ خانہ سے تحائف وصول کرنے والوں میں سابق صدور،سابق وزرا اعظم،وفاقی وزرا اور سرکاری افسران کے نام شامل ہیں جن میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز مشرف، سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، سابق صدر آصف زرداری، صدر ممنون حسین کے نام شامل ہیں۔

مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے کا کہنا ہے کہ عمران خان پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا فتنہ فساد اور انتشار ہے جو نہ خود کوئی کام کرتا ہے نہ ہی کسی کو کام کرنے دیتا ہے انہوں نے یہ بات فیصل آباد میں پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

نواز شریف نے جنرل باجوہ اور فیض حمید کو اسوقت للکارا جب وہ طاقت کے نشے میں چور تھے کوئی نام لینے کی جرات نہیں کرتا تھا جبکہ عمران خان اسوقت للکار رہا ہے جب انکی طاقت ختم ہوچکی ہے جو ایک بزدل کی نشانی ہے۔

عمران خان کیخلاف ٹھوس ثبوت موجود ہیں یہ جیل کے خوف سے چھپ کر گھر کے اندر بیٹھے ہوئے ہیں اور لوگوں کی بہن بیٹیوں کو باہر اپنی حفاظت کیلئے کھڑا کیا ہوا ہے یہ ہے فرق ایک لیڈر اور گیدڑ میں۔

شیر بے گناہ بھی ہو تو بیٹی کا ہاتھ تھام کر لندن سے پاکستان آکر گرفتاری دیتا ہے لیکن گیڈر چور ہو تو گرفتاری سے ڈر کے دوسروں کی بیٹیوں کو ڈھال بنا کر چھپ جاتا ہے۔

سابق وزیراعلی پنجاب پرویز الہی کے دست راست اور انکے سابق پرنسپل سیکرٹری محمد خان بھٹی پرویز الہی اور انکے بیٹے مونث الہی کیخلاف وعدہ معاف گواہ بننے کیلئے تیار ہوگئے۔

پاکستان نے حالیہ وقت میں ساڑھے پانچ ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں کی ہیں اور بیرونی ادائیگیوں کے باوجود ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر اب بڑھنے کی جانب الحمد للہ گامزن ہیں۔

سنا تھا کہ ٹوٹی ٹانگ جوڑنے کیلئے چڑھا ہوا پلاسٹر اتارنے کیلئے ڈاکٹر کا فیصلہ چاہیے ہوتا ہے لیکن آج پتہ چلا اسکے لیے ڈاکٹر کا نہیں بلکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ چاہیے ہوتا ہے جونہی فیصلہ آیا اسکی ٹانگ کا پلاسٹر اتر گیا۔
