اردو اردو

سیاسی پریشر ککر
بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ عمران خان کی ان رکیک حرکتوں کے پیچھے فارن فنڈنگ کیس کا خوف ہے۔ ابراج گروپ کی رقموں کا حساب ہے۔ اس کیس کا جیسے ہی فیصلہ آئے گا لوگوں کو بات سمجھ آ جائے گی کہ کس طرح ایک کرپٹ شخص نے ملکی سلامتی کو داو پر لگا کر ذاتی فوائد حاصل کیئے۔

آئین و قانون کی سمت پیش قدمی
ہوئے ادارے کا ترجمان ذمہ دارانہ سنجیدگی کے ساتھ بتاتا ہے کہ اس ملک میں اب کوئی مارشل لاء نہیں لگے گا بلکہ یہاں تک کھل کر بتا دیتا ھے کہ کوئی ایکسٹینشن زیر غور نہیں اور اعلی عہدے سے ریٹائرمنٹ بھی اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوگی۔

وزیر اعظم شہباز شریف سے کون کون ناخوش ہے؟
شہباز سپیڈ نے وفاق میں اپنی جو رفتار دکھانا شروع کر دی ہے وہ لوگوں کے لیئے حیرت کا سبب ہے ۔ لوگوں کو اس طرح کے وزیر اعظم کی عادت ہی نہیں رہی۔ کیونکہ ابھی تک شہاز شریف نے نہ کسی خطاب میں عمران خان کو گالیاں دی ہیں نہ ان پر غداری کا الزام لگایا ہے۔

پنجاب اور ایسٹبلشمنٹ: حقائق یہ ہیں
گو کہ ولی خان نے بارہا کہا تھا کہ جس دن پنجاب ایسٹبلشمنٹ کے مقابل آیا تو اسی دن سے پاکستان صحیح ٹریک پر آنا شروع ہو جائے گا لیکن یہ اشارہ پنجابی لیڈر شپ کی طرف تھا کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ولی خان جیسے جہاندیدہ سیاستدان پنجاب کے سیاسی مزاج اور تاریخی حقائق سے واقفیت نہ رکھتا۔

آپ بہت ”خطرناک“ ہیں
آپ واقعی بہت ”خطرناک“ ہیں اسی لیے آگے بڑھتے ملک کو کہیں سے اشارہ ابرو پاکر ڈی چوک میں اچانک نمودار ہوکر ریورس گئیر لگا دیا۔

مشیروں کے اجلاس
چاہے مہنگائی بڑھےکشمیرچھن جائے ڈالر اڑان بھرلے یا مری سانحہ ہوجائے ہر چیز کے بعد عمران خان چرب زبان مشیران مدح و زم کا غول اکٹھا کر لیتا ہے۔

تشویشناک معاشی صورتحال اور بدترین مہنگائی
معاشی حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں جسکی وجہ سے مہنگائی سے پسے کروڑوں لوگوں کیلئے اپنے پیاروں کو دو وقت کی روٹی فراہم کرنا ناممکن ہوجائیگا۔


