spot_img

Columns

Columns

News

Chery launches electric hatchback in Pakistan at Rs 5.55 million

Chery has launched its all-electric hatchback in Pakistan at Rs5,554,000, with a 42.7 kWh battery, a claimed 400 km NEDC range and a home charger worth Rs100,000 included in the introductory offer.

مکہ مکرمہ کے قریب حوثی ڈرون تباہ، سعودی عرب نے مقدس شہر کی سلامتی کو ”ریڈ لائن“ قرار دے دیا

سعودی فضائی دفاع نے مکہ مکرمہ کے جنوب میں حوثی باغیوں کا ڈرون مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کر دیا۔ عسکری اتحاد کے مطابق یہ مکہ پر حملے کی حوثیوں کی دوسری کوشش تھی۔ مکہ اور مقدس مقامات کی سلامتی کو ”ریڈ لائن“ قرار دے دیا گیا۔

Saudi Arabia Shoots Down Houthi Drone Near Makkah, Calls Holy City a ‘Red Line’

RIYADH (The Thursday Times) — Saudi air defences intercepted...

Imran Khan’s ex-wife Jemima Goldsmith marries Cameron O’Reilly

Jemima Goldsmith, Imran Khan's ex-wife, has married Irish-Australian financier Cameron O'Reilly in a private ceremony, more than two decades after her divorce from the former Pakistani PM.

Malaysian PM rejects India’s push to brand Pakistan a terror sponsor

Malaysian PM Anwar Ibrahim refused to be drawn into India's attempt to brand Pakistan a state sponsor of terrorism, telling an Indian anchor directly that his own intelligence found no evidence to support the claim.
Opinionمشیروں کے اجلاس
spot_img

مشیروں کے اجلاس

Hammad Hassan
Hammad Hassan
Hammad Hassan has been a columnist for over twenty years, and currently writes for Jang.
spot_img

پٹرول کی قیمتیں جیسے ہی بڑھ جائیں اور مہنگائی کا خوفناک طوفان پورے ملک کو لپیٹ میں لے لے تو وزارت پٹرولیئم اوگرا اور ڈھنگ کے معاشی ماہرین کو بلا کر مسئلے پر قابو پانے اور کوئی ترکیب نکالنے کی بجائے شہباز گل ٹائپ میڈیائی مشیران کی فوج ظفر موج کا اجلاس بلایا جاتا ہے

بجلی عوام پر بجلی بن کر گرے اور چار اور پانچ روپے فی یونٹ اضافہ ہو جائے تو وزارت پانی و بجلی واپڈا اور دوسرے متعلقہ ماہرین سے مشاورت کرنے کی بجائے ٹاک شوز ماہرین یعنی مشیروں کا اجلاس بلایا جاتا ہے

کشمیر سے اپنی نالائقی لاپرواہی اور حواس باختگی کے سبب ہاتھ دھونے پڑے تو فوجی کمانڈروں سفارت کاروں اور خارجہ امور کے ماہرین کے ساتھ بیٹھ کر جوابی وار کرنے کی پالیسی بنانے کی بجائے پھر سے شہباز گل اینڈ کو یعنی مشیران مدح و زم کا غول اکٹھا کیا جاتا ہے

نواز شریف تقریر کرے اسٹبلشمنٹ کے ساتھ بعض معاملات پر گفت و شنید اور ڈیولپمنٹ کی خبریں آئیں کہیں سے اسے عدالتی فیصلے پر ریلیف ملے سیاسی رفقاء اور دوسری جماعتوں کے رہنماؤں سے رابطے کرے یا ملک واپس آنے کا اشارہ دے تو نواز شریف کا سیاسی میدان میں مقابلہ کرنے کے لئے تحریک انصاف کی تنظیم پر توجہ دینے اپنے سیاسی رفقاء سے مشاورت کرنے کارکنوں کو موٹی ویٹ کرنے اور اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی بجائے “مشیروں ” کو اکٹھا کر لیا جاتا ہے

ڈالر دو سو کی طرف محو پرواز ہو سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوبنے لگیں اور بینکنگ سیکٹر تباہی کی جانب گامزن ہو لیکن بہترین معاشی ماہرین کے ساتھ مشاورت نئے مواقع کی تلاش امکانات پر غور اور عوام کو ریلیف دینے کے منصوبوں کی تشکیل کی بجائے پھر سے۔۔۔مشیروں کا اجلاس بلا لیا جاتا ہے

علیمہ خان کا معاملہ ہو پنڈی رنگ روڈ سکینڈل میں زلفی بخاری کا ملوث ہونا ہو آٹا چینی سکینڈل ہو نتھیا گلی میں اپنے ڈونر کو ہوٹل کےلئے زمین کی الاٹمنٹ ہو وزراء پر کرپشن کے الزامات ہوں یا براڈ شیٹ کا معاملہ ہو تو فوری طور پر کوئی شفاف انکوائری کرانے اور مجرموں کو سزا دلوانے کی بجائے پھر سے “نشریاتی “مشیروں کا اجلاس بلا لیا جاتا ہے

جسٹس فائز عیسی اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی اپنی ایمانداری اور منصفی کے سبب شرمناک ریاستی جبر کا شکار ہوں تو ان کی مدد کرنے اور عدالتی نظام کو مظبوط کرنے کی بجائے مشیروں کا اجلاس بلا کر دونوں معزز ججوں کا میڈیا ٹرائل شروع کر دیتے ہیں

چیئرمین نیب جاوید اقبال کا بد نام زمانہ ویڈیو سامنے آئے تو اسے برطرف کرنے اور انکوائری کرنے کی بجائے پھر سے مشیروں کا اجلاس اور جاوید اقبال کو سر سے پاوں تک دھونے اور صاف شفاف بنانے کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے

صحافیوں پر حملے ہوں تو آزادی صحافت کے لئے ٹھوس اقدامات اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کی بجائے مشیروں کا اجلاس اور پھر مظلوموں کے خلاف بد ترین بہتان طرازی

ریلوے حادثات ہوں سانحہ ساہیوال ہو دہشت گردی کے واقعات ہوں یا مری سانحہ
اصل مجرموں کے خلاف ایکشن لینے کی بجائے حسب معمول مشیروں کا اجلاس اور کمزور ملازمین کو قربانی کا بکرا بنانے کی ڈرامہ بازی کی جاتی ہے

لیکن اہم سوال یہ ہے کہ درپیش معاملات سے متعلق لوگوں سے مشاورت کرنے کی بجائے آخر ان مشیروں سے ہی وزیراعظم کیوں ہر روز اور ہر معاملے پر اجلاس اور میٹنگ کرتے ہیں جن کا سرے سے یہ کام ہی نہیں

در اصل مشیرو کے ساتھ “اجلاس ” اور انہیں دیئے گئے “ہدایات ” کے بعد یہ لوگ گالم گلوچ الزامات اور بہتان طرازیوں سے لیس میڈیا کا رخ کر کے احمقوں کو مزید احمق بنانے لگ جاتے ہیں

یہ سمندر میں گیس کی دریافت یہ مرغیاں یہ انڈے یہ کٹے یہ کسی کو نہیں چھوڑوں گا یہ پچھلی حکومت کا کیا دھرا یہ مافیا یہ چور یہ ڈاکو یہ سب کچھ پراپیگنڈے کی اس ڈرامے بازی کے اجزا ہیں جس پر عمران خان کی فتنہ انگیز سیاست کھڑی ہے اور یہی وجہ ہے کہ پورے ملک سے چن چن کر ایسے لوگوں کو مشیروں کے منصب دیئے گئے ہیں جو صبح و شام ایک ڈھٹائی کے ساتھ حقائق کو جھٹلانے اور جھوٹ بولنے میں کوئی عار نہ سمجھیں

عموما دیکھا گیا کہ ادہر یہ مشیران ٹی وی پروگراموں میں عمران خان حکومت کی “کامیابیوں اور عوام کو ملنے والی ریلیف” کی “خوشخبریوں” کا پٹارہ کھول دیتے ہیں اور ادھر عوام پر ایک بار پھر پٹرول اور بجلی بم گرانے کی اطلاع ٹی وی چینلوں پر پہنچ جاتی ہے

اب چونکہ یہ منظر نامہ کھل کر اور واضح طور پر سامنے آ گیا ہے کہ عمران خان کی حکومت سیاسی معاشی سفارتی اور انتظامی حوالے سے ہر محاذ پر بری طرح پسپا ہو چکی ہے جبکہ پرویز مشرف سے عاصم باجوہ اور زلفی بخاری سے فیصل واوڈا تک ہر ناجائز اور خلاف قانون عوامل اور افراد کی حمایت کرنے والا بھی وہی شخص نکلا جس نے دو کی بجائے ایک پاکستان کا نعرہ بھی لگایا تھا

لیکن وہی شخص( عمران خان) یہ بات بھی بخوبی جانتا ہے کہ شدید ناکامیوں اور بے اصولیوں کے باوجود بھی اس ملک کا ایک جذباتی اور حقائق سے بے خبر طبقہ میری حمایت میں اب بھی کھڑا ہے اور صرف پروپیگنڈے کے زور پر بھی ان کی گمراہ آئیڈیل ازم کا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے

یہی وجہ ہے کہ میڈیا سے متعلق مشیروں کا ایک غول اکٹھا کیا گیا ہے جنہیں سوشل میڈیا کے ٹرولز کی کمک بھی حاصل ہے لیکن المیہ یہ نہیں کہ یہی لوگ دن رات الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ بنانے میں لگے رہتے ہیں بلکہ المیہ یہ ہے کہ ایک جذباتی طبقہ اپنی تباہ کن آئیڈیل سوچ اور خوفناک بے خبری کے ساتھ اس پر یقین بھی کر لیتے ہیں

انہی احمقانہ تیقن چرب زبان مشیروں اور بے سر و پا پروپیگنڈے ہی میں در اصل عمران خان کی سیاسی بقاء پوشیدہ ہے تبھی تو فواد چودھری اور شہباز گل جیسے لوگ اس ٹیم کے اوپننگ بیٹسمین ہیں جس کی تشکیل کی مہارت کا دعوی عمران خان ہمیشہ کرتے رہے

ماننا پڑے گا کہ خان صاحب کی کارکردگی نہ سہی لیکن کم از کم پروپیگنڈے کے ایسے تکنیک تو وضع کر گیا کہ جرمنی (مغرب) کا ڈاکٹر گوئبلز بھی طفل مکتب نظر آنے لگا ہے

عمران خان ٹھیک ہی تو کہتا ھے کہ مغرب کو مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا
لیکن کمال کی بات یہ ہے کہ اس ملک کی نا سمجھ اور جذباتی طبقے کو بھی عمران خان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا اسی لئے تو شہباز گل جیسے مشیروں کے ساتھ روز روز اور ہر معاملے پر اجلاس ہوتے ہیں

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.